سیاست دان بوڑھے اور ووٹر نوجوان ہیں

تاریخی و روایتی طور پر بلا تفریق مشرق و مغرب ، انتقال قیادت کا موروثی نظام کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ ہر مقتدر کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ انتقال قیادت اپنی اگلی نسل میں یعنی بیٹا یا بیٹی کو سونپی جائے۔ تاہم مغرب نے وقت کے ساتھ ساتھ یہ اصول بدلے اور وہاں قیادت کا موقع منتخب نمائندوں کو ہی ملتا ریا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاہ فام باراک اوبامہ اور تارک وطن کملا ہیرس بھی اقتدار کے اعلی
ترین مقام تک پہنچے ہیں۔

ملک پاکستان میں حالیہ سیاسی قیادت اس آخری پیڑی کی باقیات ہیں جو سن اسی اور نوے کی دہائی میں سٹوڈنٹس یونینز کے ذریعے سیاست میں داخل ہوئی اور پھر مختلف سیاسی جماعتوں کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔ سیاسی جماعتوں کی اوپر کی قیادت کو یہی شخصیات سیاسی و
نظریاتی طور پر مضبوط کرتی رہی ہیں ۔

پاکستان میں چاہے سیاسی جماعتیں ہوں یا مذہبی ، قیادت اپنے بیٹوں یا بیٹیوں کو ہی منتقل ہوتی رہی ہے۔ یا اس کی کوشش ضرور کی گئی ہے.اس وقت بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین پر نظر ڈالی جائے تو تمام ہی اپنی زندگی کی ساتویں دہائی کے آس پاس یا کچھ اوپر ہو چکے ہیں ۔

مسلم لیگ نواز کے سربراہان میں نواز شریف کی عمر 72 سال ، شہباز شریف 70 سال ، خواجہ آصف 72 سال ، راجہ ظفر الحق 86 سال ہے ۔ تحریک انصاف میں عمران خان 69، عارف علوی 72، شفقت محمود 72 سال اور شاہ محمود قریشی 65 سال کے ہیں ۔ جمعیت علماٗ اسلام کے مولانا فضل الرحمان 68 سال کے ہیں ۔

اے این پی کے اسفندیار ولی اس وقت 72 سال کے ہیں ۔ پیپلز پارٹی میں آصف علی ذرداری 66 سال، یوسف رضا گیلانی، سید خورشید شاہ اور نیر حسین بخاری 69 کے ہیں۔ مذہبی جماعتوں میں ڈاکٹر طاہر القادری 71 سال، سراج الحق 58، لیاقت بلوچ 69 سال کے ہیں ۔ کلعدم الطاف حسین 68 اور فاروق ستار 62 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ محمود خان اچکزئی 73 سال ،آفتاب شیرپاوٗ 77 سال اور اعجاز الحق 70 سال کے ہیں ۔

اس صورتحال میں اگلے پانچ سال بہت اہم ہیں ۔ کیونکہ ان پانچ سالوں میں قیادت اگلی نسل کو منتقل ہونی ہے ۔ پیپلز پارٹی پہلے ہی قیادت بلاول کو سونپ چکی ہے ۔ اسی طرح ن لیگ میں عملی طور پر مریم نواز ہی متحرک ہیں۔ دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں میں بھی یہی ٹرینڈ نظر آ رہا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان سیاسی شخصیات کی اولاد سیاسی ومذہبی حوالے سے کتنی باشعور ہے؟ کیا ضروری ہے کہ انتقال قیادت صرف اولاد کے حصے میں ہی آئے؟

پاکستانی قوم بلعموم شخصیت پرست ہے ۔ ان کو ایسی صورتوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کی ‘’پوجا’’ کی جا سکے ۔ کیا سیاسی جماعتوں کے پاس ایسے متبادل موجود ہیں جن کے چہرے نوجوان نسل کے لئے پر کشش ہوں ؟

آج کی نسل ڈیجیٹل دنیا سے منسلک ہے۔ ان کی زبان ، محاورے، بول چال، پسند ناپسند ڈیجیٹل دنیا کے مطابق بدلتی رہتی ہے ۔ To be honest کو TBH لکنے والی نسل کیا 50’s میں پیدا ہونے والی نسل کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔ یہ ایک سوال ہے۔ اور سیاسی و مذہبی قیادتوں کو اس بارے سوچنا ہو گا
(عمر جاننے کے لیے گوگل سرچ استعمال کی گئی ہے)
ٹویٹر ہینڈل
amjadqammar@

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے