پیر : 04 اپریل 2022 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]روسی فوجیوں کی جانب سے عام شہریوں کی ہلاکتیں نسل کشی ہیں، یوکرینی صدر[/pullquote]

روسی فورسز کے کییف سے انخلاء کے بعد قریبی علاقوں بوجا اور ایرپن میں 400 سے زائد افراد کی لاشيں برآمد ہوئی ہیں۔ ہفتے کو تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اتنے وسيع پيمانے پر شہريوں کی ہلاکت کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد سے عالمی سطح پر روس کی مذمت جاری ہے۔ کئی ممالک ماسکو پر اضافی پابنديوں کا مطالبہ بھی کر رہے ہيں۔ یوکرین میں ریڈ کراس کے نمائندے کی جانب سے ڈی ڈبلیو کو بتایا گیا کہ کییف کے يہ نواحی علاقے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک سینئر مشیر آئسلنگ ریڈی نے بتایا کہ مبینہ مظالم ممکنہ طور پر جنگی جرائم ہو سکتے ہیں۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ان ہلاکتوں کو ’نسل کشی‘ قرار دیا۔ روسی وزارت دفاع نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی فوٹیج کییف حکومت کی من گھڑٹ ہے اور مغربی ميڈيا کے ليے تیار کی گئی ہے۔

[pullquote]یوکرینی قصبے بوجا میں شہریوں کی ہلاکت، روس کی عالمی سطح پر مذمت[/pullquote]

جرمن چانسلر اولاف شلز کا کہنا ہے کہ روسی صدر دلادیمیر پوٹن اور ان کے ساتھیوں کو اس واقعے کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے کییف کے شمال مغرب میں اجتماعی قبر اور سیکنڑوں شہریوں کی لاشوں کے حوالے سے کہا کہ یہ سب جنگی جرائم کے بہت واضح اشارے ہیں اور وہ روسی فوج تھی جو بوجا میں موجود تھی۔ یورپی یونین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔امریکی سکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ ہلاک شدہ یوکرینی شہریوں کی تصاویر دیکھنا انتہائی تکلیف دہ تھا۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوٹیریش نے ان ہلاکتوں کی تحقیقات کرانے کا کہا ہے۔

[pullquote]ہنگری کے وزیر اعظم کا انتخابات میں کامیابی کا اعلان[/pullquote]

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کا اعلان کر دیا ہے۔ اوربان کی حکمران فیڈز پارٹی مسلسل چوتھی بار جیت رہی ہے۔ توقع تھی کہ اتوار کے انتخابات کے نتائج پڑوسی ملک یوکرین میں جنگ کے باعث اثر انداز ہوں گے اور اس کی وجہ سے اپوزیشن کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ حزب اختلاف نے انتخابی مہم میں ماسکو کے ساتھ اوربان کے قریبی روابط کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اوربان نے اس حوالے سے کہا تھا کہ ہنگری کو غیر جانبدار رہنا چاہیے اور روسی گیس اور تیل کی درآمد جاری رکھنا چاہیے۔ اگرچہ اوربان نے یوکرین کو ہتھیار بھیجنے کے یورپی یونین کے فیصلے کی حمایت کی تھی، لیکن انہوں نے ہنگری کی سرزمین سے ہتھیار بھیجنے کی اجازت کو مسترد کر دیا تھا۔ وزیر اعظم اوربان کے مخالفین کا الزام ہے کہ انہوں نے پبلک میڈیا میں حکومت کی حمایت میں پراپیگینڈا اور انتخابی اضلاع میں تبدیلیاں کر کے خاصا فائدہ اٹھایا ہے۔

[pullquote]طالبان نے پوست کی کاشت اور منشیات کی تجارت پر پابندی عائد کر دی[/pullquote]

افغان طالبان نے ملک میں افیون کی تجارت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ پوست کی کاشت کرنے والے کسانوں کو جیل بھیجا جا سکتا ہے اور ان کی فصلوں کو جلا دیا جائے گا۔ پوست کا استعمال ہیروئن کی تیاری میں کیا جاتا ہے۔ طالبان کی طرف سے جاری حکم نامے میں ہیروئن کے علاوہ حشیش اور شراب کی تجارت کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ افغانستان پوست پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ کئی کسانوں کے ليے افیون کی کاشت روزگار اور آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ واضح نہیں کہ لاکھوں کسانوں کی آمدنی کے اس ذریعے کے متبادل کے طور پر طالبان حکومت کے پاس کیا منصوبہ ہے۔

[pullquote]کانگو میں عسکریت پسندوں کا حملہ، اکیس افراد ہلاک[/pullquote]

انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والے ايک مقامی گروپ اور ایک چشم دید گواہ کا کہنا ہے کہ مشرقی ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو کے ایک گاؤں پر رات گئے حملے میں مشتبہ مسلم عسکریت پسندوں نے کم از کم 21 شہریوں کو ہلاک کر دیا۔ ان جنگجوؤں کا تعلق مبینہ طور پر اتحادی ڈیموکریٹک فورسز یا اے ڈی ایف سے تھا۔ اے ڈی ایف یوگنڈا کا ایک ملیشیا گروپ ہے جو 1990 کی دہائی سے مشرقی کانگو میں سرگرم ہے۔ یوگنڈا نے اے ڈی ایف کے خلاف مشترکہ آپریشن کے مقصد سے گزشتہ دسمبر 1,000 سے زیادہ فوجی کانگو بھیجے تھے۔

[pullquote]اردن کے شہزادے نے شاہی عہدہ ترک دیا[/pullquote]

اردن کے شہزادہ حمزہ، جو شاہ عبداللہ دوم کے بڑے سوتیلے بھائی ہیں، نے اپنے شاہی عہدے کو ترک کر دیا ہے۔ شہزادے نے ایک خط میں کہا ہے کہ ان کے عقائد اور ان کے والد کی طرف سے انہیں دی گئی اقدار کا ملکی اداروں کی موجودہ پالیسیوں سے ہم آہنگ ہونا ناممکن ہے۔ یہ حیران کن اعلان ملکی بادشاہ کے خلاف مبینہ سازش کے ٹھیک ایک سال بعد سامنے آیا۔ شہزادہ حمزہ پر اس اسکینڈل کا مرکز ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس اسیکنڈل کے بعد ایک سابق شاہی چیف ایڈوائزر اور شاہی خاندان کے ایک نابالغ رکن کو 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ حمزہ کو ابتدائی طور پر گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا لیکن پھر شہزادے نےعوامی طور پر شاہ عبداللہ کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعتراف کر ليا تھا اور اسی کے بعد ان کی نظر بندی ختم کر دی گئی تھی۔

[pullquote]سری لنکا ميں احتجاجی مظاہروں کے بعد پوری کابینہ مستعفی[/pullquote]

ویک اینڈ پر لگائے گئے کرفیو کے باوجود حکومت مخالف مظاہروں میں اضافے کے بعد سری لنکا ميں کابینہ کے ارکان نے استعفے دے دیے ہيں۔ صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ تمام 26 وزراء نے اتوار کی رات اپنے استعفے جمع کرا دیے۔ صدر کے گھر کے باہر مظاہرے پر تشدد رنگ اختيار کر گئے، جس کے بعد حکومت نے جمعے کو ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔ ویک اینڈ پر ملک بھر میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا لیکن پھر بھی ہزاروں افراد سٹرکوں پر نکل آئے جس کے نتیجے میں کئی سو گرفتاریاں ہوئیں۔ احتجاجی تحریک کو اپنا پیغام پھیلانے سے روکنے کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی بھی روک دی گئی تھی۔ ایک ویب مانیٹرنگ سروس کے مطابق سری لنکا میں فیس بک، یو ٹیوب، ٹویٹر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ بلاک نظر آئے۔ بحر ہند کا جزیرہ معاشی بحران سے نبرد آزما ہے جس کی وجہ سے خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت ہے۔

[pullquote]جنوبی سوڈان کے صدر اور حریف کے مابین امن معاہدہ[/pullquote]

جنوبی سوڈان کے صدر اور ان کے حریف اور نائب نے دنیا کے سب سے کم عمر ملک میں سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کر ديے ہیں۔ دارالحکومت جوبا میں دستخط کیے گئے اس معاہدے کے ذریعے فوج اور پولیس سمیت ملک کی سکیورٹی فورسز کی کمان کو متحد کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک کمان کا نہ ہونا ملک کی پانچ سالہ خونریز خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے 2018 کے معاہدے پر عمل درآمد کو متاثر کر رہا تھا۔ صدر سلوا کیر اور سابق باغی رہنما اور نائب صدر ریک مچار کی افواج کے درمیان تنازعات میں اضافہ ہو رہا تھا، جس سے ایک بڑے تنازعے کی طرف واپسی کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ مچار کے ترجمان کے مطابق حریفوں نے دشمنی ختم کرنے، کشیدگی کو ہوا دینے والا ’پروپیگنڈا‘ روکنے اور دوسرے فریق سے انحراف کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

[pullquote]الجزائر ميں رمضان کے آغاز پر کئی مجرموں کے ليے معافی[/pullquote]

الجزائر کی حکومت نے مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے آغاز پر ایک ہزار سے زائد مجرموں کو معاف کر دیا ہے۔ صدر عبدالمجید تببونے نے جمہوریت نواز ‘ہیرک احتجاجی تحریک’ سے تعلق کے الزام میں حراست میں لیے گئے 70 افراد کی معافی کا بھی حکم دیا۔ احتجاج سے منسلک 70 قیدیوں کو اس ہفتے عارضی طور پر رہا کر دیا گیا تھا اور اب وہ کیس کی سماعت کا انتظار کر رہے تھے۔ ہیرک احتجاجی تحریک کا آغاز 2019 کے اوائل میں ہوا اور اس نے شمالی افریقی ملک کے بڑے شہروں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس تحریک نے بالآخر طویل مدتی صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا۔ مارچ 2020 میں کورونا وائرس وبا کے باعث مظاہروں کا سلسلہ روک دیا گیا تھا۔ زیر حراست افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ الجزائر میں تقریباً 300 افراد ہیرک احتجاجی تحریک، صحافت یا ایکٹیویزم کے باعث اب بھی زیر حراست ہیں۔

[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے