بلقیس ایدھی کا انتقال :سندھ حکومت کا یومِ سوگ کا اعلان

[pullquote]سماجی کارکن بلقیس ایدھی انتقال کرگئیں[/pullquote]

سماجی کارکن اور مرحوم عبدالستار ایدھی کی زوجہ بلقیس ایدھی کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئیں۔

ترجمان ایدھی کے مطابق بلقیس ایدھی عارضہ قلب سمیت دیگر امراض میں مبتلا تھیں اور وہ ایک ماہ سے علیل اور نجی اسپتال میں زیر علاج تھیں۔

بلقیس ایدھی کی نماز جنازہ کل بعد نماز ظہر نیو میمن مسجد کھارادر میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین میوہ شاہ قبرستان میں ہوگی ۔

بلقیس ایدھی معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی مرحوم کی اہلیہ تھیں اور عبدالستار ایدھی کے انتقال کے بعد وہ ایدھی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن بنی تھیں۔

بلقیس ایدھی نے 16 برس کی عمر میں عبدالستار ایدھی مرحوم کے نرسنگ اسکول سے نرسنگ کی تربیت حاصل کی۔ ان کی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان کی جانب ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ بھارت کی جانب سے 2015میں مدر ٹریسا ایوارڈ دیا گیا۔

[pullquote]سندھ حکومت کا یومِ سوگ کا اعلان[/pullquote]

بابائے خدمت عبدالستار ایدھی مرحوم کی اہلیہ بلقیس ایدھی کے انتقال پر سندھ حکومت نے آج یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

بے لوث خدمت سے دنیا کا دل جیتنے والی کا دل ساکت ہوگیا،بلقیس ایدھی گزشتہ روز کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئی تھیں،انہیں رمضان سے دو دن پہلے دل کا دورہ پڑا تھا۔

بلقیس ایدھی کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر نیومیمن مسجد کھارادر میں ادا کی جائے گی جبکہ تدین میوہ شاہ قبرستان میں ہوگی ،بلقیس ایدھی کے انتقال پر سندھ حکومت نے آج یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ایدھی صاحب کی آخری رسومات سرکاری سطح پر ہوئی تھیں کوشش ہےکہ بلقیس ایدھی کی آخری رسومات بھی اسی طرح ہوں۔

بلقیس ایدھی اپنے عظیم شوہر عبدالستار ایدھی کی طرح انسانی خدمت کی لازوال مثال تھیں۔ وہ 1947میں، بھارتی ریاست گجرات کے ضلع بانٹوا میں پیدا ہوئیں، سولہ برس کی عمر میں انہوں نے عبدالستارایدھی کے قائم کردہ نرسننگ ٹریننگ اسکول سے پیشہ وارانہ تربیت حاصل کی اورایدھی فاؤنڈیشن میں ہی ملازمت اختیار کرلی۔

ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہوکر عبدالستار ایدھی نے ان سے نکاح کرلیا پھر دونوں نے ایدھی فاونڈیشن کیلئے دن رات محنت کی اور اسے پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم بنادیا۔

بے گھر خواتین کی رہائش ، شادی، ،لاوارث بچوں کی دیکھ بھال سمیت بہت سے فلاحی کاموں کی نگرانی بلقیس ایدھی خود کرتیں، معصوم بچوں کی جان بچانے کیلئے انہوں نے جھولا پراجیکٹ بھی متعارف کرایا۔

غلطی سے سرحد پار کرکے پاکستان آنے والی قوت گویائی اور سماعت سے محروم لڑکی گیتا کی دیکھ بھال پر انہیں بھارت نے مدرٹریسا ایوارڈدیا جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

[pullquote]اکیلا ہوگیا ہوں، والدہ نے سب سنبھالا ہوا تھا: فیصل ایدھی[/pullquote]

سماجی کارکن بلقیس ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ والدہ کی نمازِ جنازہ آج ظہر کے بعد ادا کی جائے گی۔

فیصل ایدھی نے بتایا کہ والدہ کی تدفین میوہ شاہ قبرستان میں کی جائے گی۔

والدہ سے متعلق بتاتے ہوئے فیصل ایدھی نے کہا کہ ایدھی صاحب کے بعد والدہ نے بہت سی چیزیں سنبھالی ہوئی تھیں، والدہ بہت کمزور تھیں اور انہیں 2014 سے دل کا عارضہ لاحق تھا۔

فیصل ایدھی نے کہا کہ ایدھی صاحب کے انتقال کے بعد والدہ نے مجھے بھی ہمت دی، میں اب اکیلا ہو گیا ہوں، انھوں نے سب سنبھالا ہوا تھا۔

واضح رہے کہ بلقیس ایدھی معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی مرحوم کی اہلیہ تھیں اور عبدالستار ایدھی کے انتقال کے بعد وہ ایدھی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن بنی تھیں۔

بلقیس ایدھی نے 16 برس کی عمر میں عبدالستار ایدھی مرحوم کے نرسنگ اسکول سے نرسنگ کی تربیت حاصل کی۔ ان کی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان کی جانب ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ بھارت کی جانب سے 2015میں مدر ٹریسا ایوارڈ دیا گیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے