قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر حملے کیخلاف قرار داد منظور

قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری پر حملے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

نو منتخب اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے پہلے اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں پیدا ہونے والی صورت حال کی جانب توجہ دلائی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کیا گیا اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایسی بدترین مثال نہیں ملتی، بطور رکن اسمبلی اس واقعے سے سر شرم سے جھک گیا ہے۔

بعد ازاں قومی اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پر حملے کی قرارداد متفقہ طور پر مظنور کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

[pullquote]وزیراعظم کی پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر پر حملےکی مذمت[/pullquote]

وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پر حملےکی مذمت کی ہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے راکین نے ڈپٹی اسپیکرپر حملہ کیا، حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔

نئے وزیراعلیٰ کا چناؤ: پنجاب اسمبلی کا اجلاس بد نظمی کا شکار، ڈپٹی اسپیکر کو تھپڑ مارے گئے اور بال نوچے گئے

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سادہ الفاظ میں یہ تشدد اورغنڈہ گردی کا مظاہرہ اور فسطائیت ہے، عمران خان کی مایوسی اور تشدد پر اکسانا معاشرے کو توڑ رہا ہے، عمران خان خود جمہوریت پرحملہ آور ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے لیے آج ہونے والا پنجاب اسمبلی کا اہم ترین اجلاس شدید بدنظمی کا شکار ہو گیا۔

اسمبلی اراکین کو ایوان میں بلانے کے لیے گھنٹیاں بجائی جاتی رہی ہیں لیکن سخت سکیورٹی انتظامات کے دعووں کے باوجود حکومتی خواتین اراکین اسمبلی میں اپنے ساتھ لوٹے بھی لے آئیں اور انہوں نے لوٹے لوٹے کے نعرے لگانا شروع کر دیے جس کے باعث ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔

جب ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کے لیے ہال میں پہنچے تو حکومتی اراکین کی جانب سے ان کی جانب لوٹے اچھالےگئے اور ان کی ڈائس کا گھیراؤ کیا گیا، حکومتی اراکین کی جانب سے دوست محمد مزاری کو تھپڑ مارے گئے اور ان کے بال بھی نوچے گئے، سکیورٹی اسٹاف اور اپوزیشن اراکین نے ڈپٹی اسپیکر کو حکومتی اراکین سے بچایا جس کے بعد وہ واپس اپنے دفتر میں چلے گئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے