منگل : 19 اپریل 2022 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]کابل کے اسکول میں دھماکوں کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک[/pullquote]

افغان دارالحکومت کابل کے ایک تعلیمی ادارے میں دھماکوں کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے۔ شہر کے شیعہ مسلمانوں کی اکثریت والے علاقے میں عبدالرحیم شہید ہائی اسکول میں یہ دھماکے آج منگل کے روز ہوئے، جن کی پولیس نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران کے مطابق یہ دھماکے یکے بعد دیگرے ہوئے، جن کے بعد سے حکام جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور چھان بین جاری ہے۔ شہر کے اس علاقے میں ماضی میں فرقہ وارانہ حملے ہوتے رہے ہیں۔ فوری طور پر کسی بھی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

[pullquote]یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم کی مرتکب روسی فوجی بریگیڈ کو صدر پوٹن کا خراج تحسین[/pullquote]

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین کے شہر بوچہ میں مبینہ جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والی روسی فوجی بریگیڈ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یہ اعلان ماسکو میں آج منگل کے روز یوکرین پر روسی فوجی حملوں کے 54 ویں دن کیا گیا۔ پوٹن کے دستخط شدہ ایک حکم نامے میں 64 ویں موٹر رائفل بریگیڈ کو مادر وطن اور ریاستی مفادات کے دفاع کے لیے گارڈز کا خطاب دیا گیا ہے اور اس بریگیڈ کے رکن فوجیوں کی بہادری اور حوصلے کی تعریف بھی کی گئی ہے۔

[pullquote]یونان نے تیل سے بھرا روسی بحری جہاز سمندر میں روک لیا[/pullquote]

یونانی حکام کے مطابق انہوں نے روس کے خلاف یورپی یونین کی عائد کردہ پابندیوں کے تحت ایک روسی آئل ٹینکر کو بحیرہ ایجیئن میں روک لیا ہے۔ یونانی کوسٹ گارڈز کے مطابق 15 اپریل کو روسی پرچم والے اس آئل ٹینکر کو روکا گیا، جس کا نام پیگاس ہے۔ اس مال بردار بحری جہاز پر اس کے روسی عملے کے انیس ارکان بھی سوار ہیں اور اس وقت یہ ٹینکر یونانی جزیرے ایویا کے ساحل کے قریب خلیج کارِسٹوس میں لنگر انداز ہے۔ یورپی یونین نے یوکرین پر فوجی حملے کے بعد سے روس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان میں کئی طرح کے سامان کی درآمد اور برآمد کے علاوہ روسی پرچم والے بحری جہازوں کی یورپی یونین کی بندرگاہوں تک رسائی پر پابندی بھی شامل ہے۔

[pullquote]چین میں کورونا وائرس کے باعث اموات میں مسلسل اضافہ[/pullquote]

چین کے سب سے بڑے شہر شنگھائی میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث ہلاکتیں زیادہ ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسی اولین اموات کی تصدیق کل پیر کے روز کی گئی تھی، جب کووڈ انیس کے تین مریض انتقال کر گئے تھے۔ آج منگل کے روز حکام نے بتایا کہ شہر میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد اب دس ہو گئی ہے۔ شنگھائی کے طبی کمیشن کے ایک اعلیٰ اہلکار نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کل انتقال کر جانے والے تین بزرگ شہریوں کی طرح جو سات مریض آج انتقال کر گئے، انہوں نے بھی کورونا وائرس کے خلاف اپنی ویکسینیشن نہیں کروائی تھی۔ شنگھائی میں عمر رسیدہ شہریوں کا تناسب کافی زیادہ ہے اور ان میں ویکسینیشن کی شرح بہت کم ہے۔

[pullquote]یوکرینی مہاجرین نے واپس وطن لوٹنا شروع کر دیا[/pullquote]

روسی یوکرینی جنگ کے باعث یوکرین سے اپنی جانیں بچانے کے لیے فرار ہونے والے باشندے اب واپس اپنے وطن لوٹنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہمسایہ ملک پولینڈ میں حکام نے بتایا کہ پہلے بڑی تعداد میں یوکرینی باشندے سرحد پار کر کے پولینڈ میں داخل ہو رہے تھے۔ اب لیکن وہ کافی تعداد میں واپس جانے لگے ہیں۔ پولینڈ کے سرحدی محافظین کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً انیس ہزار تین سو یوکرینی باشندے پولینڈ سے واپس یوکرین کے لیے روانہ ہو گئے۔ اس دوران تقریباً سترہ ہزار تین سو مہاجرین سرحد پار کر کے پولینڈ میں داخل ہوئے۔

[pullquote]جنوبی افریقہ میں سیلاب سے متاثرہ صوبے میں فوج تعینات[/pullquote]

جنوبی افریقہ میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے میں امدادی کاموں کے لیے فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ نیشنل ڈیفنس فورس نے بتایا کہ بجلی کے نظام کی بحالی اور متاثرین کی مدد کے لیے دس ہزار فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ فوجی متاثرہ علاقے میں لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے علاوہ زخمیوں کو طبی امداد بھی فراہم کریں گے۔ گزشتہ ہفتے ملکی ساحلی علاقے کوازُولُو ناٹال میں طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں اب تک 440 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کوازُولُو ناٹال کے وزیر اعلیٰ کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد 443 ہو چکی ہے جبکہ 63 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

[pullquote]راکٹ حملے کے جواب میں اسرائیل کی غزہ میں حماس کے خلاف کارروائی[/pullquote]

اسرائیل نے ایک راکٹ حملے کے جواب میں کارروائی کرتے ہوئے غزہ پٹی کے علاقے میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے آج منگل کے روز اپنے بیان میں کہا کہ اس کارروائی میں غزہ میں حماس کے ہتھیاروں کی تیاری کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ملکی فوج نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا کہ غزہ پٹی سے کی جانے والی تمام دہشت گردانہ سرگرمیوں کی ذمے دار حماس ہے۔ گزشتہ روز اسرائیل کے آئرن ڈوم نامی دفاعی نظام نے غزہ پٹی سے فائر کیے گئے ایک راکٹ کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔ حالیہ دنوں میں مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کے باعث حالات مزید کشیدہ ہو چکے ہیں۔

[pullquote]روس یوکرین کے صنعتی علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے، صدر زیلنسکی[/pullquote]

روسی افواج نے یوکرین پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ کییف میں حکام کے مطابق کئی دنوں تک خود کو دوبارہ منظم کرنے کے بعد روسی فوج نے یوکرین کے صنعتی مرکز ڈونباس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر زمینی حملے شروع کر دیے ہیں۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس یوکرین کے صنعتی علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین روسی فوجی حملوں کے خلاف اپنا دفاع جاری رکھے گا۔

[pullquote]مشرقی یوکرین میں جنگ شدت اختیار کر گئی[/pullquote]

یوکرین کے مشرقی علاقوں میں جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ کییف میں اعلیٰ ترین سکیورٹی اہلکار اولیکسی دانیلوف کے مطابق روسی افواج تیزی سے مشرقی یوکرینی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روسی دستے اب کریمِنا اور ایک اور چھوٹے سے قصبے میں داخل ہو چکے ہیں۔ قبل ازیں یوکرینی مسلح افواج کی قیادت نے بتایا تھا کہ روس ڈونیٹسک اور لوہانسک کے علاقوں پر مکمل فوجی قبضے کی کوشش میں ہے اور ماسکو کے دستوں کا مقابلہ کرتے ہوئے یوکرینی فورسز نے بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

[pullquote]صومالیہ میں عسکریت پسند گروہ الشباب کا ملکی پارلیمان پر دوران اجلاس حملہ[/pullquote]

صومالیہ میں ملکی پارلیمان کو اس وقت ایک مارٹر سے حملے کا نشانہ بنایا گیا، جب وہاں نو منتخب اراکین پارلیمان ایک اجلاس میں مصروف تھے۔ حکام اور عینی شاہدین کے مطابق پیر کے روز یہ حملہ پارلیمانی عمارت کے احاطے کے اندر کیا گیا، جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا تاہم متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ اس حملے کی ذمے داری دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند گروپ الشباب نے قبول کر لی ہے، جو گزشتہ ایک دہائی سے موغادیشو میں صومالی حکومت کے خلاف مسلح کارروائیاں کر رہا ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا، جب صومالیہ میں نئے ملکی صدر کا انتخاب مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے