چین سائینس اینڈ ٹیکنالوجی کے فروغ اور جدید ترقی کے ثمرات دنیا کے ساتھ بانٹنے کیلئے پر عزم

چھ ماہ تک زمین کے گرد چکر لگانے کے بعد، چین کے شینزو XIII مشن کے عملے کے تین ارکان تیانگونگ خلائی اسٹیشن سے روانہ ہوئے اور 16 اپریل کو ملک کی سب سے طویل انسان بردار خلائی پرواز کو مکمل کرکے اپنے زمینی سیارے پر کامیابی سے واپس آئے۔چینی ایرو اسپیس کی جانب سے کائنات کی وسعتوں کی طرف پیش رفت چینی سائنسی اینڈ ٹیکنالوجی کی ترقی و ڈیویلپمنٹ کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے جو نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔
آج، دنیا سائنسی اور ٹیکنالوجی انقلاب کے ایک نئے دور کے ساتھ ساتھ صنعتی اصلاحات کے ایک نئے دور کے اہم تاریخی موڑ پر ہے۔ چین اپنے تاریخی تجربات سے سیکھتے ہوئے اور زمانے کے رجحان کے مطابق ملک اور چینی قوم کے مستقبل کے لیے سائنس اور تکنیکی مہارتوں کو جدید ایجادات کیساتھ کامیابی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ آج چین وسیع بین الاقوامی اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ سائنس ٹیکنالوجی کی جدید ترین اسلوب اور جدید ایجادات کیساتھ ایک بڑا ملک بن گیا ہے۔ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (WIPO) کے مطابق پیٹنٹ کوآپریشن ٹریٹی کے ذریعے چین کی بین الاقوامی پیٹنٹ درخواستوں کی تعداد 69,500 ریکارڈ کی گئی، جو مسلسل تیسرے سال دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔اس کیساتھ ساتھ چین 2021 میں WIPO کے گلوبل انوویشن انڈیکس میں 12 ویں نمبر پر تھا، جبکہ چین 2012 میں 34 ویں نمبر پر تھا۔چین کی ان تمام تاریخی کامیابیوں کے پیچھے چین کی دور اندیش حکمت عملی کار فرما ہے۔
گزشتہ دس سالوں میں، چینی صدر شی جن پنگ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ چین کی ترقی کا انحصار جدت پر ہے، اور جدت چین کے مستقبل کی کلید رکھتی ہے۔ انہوں نے ذاتی طور پر سائنسی ایجادات میں بڑے اقدامات کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے انہیں یقینی بنا کر فروغ دیا ہے۔اس طرح کی تاریخی کامیابیوں کے لیے چین کے ٹھوس اقدامات بھی کارفرما ہیں۔ آج کی دنیا میں، ایک ملک کی سائنس ٹیکنالوجی کی جدید صلاحیت بڑی حد تک عالمی جدت کے وسائل کو مربوط کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔
پچھلے سال صرف شنگھائی میں 25 غیر ملکی فنڈڈ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) مراکز نئے قائم کیے گئے، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ چین عالمی تحقیق اور ترقی کا ایک نیا اعلیٰ مرکز بن چکا ہے۔ میڈیا رپورٹ کہ مطابق رواں نئی صدی میں جب عالمی معیشت "مشرق کی طرف مڑ رہی ہے”، چین جدید ایجادات ا ور جدید ترین ٹیکنالوجی کا مرکز بن کر دنیا کے سامنے آیا ہے جو کامیابی سے بڑے سائنس ٹیک شعبوں میں پیشہ ور افراد کو راغب کر رہا ہے۔
دنیا تیز رفتار تبدیلیوں ترقی و ڈیویلپمنٹ کیساتھ ساتھ رواں صدی میں نظر نہ آنے والی وبائی بیماری کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر رہی ہے۔ سائنس اور ٹکنالوجی عالمی مسائل کو حل کرنے کی کلید ہے، اور اوپن سائنس ٹیکنالوجی اور جدید ترین تکنیکی مہارتیں بہترین طریقہ ہے۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ طویل مدتی عالمی اقتصادی ترقی کے لیے توانائی سائنس ٹیکنالوجی کی اختراع سے حاصل ہونا ناگزیر امر ہے۔ ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو توڑنے کے لیے، دنیا کو سائنسی تکنیکی اختراعات کا سہارا لینا چاہیے۔ CoVID-19، موسمیاتی تبدیلی، بگڑتے ہوئے ماحول، بار بار آنے والی قدرتی آفات، توانائی کی کمی اور غذائی تحفظ جیسے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے، دنیا کو سائنسی اسلوب کے ذریعے ان سے نمٹنے کے لیے موثر طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔
وقت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، چین بلا روک ٹوک بین الاقوامی سائنس ٹیکنالوجی تعاون کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے اور اپنی سائنس ٹیک ایجادات کے ذریعے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ چین نے 161 ممالک اور خطوں کے ساتھ سائنس ٹیک تعاون کو فروغ دیا ہے، 114 بین الحکومتی سائنس ٹیک تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور جدت پر تعاون بڑھانے کے لیے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو پروگرام میں شریک ممالک کے ساتھ 53 مشترکہ لیبارٹریز کی تعمیر شروع کی ہے۔چین نے بیلٹ اینڈ روڈ کے ساتھ ساتھ 30 سے ​​زیادہ ممالک میں اپنے ساحلی تیل اور گیس کے ذخائر کے استحصال، بجلی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ سپر اور انتہائی ہائی وولٹیج پاور ٹرانسمیشن ٹیکنالوجیز کو فروغ دیا ہے۔ اس نے 200 سے زیادہ بین الاقوامی اور کثیر جہتی سائنس ٹیک تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے، جو عالمی سائنسی طرز حکمرانی کو بہتر بنانے میں ایک اہم ترین ملک کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔
آج کے جدید ترین دور میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انقلاب اور صنعتی اصلاحات کے ایک نئے دور کا سامنا کرتے ہوئے، دنیا کے بڑے ممالک نے جدت طرازی اور جدید ترین عوامل کو فروغ دینے کے لیے تمام حکمت عملیوں کو تیار کیا ہے، جس نے عالمی سائنس ٹیک مقابلے کو غیر معمولی طور پر متحرک بنا دیا ہے۔بین الاقوامی سائنس ٹیکنالوجی مقابلہ ایک عمومی امر معمول ہے، اور صحت مندانہ مقابلہ ممالک کو جدید اسلوب کے فروغ کے حوالے سے مضبوط بناتا ہے اور دنیا کی مشترکہ ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ تاہم، کچھ ممالک نے، ٹیکنالوجیز پر اپنی اجارہ داری کے لیے، قومی سلامتی کے تصور کا غلط استعمال کیا ہے اور اس میں دوسرے ممالک کی سائنس ٹیکنالوجی کی ترقی، سائنسی مسائل کو سیاست اور ہتھیار بنانے کے عوامل سے منسلک کر دیا ہے اپنے مفادات کے حصول کے لیے۔
اس طرح سے یہ منفی عوامل صرف عالمی سائنس ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنیں گے تاہم سائنس کی تاریخ پوری طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فرنٹیئر تکنالوجی کی ترقی کے لیے اوپن مواصلات بہت ضروری ہے۔
مثال کے طور پر، بلیک ہول کی پہلی تصویر دنیا بھر کے 200 سے زائد ماہرین فلکیات کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھی۔ "سائنسی ڈیکپلنگ” کی وکالت عالمی صنعتی ترقی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ کچھ ممالک تکنیکی تقسیم کی وجہ سے اپنی جی ڈی پی کا 5 فیصد ممکنہ نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔دوسری جانب وبائی امراض اور دیگر عوامل شمال اور جنوب کے درمیان تقسیم کو بڑھا رہے ہیں۔ تکنیکی فوائد اور ترقی کے حامل ممالک کو ترقی پذیر ممالک کے خلاف تکنیکی ناکہ بندی مسلط کرنے کے بجائے تکنیکی تعاون سے اس ممکنہ خلا کو پُر کرنا چاہیے۔جب عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی گئی تھی، یہ حقیقت ہے کہ چین غیر ملکی ٹیکنالوجی کے حصول کے حوالے سے بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا گیا، تاہم یہ رکاوٹیں اور تعطل کسی طور چینی قوم کا حوصلہ اور عزم کو کم کرنے میں کامیاب نا ہو سکے۔ان غیر کی رکاوٹوں نے چینی قوم کو مزید حوصلہ اور عزم دیا کہ وہ اپنے دم پر مزید محنت کریں اور اپنی ٹیکنالوجیز خود سے تشکیل دیں اور انفرادی حیثیت میں جدیدیت کی داغ بیل ڈالیں۔
آج چین اعلی سطحی سائینس ٹیکنالوجی خود مختاری کے خواب کی تکمیل دیکھ رہا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ چین اپنی سائنسی ترقی اور ڈیویلپمنٹ کی کامیابی کو دیگر ممالک کیساتھ بانٹنے کے لیے تیار نہیں، مستقبل کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے چین بین الاقوامی سطح پر سائینس اینڈ ٹیکنالوجی کے تبادلوں کو ایک اوپن زہن کیساتھ دیگر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے اور فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے اور عالمی سطح پر سائینس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور متعلقہ ثمرات دنیا بھر کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار ہے۔
اور دنیا میں سائینس اینڈ ٹیکنالوجی کی جدید ترقی اور ڈیویلپمنٹ کا خواہاں ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے