پاکستان میں ماہِ رمضان: ‘درد مندی کا وقت’

پاکستان میں تابندہ زبیری کے نزدیک ماہِ رمضان مستقل یادیں قائم کرنے کا وقت ہوتا ہے۔ تابندہ اور ان کی بیٹیاں، 7سالہ ایشال اور ایک سالہ زیمل ماہِ رمضان سے لطف اندوز ہو رہی ہیں اور عید الفطر کا انتظار کر رہی ہیں۔ خوشی کے اس دن روزوں اور غور و فکر کے مقدس مہینے رمضان کا اختتام ہوتا ہے۔

پاکستان میں امریکی مشن کی مقامی ملازمہ، تابندہ زبیری کہتی ہیں، “خوبصورت روایتی کپڑے پہننا، مہندی لگانا، میٹھے پکوان پکانا، بہت سی پارٹیاں، خاندانی دعوتیں اور اس موقعے پر لی جانے والی ڈھیروں ایسی تصویریں بنانا جنہیں ہمیشہ محبت سے یاد رکھا جاتا ہے، یہ سب وہ طریقے ہیں جن سے ہم اپنا عید کا دن گزارتے ہیں۔”

تابندہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں ‘ کمیونٹی انگیجمنٹ سپیشلسٹ’ کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اُن کا شمار پاکستان میں امریکی مشن کے ان بہت سے ملازمین میں ہوتا ہے جو کووڈ-19 وبا کی وجہ سے پابندیوں کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ 2 اپریل سے لے کر 2 مئی تک دوستوں اور خاندان والوں کے ساتھ مل کر رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں۔

یکم اپریل کو وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا، “گو کہ کووڈ-19 وبا نے گزشتہ دو سال ایک جگہ اکٹھے ہونے کو مشکل بنائے رکھا، تاہم مجھے امید ہے کہ اس سال شخصی طور پر [لوگ] زیادہ مل جل سکیں گے اور سب میں مزید گہرے تعلق کا احساس پیدا ہو سکے گا۔”

1947 میں پاکستان کی آزادی کے سال سے امریکہ کے پاکستان کے ساتھ 75 برس سے دوطرفہ تعلقات قائم چلے آ رہے ہیں۔ امریکہ میں رہنے والے پانچ لاکھ پاکستانیوں کی موجودگی سے دونوں ممالک کی شراکت داری کی بنیاد دونوں ممالک کے عوام کے آپس کے مضبوط روابط پر استوار ہے۔

امریکہ اور پاکستان ثقافتی تحفظ اور صحت عامہ سے لے کر تعلیم اور ماحولیات تک کی ترجیحات پر مل کر کام کرتے ہیں۔

امریکی حکومت نے پہلی بار 1805 میں رمضان اُس وقت منایا جب صدر تھامس جیفرسن نے وائٹ ہاؤس میں ایک غیر ملکی شخصیت کی افطار پر میزبانی کی۔ افطار روزہ کھولنے کے وقت رسمی طور پر کھایا جانا والا کھانا ہوتا ہے۔

رمضان کے دوران شاہان شاد روحانی غور و فکر اور عبادت کو دوستوں کے ہمراہ صبح سویرے سحری اور غروب آفتاب کے وقت افطاری کرنے کے ساتھ ملاتے ہیں۔

شاہان شاد (دائیں) اور اُن کے رفقائے کار رمضان کے دوران روزہ افطار کرنے کے لیے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں جمع ہیں۔ (U.S. Embassy Islamabad)
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں انسانی وسائل کے دفتر میں کام کرنے والے شاد کہتے ہیں، “سحری اور افطاری میں مختلف قسم کے کھانے [روزوں] کو زیادہ خوبصورت اور بابرکت بناتے ہیں۔ میں اپنے تمام گھر والوں، رفقائے کار اور دوستوں کو سحری اور افطاری کے لیے مختلف مقامات پر اکٹھا کرتا ہوں، جس سے اس بابرکت مہینے میں ہم آہنگی کا ایک زبردست احساس پیدا ہوتا ہے۔”

گلشن بتول اور ان کے خاندان کے افراد رمضان کی شامیں ضرورت مندوں میں افطاری تقسیم کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔ روزے کا دن اطمینان کے اُس احساس کو بڑہا دیتا ہے جو وہ اپنی کمیونٹی کی خدمت کرکے محسوس کرتی ہیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں کمیونٹی انگیجمنٹ کے دفتر میں کام کرنے والی بتول کہتی ہیں، “رمضان ہمدردی اور دوسروں کی مدد کرنے کا وقت ہوتا ہے۔ 30 دن کے روزے رکھنا ہمیں غور و فکر کرنے میں مدد کرتا ہے اور ہمیں صبر کرنا اور یہ سمجھنا سکھاتا ہے کہ جب پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تو اُس وقت اُن پر کیا گزرتی ہے۔”

محکمہ خارجہ روزگار کے مواقع کے مساوی اصولوں کی پاسداری کرتا ہے اور مذہبی گنجائشوں کی اجازت دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے روزے رکھنے والے ملازمین اپنے کام کے دن کے نظام الاوقات میں ردوبدل کی درخواست کر سکتے ہیں اور نماز یا دیگر مذہبی عبادات میں شرکت کے لیے بمعہ تنخواہ چھٹی لے سکتے ہیں۔ محکمہ نگران افسروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ کام کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس مقدس مہینے کے دوران نظام الاوقات ترتیب دینے میں لچک کا مظاہرہ کریں۔

محکمہ خارجہ کے ملازمین کی تنظیم ‘ موزیک’ بھی تنوع اور شمولیت کو فروغ دینے اور رمضان کے روزے رکھنے والے مسلمان ملازمین کی مدد کے لیے اقدامات اٹھاتی ہے۔ موزیک نگران افسروں کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ کام کرنے کی جگہ پر مراقبے اور عبادت کے لیے جگہ کا بندوبست کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے