ریاست،‏حکومت اورمملکت

‏حکومت، ریاست، مملکت کہنے کو مختلف باتیں ہیں۔ اور آئینی، قانونی ماہرین ان کی مختلف تعریفیں دے سکتے ہیں جن سے احتراز ممکن نہیں۔ لیکن عوام اور
بالخصوص طبقے کےلئے ریاست ، حکومت اور مملکت کے فرق کو سمجھنے کا بھی جواز نہیں۔ ان کے لئے ریاست، حکومت اور مملکت وہی ایک شخصیت ہے جسے وہ اپنے نمائندوں کے ذریعے سے چن کر وزیراعظم بنا دیتے ہیں۔ وزیراعظم بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن عوام کا مدعا وہی رہتا ہے۔ پیپلزپارٹی کا منشور نہیں بیان ہورہا ۔ لیکن عوام کا مقصد روٹی، کپڑا اور مکان ہے۔ یہ عوام کا وہ طبقہ جن کو سطح غربت قریب رکھتی ہے۔ ہمیشہ سے متاثر کرتاہے۔ کیونکہ ان کی ضرورت یہی اشیاء ہیں۔

بھوکا کیا چاہے دو روٹی۔ اور جس کا پیٹ بھرا ہوا ہو۔ وہ معاشی ترقی، معاشی اشارعیے پھرولتا پھرتا ہے اور اسے ایشین ٹائیگر بننا ہے۔ یہ ن لیگ کا منشور ہوگا لیکن یہ معاشرے کے اس متوسط طبقے کا بیانیہ ہے جن کا معاملہ روٹی، کپڑے اور مکان سے تھوڑا بلند ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیاں، آلودگی، درخت، غیرت، اسلامو فوبیا، آزاد خارجہ پالیسی حمیت، خودمختاری، انصاف اور احتساب، آپ سمجھے میں نے تحریک انصاف کا منشور بیان کیا۔ جی نہیں، بھرے پیٹ کے راگ بتائے۔ جو نسبتاً بہتر افراد کا بیانیہ ہے جن کا تعلق متوسط طبقے سے تھوڑا بلند ہے۔

یہ معاشرتی تفریق ہے۔ اسے مارکیٹنگ سٹریٹجی بھی کہہ سکتے ہیں ۔ ہر جماعت مختلف طبقے کو ٹارگٹ کررہی ہے۔ اور نعرے لگا کر مطلوبہ طبقے کا دل لبھا رہی ہے۔ اب یہاں یہ لازمی بھی نہیں کہ سو فیصد وہی طبقہ متاثر ہو۔ اس طبقہ کے افراد، اس طبقہ میں شمولیت کے خواہشمند افراد یا دیگر طبقات کے افراد بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ لیکن اکثریت کی بات کریں تو یہ طبقاتی فرق واضح ہے۔

ہر طبقے کی اپنی مانگ ہے، اپنی خواہش اور اپنا خواب، ہر لیڈر اپنے مطلوبہ طبقے کے خواب دکھا کر اپنی مطلوبہ عوام کو ساتھ ملاتا ہے۔ اس مارکیٹنگ میں اپنے بیانیے پر عملدرآمد کی شرط ملک میں تاحال دیکھی نہ گئی۔ کسی نے دیکھی تو ضرور اصلاح کرسکتاہے۔ لیکن عملاً اپنے اپنے نعروں کو نعروں کی حد تک رکھنے والے لیڈران اپنے اس معاشرتی طبقے کے بجائے اپنی کچن کیبنٹ تک ہی محدود ہوجاتے ہیں ۔

اور اب اگر ان تینوں بیانیوں یا تینوں طبقات کے ملاپ کی بات کریں تو ان تینوں پر ایک ساتھ عملدرآمد بھی ضروری ہے لیکن مشکل بھی۔ ضروری اس لئے کے خطِ غربت کے قریب رہنے والا طبقہ روٹی کپڑا اور مکان حاصل کرنے کے بعد متوسط ہوجاتا ہے اور اپنی ضروریات سے زیادہ بچا پانے والا اور جائیداد جوڑ لینے والا ان نچلے طبقات سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ یوں اس کو غیرت اور حمیت بھی یاد آجاتا ہے اور خطِ غربت والے نظر نہیں آتے۔ اِس طرح ہر ترقی کے ساتھ پچھلے لیڈر غیر مقبول ہوتے جاتے ہیں۔ یقین جانئیے اور اس زاویے سے دیکھئیے۔

آپ کی ترجیحات آپ کے پیٹ سے بندھی ہیں۔ پیٹ بھرے کے رونے ہیں خوشحالی، غریب کو روٹی چاہیے۔ امیر کا روٹی سے تعلق آسان ہے تو لگژری کار میں بیٹھ کر احتساب کا راگ الاپنا آسان ہے۔

اس طرح تو لیڈران کی توجہ ہی غلط ملط ہوگئی۔ جی! یہی مسئلہ ہے اور یہی حل، غربت دور کریں تو ترقی خوشحالی ہوگی اور ترقی خوشحالی سے آپ غیرت اور حمیت اور آزاد خارجہ پالیسی جیسے سنہری اصول قابل عمل کرسکتےہیں۔ کشکول لے کر ہاتھ میں ترقی اور خوشحالی خواب ہی رہے گی۔ اور خوشحالی اور ترقی جب قرضوں کی مرہون منت ہوگی تو غیرت سے پیٹ تو نہیں بھرا جاسکتا۔ بھوک لگے تو کھانا چاہیے ناکہ غیرت ۔ اور غیرت کہاں کی جب اپنے ملک کا سالانہ بجٹ بنانے کے لئے بھی چار ملکوں کے چکر لگا کر پیسے اکھٹے کرکے یعنی مانگ کر لانا ضروری ہو۔ تو غربت پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی معیشت کو بنیاد پر چلانا چاہیے، چھلانگیں لگانے سے توانائی ضائع ہوگی۔ عملاً اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ مان لیں اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے جس کا خاتمہ غریبوں کے خاتمے سے ممکن نہیں ہے۔ روزگار کے مواقع بڑھانے سے، چولہے جلانے سے، غربت ختم ہوگی تو عوام کی سوچ ترقی اور خوشحالی حاصل کرنے اور پھر آزاد خارجہ پالیسی اور احتساب کا بے باک نظام جس کے بعد ہمیں اپنی ضروریات کے لئے آئی ایم ایف سمیت کسی دوست ملک کے سامنے بھی ہاتھ پھیلانے نہ پڑیں۔ ذرا سوچئیے ۔۔۔ ۔ !!!!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے