حج اخراجات : وزیر مذہبی امور کے لیے چیلنج: مشاورت کی ضرورت

حج ایک مذہبی فریضہ ہے اور ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں ایک بار ضرور بیت اللہ شریف کا حج اور اور عمرہ کرے۔یہ الگ بات ہے کہ جو ایک دفعہ چلا جائے اس کے دل میں خواہش ہوتی ہے کہ وہ بار بار جائے۔بہت سارے حضرات ایسے بھی ہیں جو ہر سال رمضان میں عمرہ کرتے ہیں اور حج کی سعادت بھی حاصل کرتے ہیں۔لیکن بڑی تعداد وہ ہے جو یہ حسرت لیے ہی دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔گذشتہ دو برس سے کورونا کی وجہ سے حج میں صرف سعودی عرب سے لوگ شریک ہوئے،اس دفعہ جب اعلان ہوا کہ پوری دنیا سے حجاج کرام بیت اللہ تشریف لائیں گے تو پوری دنیا کی طرح پاکستان کے مسلمانوں میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔لیکن یہ لہر اس وقت معدوم ہو گئیں، جب وزارت مذہبی امور نے حج اخراجات کا ایک عارضی تخمینہ جاری کیا۔جو پہلے سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے سالوں کی نسبت بہت کم تعداد نے حج درخواستیں جمع کروائیں.اگرچہ جو کوٹہ ہے اس سے پھر بھی دو گنا ہیں۔

پاکستان کے نئے وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور کا تعلق قبائلی علاقہ لکی مروت سے ہے ۔وہ جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔انتہائی سادہ طبیعت کے ۔مالک ہیں۔موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ان کی تصویر وائرل بھی ہوئی۔مجھے کچھ احباب نے کہا کہ یہ تو بہت مشکل وزارت ہے۔اور مفتی صاحب ایک سادہ انسان ہیں تو میں نے گزارش کی ایک چھوٹی سی مسجد کا امام اور خطیب بھی بے شک جتنا سادہ ہو وہ اپنے کام میں ماہر ہو تا ہے ایک طرف وہ وعظ و تبلیغ کا کام کرتا ہے۔بچوں کی تعلیم و تربیت کرتا ہے،تو دوسری طرف بغیر کسی مستقل ماہانہ آمدن کے مسجد اور مدرسے کے لاکھوں کے اخراجات بھی پورا کرتا ہے۔اور مفتی صاحب اس سے بھی آگے بڑھ کے قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑ کے آئے ہیں۔اور انشاءاللہ بہتر انداز میں چلائیں گے۔لیکن وزیر بنتے ہی ان کو پے در پے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔منصب سنبھالتے ہی عید کے چاند کا تنازع پیدا ہو گیا۔اگرچہ وزیر صاحب نے یہ دعوٰی کیا تھا کہ وہ خود بھی صوبائی رویت ہلال کے ممبر رہے ہیں۔اور اس مسئلے کو بہتر انداز میں حل کر لیں گے اور پشتون ہونے کے ناطے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ واقعی ایسا حل کر لیں گے۔لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔اور پاکستان میں دو عیدیں منائی گئیں۔سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کے عہد میں ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ پورے پاکستان میں عید ایک ساتھ منائی گئیں۔اس کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے؟ وہ انشاءاللہ مفتی صاحب کو برا راست ملاقات میں بتاوں گا تاکہ وہ آئندہ سال استفادہ کر سکیں۔

سابق وفاقی وزیر مواصلات سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم جو کہ قومی اسمبلی میں مذہبی امور اسٹینڈنگ کمیٹی کے بھی چئیرمین رہے ہیں ،اور سینٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چئیرمین مولانا عبدالغفور حیدری کے ساتھ میں نے وزیر مذہبی امور کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی ۔سردار محمد یوسف صاحب کے دور میں حج اخراجات میں جو نمایاں کمی ہوئی ،وہ کس طرح ہوئی،اس کے پیچھے سردار محمد یوسف حافظ عبدالکریم کے ساتھ ساتھ دیگر احباب کا بھی کردار رہا ،اس کا تفصیلی ذکر ہوا۔

مجھے جس بات پر تشویش ہوئی وہ یہ تھی کہ وزیر مذہبی امور بار بار افراط زر ،روپے کی قدر میں کمی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کر رہے تھے۔کہ ان وجوہات کی بناء پر اخراجات میں اضافہ کرنا پڑے گا ۔میں نے ان سے گزارش کی کہ اگرچہ آپ کی یہ ساری باتیں درست ہیں لیکن آپ آخری آدمی ہونے چاہیے ہیں جو یہ باتیں کرے۔کیوں کہ اگر آپ نے ہار مان لی تو آپ پی آئی سے کیسے لڑیں گے۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ آپ کسی بھی وقت کہیں سفر کا ارادہ کریں اور ٹکٹ کے لیے پی آئی سے رجوع کریں تو بمشکل ہی آپ کو ٹکٹ ملے گا کہ رش بہت زیادہ ہے ۔لیکن جب آپ رپورٹیں پڑھیں گے تو پتہ چلے گا کہ پی آئی اے خسارے میں ہے۔اور پھر پی آئی یہ سارا خسارہ ضیوف الرحمن سے پورا کرتا ہے۔

اسی طرح ایک اور مافیا ہے جو کہ مکہ اور مدینہ منورہ میں حجاج کی رہائش گاہوں کا انتظام کرتا ہے۔

یہ دونوں جگہیں ایسی ہیں جہاں پر اخراجات میں کمی کے لیے بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اس کے لیے ٹیم ورک کے ضرورت ہوتی ہے۔وزیر مذہبی امور کی خوش قسمتی ہے کہ ان کو سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، مولانا عبدالغفور حیدری، سمیت ایسے احباب ساتھ میسر ہے جن کا اس معاملہ میں طویل اور کامیاب تجربہ ہے۔لیکن ہمارے یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ وزارت کی جو بیوروکریسی ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتی ہے۔اور جو چار دن بھی یہاں گزارے وہ اپنے آپ کو ارسطو اور باقی سب کو نالائق اور ان پڑھ سمجھتا ہے جیسا کہ سابق سیکرٹری مذہبی امور میاں مشتاق نے اسٹینڈنگ کمیٹی کے ایک اجلاس میں جائزہ رپورٹ میں یہی رویہ اپنایا ۔سینیٹر حافظ عبدالکریم نے نرمی سے ایک دوبار سمجھایا لیکن سیکرٹری صاحب کی رعونت میں جب کمی نہ آئی تو حافظ عبدالکریم نے جب حج آپریشن 2019 کے مرحلہ وار جائزے اور فیکٹس اینڈ فگرز پیش کیے۔اور پوری باریکی سے مکمل پالیسی کا آپریشن کیا تو سیکرٹری صاحب کو اندازہ ہوا کہ وہ جن کو مولوی سمجھ کر بے اعتنائی برت رہے ہیں وہ اس شعبہ کے ماہر ہیں۔

لیکن موجودہ وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور اس معاملہ میں خوش قسمت ہیں کہ ان کو سردار اعجاز احمد خان جعفر سیکرٹری کی صورت میں ملے ہیں۔جو سیکرٹری ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے مشہور جعفر قبیلے کے سردار ہیں۔اس سے قبل پنجاب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری رہے اور مختلف کیسز جو سینکڑوں کی تعداد میں تھے اور سالوں سے التواء کا شکار تھے ان کو نمٹایا۔مرزا ابرار صاحب ڈی جی حج ہیں۔2019 میں ہم نے اکٹھے حج کیا۔ اس وقت ان کی تعیناتی تو ہو گئیں تھی لیکن انھوں نے ابھی چارج نہیں سنبھالا تھا۔ اب وہ صاحب اختیار ہیں اور ان سے بھی اچھے کی توقع ہے۔

وزیر مذہبی امور اس حوالے سے بھی انتہائی فعال نکلے کہ پہلے ماہ میں ہی انھوں نے دو بین الاقوامی کانفرنسز بھی اٹنڈ کیں۔عبداللہ بن بیہ ایک معروف عرب اسکالر ہیں۔وہ ایک بین الاقوامی فورم کے سربراہ ہیں جو ہر سال ابوظہبی میں کانفرنس کراتے ہیں جس میں وہ مسلم لیڈرز کو اکٹھا کرتے ہیں۔اور عالم اسلام کی بہتری کے لیے دردمندانہ تجاویز پیش کرتے ہیں۔الشیخ عبداللہ بن بیہ مکہ سے جدہ روڈ پر رہائش پذیر ہیں۔ان کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہو ا۔انتہائی نیک اور درد رکھنے والے رہنماء ہیں۔چنانچہ وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور نے ان کے فورم کے زیر انتظام کانفرنس میں شرکت کی اور کمال یہ کیا کہ رواں اور شستہ عربی میں تقریر کی۔اس سے پتہ چلا کہ وزیر موصوف بہترین عربی بھی بول سکتے ہیں۔ویسے وہ اردو،پشتو اور فارسی بھی روانی سے بول سکتے ہیں۔اور یہ بھی ان کا امتیاز ہے ۔ہمارا بڑا علمی ورثہ عربی اور فارسی میں ہے۔پہلے پہل کے بزرگ اور علمائے کرام کو ان دونوں زبانوں پر عبور ہوتا تھا لیکن اب فارسی جاننے والے خال خال ہی رہ گئے ہیں۔

اس کے بعد وزیر صاحب نے ریاض میں رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی کی دعوت پر رابطہ کے زیر اہتمام ریاض میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔

بعد ازاں وہ مدینہ منورہ اور پھر مکہ مکرمہ گئے جہاں انھوں نے حجاج کرام کی رہائش گاہوں ،ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔کمیٹی کی صدارت کی۔اور خود ہر کام جائزہ لیا ۔دورے کیے۔امید ہے کہ ان دوروں کے حوصلہ افزاء نتائج نکلیں گے۔سینئر جوائنٹ سیکرٹری مذہبی امور بھی ان کے ہمراہ تھے۔یہاں اگر وزیر مذہبی امور سیںینٹ اور قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چار ارکان کو بھی ساتھ لے جاتے،تو ان کو زیادہ فائدہ ہوتا اور سپورٹ بھی ملتی۔اب بھی ضرورت ہے کہ بیوروکریسی کی کمیٹی کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ ایک ایک خصوصی کمیٹی کو وہ اپنے ساتھ معاونت کے لیے رکھیں اور یہ کمیٹی جنگی بنیادوں پر کام کرے۔سابق وزرائے مذہبی امور سردار محمد یوسف،سید خورشید شاہ،پیر نورالحق قادری، اعجاز الحق صاحب سے بھی استفادہ کرے۔
ورنہ تمام پالیسی تیار کرنے بعد اسٹینڈنگ کمیٹی میں لانے کا فائدہ کم اور وقت کا ضیاع کا ہوگا اور اس کا نقصان حاجیوں کو ہو گا۔

امید ہے کہ ہمارے ممدوح وزیر مذہبی امور ان امور کو نیک نیتی سے لیں گے۔اور اگر ایسا ہوا تو انشاءاللہ اس کا بہت فائدہ ہو گا۔

ایک اور اہم امر یہ ہے کہ سعودی وزارت حج کا وفد بھی پاکستان کا دورہ کر چکا ہے۔دورے کے دوران وہ مختلف شہروں میں گئے۔اور اچھی خبر یہ ہے کہ اس دفعہ پاکستان کے سرکاری اسکیم کے سارے حجاج روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ سے استفادہ کریں گے ۔یعنی ان کی وہ امیگریشن وغیرہ جو جدہ یا مدینہ ائر پورٹ پر ہوتی تھی وہ ساری کاروائی یہاں ہو جائے گی اور وہ سعودی عرب میں ائر پورٹ کی پریشانیوں سے بچ جائیں گے۔

اور حرف آخر یہ ہے کہ وزارت مذہبی امور صرف حج تک ہی محدود نہیں، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔اور اس میں وزارت کے کردار بہت زیادہ اور دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔اس پر وزیر صاحب سے براہ راست بھی اور ان سطور میں بھی آئندہ تحریر کروں گا.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے