موسمی تغیرات اور اس کے اثرات

اس سال درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی تغیرات اور ماحولیاتی آلودگی عام حلقوں میں زیر بحث رہی. بحث مباحثہ کچھ بھی ہو لیکن ایک سوال ذہن میں رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ "اس کا حل کیا ہے”. جس طرح موسمی تغیرات کا ہونا ایک سست عمل ہے, اس طرح اس کا حل بھی ایک دیر پا عمل ہے. ماحولیاتی تغیرات ایک سال یا ایک صدی میں رونما نہیں ہوا.

یہ گذشتہ تین صدیوں میں رونما ہوا ہے. اور حل کرنے میں شاید زیادہ کا عرصہ لگے. اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم کچھ نہ کریں. بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حل کرنے کیلئے ہم اپنے عوامل میں ربط اور تسلسل لے آئیں.

زیر بحث مضمون میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ موسمیاتی تغیرات کیا ہیں؟ اس کے وجوہات کیا ہیں؟ پاکستان کیوں ٹاپ ٹین میں شامل ہے. اور ہم اس سے نمٹنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں.

[pullquote]موسمیاتی تغیرات کے وجوہات[/pullquote]

ابھی تک موسمیاتی تغیرات کی دو بڑی بڑی وجوہات سامنے آئیں ہیں. اس میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین گیس کا زیادہ ہونا اور اوزون کی تہہ میں کمی آنا.

گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج گلوبل وارمنگ کا سبب بنتا ہے، جس سے پھلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا بنیادی اثر موسمیاتی زون کی تبدیلی، خشک سالی، درجہ حرارت میں اضافہ، بیماریاں اور کیڑوں کا پھیلنا وغیرہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے پھلوں پر منفی اور مثبت دونوں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

[pullquote]جنگلات میں کمی اور موسمیاتی تغیرات [/pullquote]

پاکستان میں جنگلات شروع سے کم تھی. 1960 تک پاکستان پاکستان میں جنگلات کی اوسط قدر 5.4 فیصد تھی. 2020 سے تازہ ترین قدر 4.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اگر دوسرےممالک کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں جنگلات کا رقبہ بہت کم ہے. 193 ممالک پر مبنی 2020 میں عالمی اوسط جو کہ 193 ممالک سے اعداد و شمار اکھٹے کئے گئے تھے, جنگلات کا رقبہ 32.2 فیصد تھا۔

عالمی معیار کے مطابق ایک ملک کے کم از کم 25 فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے.

جنگلات کاربن ڈائی آکسائیڈ کے کنٹرول کیلئے ایک قدرتی آلہ ہے. یہ ہوا سے مسلسل کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں. ایک آدمی کیلئے اوسطاً پانچ درخت چاہیئے اور ایک گاڑی سے اخراج کے لئے تیس درخت درکار ہیں. پاکستان میں فی کس پانچ درخت دستیاب ہیں. اس طرح انسان جو کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں. اس کو جذب کرنے کیلئے درخت کافی ہیں, لیکن اس کے علاوہ جتنا بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتا ہے, اس کو جذب کرنے کیلئے انتظام موجود نہیں ہے.

لیکن اگر دوسرے زاویئے سے دیکھا جائے تو پاکستان میں فی کس 990 کلو گرام سالانہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتا ہے. اس حساب سے فی کس 47 درخت چاہیئے . اگر دوسرے ممالک سے موازنہ کیا جائے تو یہ اخراج بہت کم ہے. یونائیٹڈ سٹیٹ میں 16.5 میٹرک ٹن جو کہ 16500 کلو فی کس سالانہ ہے. کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے. اگر پڑوسی ملک, انڈیا کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ان کے ہاں 1.7 میٹرک ٹن فی کس سالانہ یعنی ایک ہزار سات سو کلو گرام کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج موجود ہے. اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے, کہ پاکستان کا موسمیاتی تغیرات میں کوئی خاص کردار نہیں ہے. لیکن متاثرین میں سے ٹاپ پر ہیں.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے