چین اعلیٰ سطحی کشادگی اور نئے مواقع فراہم کرنے کی ویژن کے مسلسل فروغ کیلئے کوشاں

چین اور نیوزی لینڈ کے مابین آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کو اپ گریڈ کرنے کے حوالے سے متعلقہ پروٹوکول اور عوامل کی تجدید رواں سال اپریل کے مہینے میں باضابطہ طور پر نافذ کی گئی جس سے دونوں اطراف کمپنیز نے اس سے حاصل ہونے والے فوائد سے بھر پور انداز میں یکساں فایدہ اٹھانے کے لیے پر عزم طریقے سے متعلقہ طریقہ کار پر عمل درآمد یقینی بنایا ہے۔۔
اس حوالے سے متعلقہ پروٹوکول اور قواعد و ضوابط جس پر دونوں فریقین نے جنوری 2021 میں باضابطہ دستخط کیے تھے، یہ دستخط 2008 میں دونوں اطراف کے مابین فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے حوالے سے باہمی یاداشت پر کیے گئے دستخط پر ہی مبنی ہیں ، جو چین اور کسی بھی ایک ترقی یافتہ ملک کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے۔ اس حوالے سے اس فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی اپ گریڈنگ اور تجدید سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ چین کس طرح مسلسل اعلیٰ سطح کے اوپننگ اپ عمل کو ممکنہ کشادگی کیساتھ فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ اس حوالے سے جنوبی چین کے صوبے گوانگڈونگ کے شینزین شہر میں واقع تجارتی کمپنی کے ایک ایگزیکٹیو آفیسر نے واضح کیا ہے کہ "ماضی میں، ہم صرف شپمنٹ سے پہلے یا شپمنٹ کے دن ہی سرٹیفکیٹ آف اوریجن کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ بعض اوقات جب شپنگ کی متعلقہ معلومات وقت پر دستیاب نہیں ہوتی تھی، تو ہم اس حوالے سے متعلقہ عوامل کو حل نہیں کر سکتے تھے، تاہم جب سے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت تمام متعلقہ عوامل کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، ہم شپمنٹ کے نئے اور موثر طریقہ کار سے گزرنے کے قابل ہوئے ہیں، اپنی فعالیت کے حوالے سے بہت زیادہ آسان ہے،” رواں سال کے آغاز سے، کمپنی نے شینزین کسٹمز ڈسٹرکٹ کے ایک ڈویژن میں چین-نیوزی لینڈ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت اوریجن کے آٹھ سرٹیفکیٹس کے لیے درخواست دی اور کامیابی سے حاصل کی، جس سے اسے تقریباً 1.7 ملین یوآن ($253,875) کی نیوزی لینڈ میں درآمدی ٹیرف میں کمی اور متعلقہ استثنیٰ حاصل کرنے میں مدد ملی۔ چین کے نائب وزیر تجارت وانگ شوون کے مطابق، چین نے اب تک ایشیا، اوشنیا، لاطینی امریکہ، یورپ اور افریقہ کے 26 ممالک اور دیگر خطوں کے ساتھ 19 فری ٹریڈ ایگریمنٹ معاہدات طے کیے ہیں۔ جس کی بدولت دس سال پہلے کے اعداد و شمار کو تقریباً دوگنا کیا جا چکا ہے، اور ان کے ساتھ اس کی تجارت کی مجموعی شرح چین کی کل غیر ملکی تجارت کا تقریباً 35 فیصد ہے۔

دوسری جانب چین نے آزاد تجارتی معاہدوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے، چین نے ان کے معیار کو بھی مسلسل بہتر اور اپ گریڈ کیا ہے۔ چین اشیا کی تجارت میں ٹیرف کی کم سطح اور کسٹم کلیئرنس کی اعلی کارکردگی کو مدنظر رکھتا ہے۔ اس ضمن میں وانگ نے مزید نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا کہ، "2012 سے، چین نے بیرونی ممالک کے ساتھ نو نئے آزادانہ تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ زیادہ تر معاہدوں میں، 90 فیصد سے زیادہ اشیا پر صفر ٹیرف لاگو کیے گئے ہیں۔ اور کچھ میں، تناسب 97 فیصد تک پہنچ جاتا ہے،” کسٹم کلیئرنس کی کارکردگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وانگ نے نوٹ کیا کہ درآمدات کو چین میں کسٹم کلیئرنس مکمل کرنے کے عمل میں صرف ڈیڑھ دن سے بھی کم وقت لگتا ہے، جبکہ 2017 میں تقریباً چار دن کا ٹائم لگتا تھا،
انہوں نے مزید کہا کہ چین نے کسٹم کلیئرنس کا ایسا نظام مرتب کیا ہے جس سے کسٹم کلیئرنس کو صرف ڈیڑھ گھنٹے کا ٹائم لگتا ہے جو 2017 میں درکار وقت کا دسواں حصہ ہے۔ چین نے ایک طرف جہاں مارکیٹ کے دائرہ کار کو کم کر دیا ہے وہیں خدمات اور سرمایہ کاری میں تجارت میں اوپننگ اپ اور کشادگی کے عمل کو مزید وسعت دی ہے۔ "خدمات کی تجارت میں، چین نے عالمی تجارتی تنظیم میں شمولیت کے بعد سے چین نے 100 ذیلی شعبوں کے لیے مارکیٹ کشادگی کے عمل کو یقینی بنایا یے۔ اور حالیہ علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (RCEP) معاہدے میں، چین نے مزید 22 سروس سیکٹرز کو شامل کیا،” ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ، چین نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے منفی فہرستوں کو مرتب کیا ہے، جس سے مینوفیکچرنگ، زراعت، کان کنی اور دیگر شعبوں کو اعلیٰ سطح پر مزید کشادہ کرنے اور ان سیکٹرز کی اوپپنگ اپ کا عزم کیا گیا ہے۔ چین نے جب سے کشادگی اور اوپن اپ کا دروازہ وسیع تر انداز میں کھولا ہے، اس کے آزاد تجارتی شراکت داروں کی تعداد میں بھی نمایاں انداز میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ وانگ نے نشاندہی کی کہ 2022 کے آغاز میں RCEP کے لاگو ہونے سے چین نے دنیا کی سب سے بڑی آبادی اور سب سے بڑے تجارتی پیمانے پر ایک آزاد تجارتی زون کی تشکیل کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ آر ای سی پی جب سے یہ نافذ ہوا ہے، چین نے تجارتی منافع کو مسلسل جاری کیا ہے اور علاقائی اقتصادی ترقی میں نئی ​​تحریک پیدا کی ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں دیگر 14 RCEP ممبران کے ساتھ چین کی درآمدات اور برآمدات مجموعی طور پر 2.86 ٹریلین یوآن (تقریباً 428 بلین ڈالر) تھیں، جو کہ سال بہ سال 6.9 فیصد کے اضافے کی نمائندگی کرتی ہیں اور یہ ملک کی مجموعی تجارت اور پیداوار کا 30.4 فیصد ہے۔ وانگ کے مطابق، چین کی وزارت تجارت (MOFCOM) متعدد ایف ٹی اے مذاکرات کو تیز کر رہی ہے۔ ملک ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ (CPTPP) اور ڈیجیٹل اکانومی پارٹنرشپ ایگریمنٹ (DEPA) میں اپنے الحاق کو آگے بڑھانے کے لیے فعال کوششیں تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اور چین-جاپان-جنوبی کوریا FTA کے ساتھ ساتھ اس کے بارے میں بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کا۔اظہار کر چکے ہیں۔ خلیج تعاون کونسل (GCC)، اسرائیل اور ایکواڈور کے ساتھ FTA مذاکرات ستچین توسیع کو فروغ دے گا اور اپنے آزاد تجارتی زون (FTZ) نیٹ ورک کے معیار اور کارکردگی کو بہتر بنائے گا، اور اپنے FTAs ​​کی سطح کو مزید بلند کرے گا۔ یہ اشیا کے بڑے تناسب پر صفر ٹیرف لاگو کرے گا، خدمات اور سرمایہ کاری میں تجارت کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنائے گا، اور ڈیجیٹل معیشت اور ماحولیاتی تحفظ جیسے نئے موضوعات پر مذاکرات میں فعال طور پر حصہ لے گا۔ چین آزادانہ تجارتی معاہدوں ​​کے جامع استعمال کی شرح کو بہتر بنانے اور ان کی تاثیر کو بڑھانے کے لیے بھی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر چکا ہے تاکہ وہ تیز رفتاری سے متعلقہ ممالک میں کاروباری اداروں اور لوگوں کو بہتر طور پر فائدہ پہنچا سکے۔اس تمام پیرائے کے حوالے سے وانگ نے واضح کیا کہ جیسا کہ چین کے آزاد تجارتی شراکت داروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، زیادہ سے زیادہ چینی اور غیر ملکی کمپنیاں چین کے اعلیٰ سطحی کھلے پن اور کشادگی پر مبنی امور کے فوائد سے یکساں انداز میں فایدہ اٹھا رہی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے