عبیداللہ بیگ : دس سال بیت گئے(2012 تا 2022)

پاکستان کے معروف ٹی وی پروڈیوسر، کمپیئر، ادیب اور دانشور عبید اللہ بیگ کو دنیا سے رخصت ہوئے آج دس سال ہو گئے، وہ اپنے پیچھے بے شمار خوبصورت یادیں چھوڑ گئے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے طور پر انہیں یاد کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔

میں انھیں کسوٹی پروگرم کے حوالے سے جانتی تھی اور بچپن میں ان کے پروگرام بڑے شوق سے دیکھا کرتی تھی، ان کی شخصیت, دھیما لب و لہجہ, ذہانت و متانت, علم و ادب سے دلچسپی مجھے بہت پسند تھی اور میں اکثر سوچتی تھی ان کو یہ سب کیسے یاد رہتا ہے, کیا یہ ہر وقت کتابیں ہی پڑھتے ہوں گے یا یہ ذہانت خداداد ہے؟ ان سے ملاقات کی بڑی حسرت تھی جو کہ حسرت ہی رہی۔

2012 میں جب ایم فل اُردو (ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ) کا کورس ورک مکمل ہوا تو مقالہ لکھنے کے لئے عنوان کا چناؤ کرنا تھا میں کسی شخصیت پر کام کرنا چاہتی تھی ، زندہ شخصیت پر کام کرنے کی اجازت نہ تھی اور پھر یوں ہوا کہ جون میں عنوان کے چناؤ کی ہمیں ڈیڈ لائن دی گئی ، میں اسی کشمکش میں تھی کہ 22 جون 2012 کو عبید اللہ بیگ کے انتقال کی خبر ملی جس نے مجھے بہت رنجیدہ کر دیا ,ان کے ساتھ جڑی باتیں یاد آنے لگیں ,ان کی ذہانت و فطانت کی کسوٹی آنکھوں کے آگے فلم کی مانند گھومنے لگی ۔

کچھ دن تک عنوان کی تلاش میں اساتذہ اور دوست احباب سے مشورے لئے لیکن کچھ سمجھ نہ آیا ایک دن ٹی وی پر عبیداللہ بیگ کی زندگی کے متعلق پروگرام دیکھ رہی تھی تو اچانک میرے ذہن میں ان کی شخصیت اور علمی و ادبی خدمات پر کام کرنے کا خیال آیا ، میں نے اپنے نگران سے مشورہ کیا اور انھوں نے کہا یہ تو بہت اچھا موضوع ہے اب تک کسی نے ان پر کام بھی نہیں کیا چنانچہ میں نے ان کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات اکھٹی کیں اور مقالے کے لئے مسودہ لکھا اور میری خوش قسمتی کے میرے عنوان کا چناؤ ہو گیا اور مجھے ان کی زندگی پر کام کرنے کا نایاب موقع مل گیا۔

میں ان کو صرف کسوٹی کے حوالے سے جانتی تھی لیکن جب ان کی زندگی پر کام شروع کیا تو ان کی زندگی کی ان گوشوں سے بھی واقفیت ہوئی جو عام لوگوں سے اوجھل تھے۔ ان کی فیملی سے رابطے کیے، بات چیت ہوئی ، معلومات اکٹھی کیں ، سب نے بہت تعاون کیا خاص طور پر ان کی اہلیہ سلمی بیگ نے ان کی زندگی کے متعلق بنیادی معلومات فراہم کیں جو مقالہ لکھنے میں بڑی معاون ثابت ہوئیں اس کے علاوہ ان کی چہیتی بہن خورشید مظہر سے بھی ان کے بارے میں کافی معلومات ملیں, آج دس سال گزرنے کے باوجود وہ جب بھی اپنے بھائی کو یاد کرتیں ہیں تو مجھے ہرگز نہیں بھولتیں, مجھے پوسٹ میں مینشن کرتیں ہیں جیسے میں ان کی فیملی کا حصہ ہوں ,مجھے بھی بہت اپنائیت محسوس ہوتی ہے اور خوشی ہوتی ہے کہ میں ان سے بچپن سے محبت کرتی تھی اور ان سے ملنے کی خواہش بھی تھی جو پوری تو نہ ہو سکی لیکن مقالے کی وجہ سے ان کا نام میرے نام سے جڑ گیا یہ میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے۔

فیملی کے علاوہ ان کے قریبی دوستوں سے بھی ملنے کا موقع ملا جن میں مشہور زمانہ شاعر افتخار عارف اور غازی اصلاح الدین بھی شامل ہیں جن کی وساطت سے ان کی زندگی کے کئی نمایاں پہلو اجاگر کرنے میں مدد ملی۔

عبید اللہ بیگ کا اصل نام حبیب اللہ بیگ تھا۔ ان کے والد محمود علی بیگ بھی ممتاز علم دوست شخصیت تھے اور ان کا خاندان انڈیا سے شہر رام پور سے نقل مکانی کر کے پاکستان آیا اور کراچی میں آباد ہوا۔

عبیداللہ بیگ ہمیشہ سے اپنی نستعلیق زبان و شخصیت اور وسیع مطالعہ سے اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ایک عالم ان کی شخصیت، بردباری، حلم ، اور تبحر علمی کا قائل ہے۔

عبید اللہ بیگ پہلی بار پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے ایک زمانے کے مقبول ترین پروگرام ’کسوٹی‘ کے حوالے سے پہچانے گئے۔ یہ پروگرام انھوں ایک عرصہ تک پہلے پی ٹی وی اور ایک نجی ٹیلی ویژن سے پیش کیا۔ اس میں افتخار عارف، قریش پور اور غازی صلاح الدین ان کے شریک رہے۔

ٹیلی ویژن سے علیحدہ ہونے کے بعد وہ ماحولیات کے تحفظ کی غیر سرکاری تنظیم آئی یو سی این سے منسلک ہو گئے تھے اور ماحولیات کی رپورٹنگ کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی تربیت کا کام کرتے رہے۔

اپنے علم اور پُر شفقت روّیے کی وجہ سے انھیں ذرائع ابلاغ میں ایسا احترام حاصل تھا جو پاکستان میں بہت کم لوگوں کو حاصل ہے۔

اُردو زبان پر قدرت اپنی جگہ لیکن فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے۔سن دوہزار آٹھ میں حکومتِ پاکستان نے گراں قدر علمی خدمات کے پیشِ نظر انہیں ‘تمغہ حسنِ کارکردگی’ سے نوازا۔

انھوں نے دو ناول لکھے۔

"اور انسان زندہ ہے” اور "راجپوت ” ۔ان کا انداز تحریر دل کو چھو لینے والا ہے، ناول میں ہیئت و تکنیک میں کسی قسم کی کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔

اور انسان زندہ ہے! ” عبیداللہ بیگ کا پہلا تاریخی اور معاشرتی ناول ہے جوکہ الشجاع رسالے میں قسط وار چھپتا رہا، اس ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ١٩٦٠ء میں اس کی پہلی اشاعت کی تمام کاپیاں فروخت ہوگئیں قارئین نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا ، غیاث الدین جو الشجاع رسالہ کے مالک نے اسے معرکہ آراء ناول قرار دیا ہے، انھوں نے کم سنی میں یہ کہانی لکھنے کے باوجود ایسا نفیس اور عمدہ اسلوب بیان اختیار کیا ہے کہ اس پر ایک بزرگ اور ماہر مصنف کا گمان ہوتاہے،انیس بیس سال کی عمر میں ایسا نادر نمونہ پیش کیا کہ سب دھنگ رہ گے۔

عبید اللہ بیگ کا دوسرا ناول راجپوت اکیسویں صدی کی ناول نگاری میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ اس کے پلاٹ میں الجھاؤ ہے نہ اسلوب میں پیچیدگی، زبان و بیان کی روانی اور لہجے کی پختگی اسے ایک وقار عطا کرتی ہے‘‘۔

یہ ناول راجپوتوں کی تاریخ بتاتا ہے کہ وہ دراصل ایک جنگجو قوم ہیں۔ یہ ناول بھی راجپوتوں کی جرأت و بہادری پر لکھا گیا ہے۔ انیسویں صدی میں جہاں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوا وہاں راجپوتوں کے اقتدار کا بھی خاتمہ ہونے لگا۔ رزم و بزم، محبت و عشق کی طرح حیات ِ انسانی کے لوازمات میں شامل ہے۔

ایک اچھی کتاب وہ ہوتی ہے جو قاری کو زندگی کے نئے زاویوں سے روشناس کراۓ۔ لکھنے والے کے ساتھ اس کے تجربات کے سفر میں قاری اپنی موجودگی کو محسوس کرے اور اثر انگیز کہانی اس کو اپنی گرفت میں لے کر اس کو مزید کی جستجو میں مبتلا کردے۔

اس کتاب میں یہ تمام خصوصیات موجود ہیں۔شکاریات کے موضوع سے لے کر قبائلی زندگی , فوجی حکمت عملی, مہاراجاؤں کا طرز زندگی اور ان کی ریاستوں کے احوال کو بہت باریک بینی اور پرلطف انداز سے پیش کیا گیا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے چودہ اگست دوہزار آٹھ کو ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی پیش کیا۔

بلاشبہ عبید اللہ بیگ صاحب ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے۔نہ صرف علمی طور پر بھی بلکہ عملی طور پر بھی۔ اوپر دی گئی تفصیلات ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا بمشکل ہی احاطہ کر پاتیں ہیں۔

اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے کتنی کامیابیاں حاصل کیں، کتنے ذہنوں پر انمٹ نقوش چھوڑے، کتنی زندگیاں بدل دیں، مگر پھر بھی عاجزی ان کی ذات کا خاصہ تھی۔ ان کی وفات ایک بہت بڑا خلا ہے,ادب کے لیئے، ٹیلی وزن کے لیئے، اچھی معیاری اردو زبان کے لیئے۔شاید ہی کوئی شخص آج کی دنیا میں اتنے اہم اور ہمہ جہت ناول تحریر کرے اور اس کی ذرا سی بھی تشہیر نہ کرے۔ یہ بے نیازی ان ہی کا خاصہ تھی۔ کسی ادیب نے کیا خوب لکھا ہے کہ

اب تو وہ سانچے ہی ٹوٹ گئے جس میں ایسی عظیم شخصیات ڈھلا کرتی تھیں ۔ہمارے حصے میں تو بس دیوانے اور فرزانے ہی آئے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے درجات مزید بلند فرمائے۔آمین

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے