یورپی یونین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیےقانون سازی

یورپی یونین نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حد میں رکھنے کے حوالے سے اہم پیشرفت کی ہے۔

یورپی پارلیمنٹ نے انٹرنیٹ صارفین کے تحفظ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق تاریخ ساز قوانین کی منظوری دے دی ہے۔

ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے) اور ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (ڈی ایم اے) کو یورپی پارلیمنٹ منظور کرلیا ہے۔

دونوں قوانین کے تحت تمام ڈیجیٹل سروسز بشمول سوشل میڈیا اور آن لائن مارکیٹ پلیسز کے لیے نئے اصول و ضوابط تجویز کیے گئے ہیں۔

یہ یورپی یونین کی جانب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو احتساب کے دائرے میں لانے کی اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے۔

ڈی ایس اے کی کسی شق کی خلاف ورزی پر ایک کمپنی کو اس کی عالمی آمدنی کے 6 فیصد حصے کے برابر جرمانے کی سزا سنائی جاسکے گی۔

اسی طرح ڈی ایم اے کی خلاف ورزی پر یہ جرمانہ 10 فیصد تک بھی ہوسکتا ہے یعنی اربوں ڈالرز ادا کرنا ہوں گے۔

یورپی یونین انٹرنل مارکیٹ کمشنر تھیری بریٹن نے قانون سازی کی منظوری کو تاریخ ساز قرار دیا۔

یورپین کمیشن کی صدر ارسلا وون ڈر لین کے مطابق کمیشن بڑے پلیٹ فارمز کے لیے ڈیجیٹل ریگولیٹر کا کام کرے گا۔

ڈی ایس اے کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر نقصان دہ مواد جیسے کووڈ 19 سے متعلق گمراہ کن تفصیلات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہوگا اور ایسے قوانین متعارف کرانا ہوں گے جو خطرناک مواد کے پھیلاؤ کی روک تھام کرسکیں۔

کمپنیوں کو صارفین کے درمیان رابطوں کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔

اسی طرح نئے قوانین کے تحت ایسے ٹارگٹڈ اشتہارات پر پابندی عائد ہوگی جن کے لیے صارف کی حساس تفصیلات کو استعمال کیا جائے گا۔

ایک بار جب یورپی یونین کے رکن ممالک اس قانون سازی کو اپنالیں گے تو 15 ماہ کے ٹرانزیشنل پیریڈ کا آغاز ہوگا جس کے بعد قوانین کا اطلاق ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے