نیٹو حقیقتاً عالمی امن اور استحکام کے خلاف ایک "منتظم چیلنج” ہے

حال ہی میں اختتام پذیر 2022 نیٹو کانفرنس میں جاری کی گئی نام نہاد نئی "اسٹریٹیجک تصور” دستاویز میں چین کی ملکی اور خارجہ پالیسیز کو مسخ کرنے کی مذموم سازش کی گئی ہے۔ اس دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین نیٹو کے "مفادات، سلامتی اور اقدار” کو چیلنج کرتا ہے اور نیٹو چین کی طرف سے درپیش اس طرح کے "منتظم چیلنج” کا مشترکہ طور پر جواب دے گا۔
نیٹو کی چین کے حوالے سے بے بنیاد جھوٹ پھیلانے اور نام نہاد "چین کے خطرے” کو بڑھاوا دینے کی کوششیں نیٹو تنظیم کی سرد جنگ کی دوبارہ ابھرتی ہوئی ذہنیت اور نظریاتی تعصب کی آئینہ دار ہیں، جو امریکہ کی طرف سے ایشیا پیسیفک خطے تک نیٹو کے اثرو رسوخ کو بڑھانے کے لیے صرف ایک عجیب و غریب شو کی مانند ہے۔
نیٹو کا عمل خطے میں تصادم کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے جس سے عالمی سلامتی کو خطرات لاحق کو سکتے ہیں۔اس ضمن میں نیٹو کے ان اقدامات کے حوالے سے دنیا کے ممالک اور بین الاقوامی سوسائٹی کو اس سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
چین ہمیشہ سے امن کی آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے اور عالمی امن اور خوشحالی کے لیے ہمیشہ ایک مضبوط قوت کا کردار ادا کیا ہے، چین نے کبھی جنگ یا تصادم کا آغاز نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کسی دوسرے ملک کی ایک بھی انچ بیرونی سرزمین پر قبضہ کیا اور نہ ہی دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اور نہ ہی اپنے نظریات دوسرے ممالک پر مسلط کیے ہیں، چین نے کبھی بھی اپنے آپ کو طویل عرصے کے دائرہ اختیار کیساتھ کسی کے خلاف یکطرفہ پابندیوں، یا معاشی جبر میں کسی قسم کے اتحاد کا حصہ نہیں رہا ہے۔
چین نے پر عزم انداز میں کثیرالجہتی کو برقرار رکھنے، اقوام متحدہ کے ساتھ بین الاقوامی نظام کی حمایت اور اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کو کنٹرول کرنے والے عالمی سطح پر تسلیم شدہ بنیادی اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کی حمایت کرنے کے لیے سنجیدگی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
پرامن ترقی کی راہ پر گامزن، چین ایک متحرک اور فعال انداز میں بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک معاشرے کی تعمیر کر رہا ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی اعلیٰ معیار کی تعمیر کے تصور کو لیکر آگے بڑھ رہا ہے۔ اس نے گلوبل ڈویلپمنٹ اقدامات اور گلوبل سیکورٹی کے عمل کی تجویز پیش کی ہے اور اس پر موثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنا رہا ہے، اور بین الاقوامی برادری کو امن اور ترقی کے بڑے مسائل سے نمٹنے میں مدد کے لیے متعدد عوامی مصنوعات کی پیشکش کر رہا ہے۔
چین عالمی امن اور عالمی ترقی کے لیے قیمتی مواقع فعال انداز میں پیش کررہا ہے۔ اس طرح سے چین "منظم چیلنجز” کا مظاہرہ نہیں کرتا، جیسا کہ نیٹو کی طرف سے غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ نیٹو نے چین کے خلاف بے بنیاد الزامات اور من گھڑت انداز میں سیاہ کو سفید ظاہر کرتے ہوئے، حقائق کو نظر انداز کیا ہے اور چین کے خلاف محاز آرائی کا آغاز کیا ہے۔ تاہم، یہ چین کے بارے میں حقیقت یا بین الاقوامی معاشرے کی مثبت تشخیص کو کبھی نہیں بدل سکتا،
نیٹو ایک سرد جنگ کی پیداوار ہے جو آہستہ آہستہ امریکہ کے لیے اپنی بالادستی کو برقرار رکھنے اور ایک نئی "سرد جنگ” کو بھڑکانے کا آلہ بنتا جا رہا ہے۔ نیٹو کے نام نہاد "اسٹریٹیجک تصور” دستاویز میں چین کا پہلی بار ذکر امریکی خدشات اور تحفظات سے متعلق ہیں۔
موجودہ امریکی انتظامیہ نے اپنے سابق حکمرانوں کے غلط طرز عمل کو وراثت میں حاصل کیا ہے اور وہ اسی نقطہ نظر سے چین کو ایک اسٹریٹجک حریف کے طور پر دیکھتے ہیں اور اسی وجہ سے اس نے چین پر دباؤ بڑھانے کے لیے اتحاد بنائے ہیں۔
رواں سال نیٹو سربراہی اجلاس نے نہ صرف نام نہاد "چین کے خطرے” کو بڑھاوا دیا ہے بلکہ امریکہ کے کچھ ایشیا پیسیفک اتحادیوں کو بھی مدعو کیا ہے جس نے نیٹو کے ایشیا پیسیفک میں قدم جمانے کے لیے امریکہ کی اسٹریٹجک اسکیم کو بالکل بے نقاب کیا ہے۔
اس حوالے سے چین کو بہت زیادہ توجہ دینا ہوگی اور نیٹو کے نام نہاد "منظم چیلنج” کے بیانات کا ایک منظم جواب دینا ہوگا۔ چین کے جائز مفادات کو ٹھیس پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا سخت ردعمل دیا جائے گا، چین اپنی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ کا پختہ عزم رکھتا ہے۔ امریکہ، اپنے چند اتحادیوں کو شامل کرکے خود کو ہمت دے رہا ہے، آخر میں اپنی سازش کو ناکام ہوتے ہی دیکھے گا۔
نیٹو ہمیشہ سے سرد جنگ کی ذہنیت کا شکار رہا ہے حالانکہ جغرافیائی سیاسی تناؤ تقریباً 30 سال پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔ اس نے کبھی بھی کسی چیز سے دشمن بنانا بند نہیں کیا۔ درحقیقت، نیٹو عالمی سلامتی کے لیے ایک "منظم چیلنج” ہے۔نیٹو، یا نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن، ہمیشہ ایک علاقائی دفاعی تنظیم کے طور پر سامنے لائی جاتی رہی ہے۔ تاہم، اس نے کھبی جغرافیائی توسیع کو کبھی نہیں روکا ہے۔ اس نے بڑی تعداد میں جنگیں شروع کی ہیں اور ان میں ملوث رہا ہے، س اتحاد نے ماضی میں معصوم شہریوں کو قتل کیا، عالمی امن کو نقصان پہنچایا اور انسانی آفات کو جنم دیا ہے۔
اپنی مکمل سلامتی کے حصول کے لیے، نیٹو نے اپنی سرحدوں کو مسلسل مشرق کی طرف بڑھایا، جس کی وجہ سے یوکرین کے بحران کا کڑوا پھل نکلا جس نے یورپ اور یہاں تک کہ پوری دنیا کی پرامن ترقی کو شدید متاثر کیا ہے۔
نیٹو کے ماضی کے توسیع پسندانہ عزائم اور سازشیں اور مداخلت کرنے والے سبھی اعمال "جمہوریت کو مستحکم کرنے” اور "استحکام کو بڑھانے، مشترکہ اقدار کو فروغ دینے” کے بھیس میں کیے گئے تھے۔ آج، یہ ایک بار پھر وہی پرانی چال کھیل رہا ہے، جو ایشیا پیسیفک کے خطے میں خلل ڈالنے کی اپنی سازش کو "بین الاقوامی نظم” کے تحفظ اور اس کی اقدار کے تحفظ کا اقدام قرار دے رہا ہے۔ یہاں تک کہ نیٹو کے سابق سیکرٹری جنرل ہاویئر سولانا نے خبردار کیا کہ "عالمی نیٹو” یا "نیٹو پلس” دنیا کو مخالف بلاکوں میں تقسیم کر سکتا ہے۔
پرانے سرد جنگ کے اسکرپٹ کو ایشیا پیسیفک میں نہیں دہرایا جانا چاہیے اور نہ ہی اس وقت یورپ میں ہونے والے انتشار اور تنازعات کو خطے میں ایک بار پھر سے دہرایا جانا چاہیے۔
ہم نیٹو کو سختی سے متنبہ کرتے ہیں کہ اسے چین پر اپنے بے بنیاد الزامات اور اشتعال انگیز ریمارکس کو فوری طور پر روکنا چاہیے، سرد جنگ کی اپنی ختم شدہ ذہنیت اور صفر حاصل کھیل ترک کرنا چاہیے، اور یورپ اور ایشیا پیسیفک خطے کو خراب کرنے کے اپنے خطرناک عمل کا تدارک کرنا چاہیے۔
تاریخ کے رجحان کو پلٹنے کی کوئی بھی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے