موسمیاتی تغیرات کا پاکستان کے آبی ذخائر پر اثرات, تدارک اور حفاظتی اقدامات

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی آلودگی میں اضافے کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیاں واضح طور پر نظر آنا شروع ہو گئی ہیں. ایسا لگتا ہے کہ عام لوگوں نے بھی موسمیات میں تبدیلیوں کو ماننا شروع کیا ہے. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک عام آدمی کا اس پر یقین پختہ ہوتا چلا جا رہا ہے. ایک لحاظ سے یہ ایک اچھی بات ہے کہ عام آدمی کو موسمیاتی تغیرات کے بارے میں آگاہی مل رہی ہے. کیونکہ اس اگاہی کے ذریعے کسی کو اس بات پر راضی کیا جا سکتا ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے.

[pullquote] رپورٹ کے مطابق پاکستان کتنے نمبر پر ہے؟؟؟[/pullquote]

آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنے والے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، جہاں پانی کے استعمال میں دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔چونکہ پاکستان کی آبادی 228 میلئن تک پہنچ چکی ہے، گھریلو اور صنعتی استعمال کے لیے پانی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے. جو اسے پانی کی قلت کی سب سے بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی، پانی کے استعمال میں بد نظمی و بدانتظامی اور ڈیموں کی کمی کی وجہ آبی ذرائع پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے. جس کی وجہ سے پاکستان پانی کے قلعت کا شکار ہوتا جا رہا ہے. پانی کا بحران ایک تشویشناک مسئلہ ہے اور اس کی طرف پوری توجہ اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے. کیونکہ اس کے زراعت پر برے اثرات مرتب ہوں گے. جو انسانی جانوں اور ملکی معیشت کے لیے خطرہ ہیں۔

2022 کی گرم لہر نے ایشیائی ممالک, خاص کر انڈیا اور پاکستان میں اپنے لپیٹ میں لیا ہے. جس کی وجہ سے ایک طرف روزمرہ کے معاملات متاثر ہوئی ہیں تو دوسری طرف ذرعی پیداوار میں خاطر خواہ کمی دیکھی گئی. پاکستان میں تقریباً 23 میلئین ہیکٹر رقبہ زیر کاشت ہے. جس کا 75 فیصد حصے کی آبپاشی کی جاتی ہے اور 25 فیصد حصہ بارانی ہے. پاکستانی آبادی کا تقریباً 70 فیصد لوگ زراعت سے منسلک ہیں. یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لئے زہر قاتل کے طور پر پاکستان پر منڈلا رہا ہے.

[pullquote]پاکستان میں سات قسم کا پانی پایا جاتا ہے .[/pullquote]

برفیلہ پانی, یعنی گلیشئر
دریا اور ندیاں
جھیل
برساتی پانی
زیر زمین میٹھا پانی
زیر زمین نمکین پانی
سمندری پانی

اس میں سمندری پانی اور زیر زمین نمکین پانی کا زراعت یا گھریلو استعمال کیلئے نہیں ہے. لیکن یہ ایک حیبیٹیٹ کی حثیت رکھتا ہے, اس میں سمندری پانی کا معیشت کے ساتھ ایک مظبوت ربط ضرور ہے. جس کو جہاز رانی اور ماہی گیری کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے. اسطرح برفیلے پانی تک بھی ہماری کوئی رسائی نہیں ہے, اور اس کا ڈاریکٹ استعمال ناممکن ہے. لیکن بہتے دریا اس پانی کی مرحون منت ہے. باقی رہتا ہے دریا اور زیر زمین میٹھا پانی. جس کی وجہ سے ہماری زراعت اور معمول کی زندگی کا دارمدار ہے.

ایک سروے کے مطابق 2010 میں پاکستان میں 103.5 میلئن ایکڑ فیٹ پانی دستیاب تھا. جو کہ کم ہو کر 2021 میں 96.3 میلئن ایکڑ فیٹ رہ گیا ہے. ایک میلئن ایکڑ فیٹ 1234 میلئن کیوبک میٹر کے برابر ہے.پائیدار زراعی طرقی کیلئے ضروری ہےکہ آبپاشی کیلئے وافر مقدار میں پانی دستیاب ہو. اس وقت ملک میں پانی جمع کرنے کیلئے 518 چھوٹے بڑے ڈیم بنائے گئے ہیں. جس کی30 روز کیلئے سٹوریج 13.68 میلئن ایکڑ فیٹ ہے. اگر پڑوسی ملک انڈیا سے موازنہ کیا جائے تو ان کے پاس 220 دن کیلئے پانی جمع کرنے کی صلاحیت موجود ہے. ہمیں بھی پائدار زراعت اور ترقی اپنی سٹوریج کیپسٹی بڑھانی ہو گی.

[pullquote]پاکستان میں کل کتنا پانی دریاؤں کی صورت میں دستیاب ہے؟؟؟[/pullquote]

پاکستان میں کل 154 میلئن ایکڑ پانی دریاؤں کی صورت میں دستیاب ہے. جبکہ 59 میلین ایکڑ فیٹ زیر زمین پانی کی صورت میں دستیاب ہے. دریائی پانی میں سے 113.5 میلین ایکڑ فیٹ پانی کو نہروں کی شکل میں زیر استعمال ہے. جبکہ زیر زمین پانی کا تقریباً 50 میلئن ایکڑ فیٹ زیر استعمال ہے. یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ دریائی پانی کا 73.7 فیصد اور زیر زمین پانی کا 84.9 فیصد استعمال میں ہے. جبکہ مجموعی طور پر اس وقت 76.8 فیصد پانی زیر استعمال ہے. اس لحاظ سے ہمارے پاس پانی کا مزید استعمال میں لانے کا ماجن بہت کم ہے. خاص کر زیر زمین پانی کیلئے تو ہمارے پاس بلکل کنجائش نہ ہونے کے برابر ہے.

[pullquote] کتنا پانی کون سے مد میں استعمال ہوتا ہے؟[/pullquote]

اب آتے ہیں کہ کتنا پانی کون سے مد میں استعمال ہوتا ہے. پاکستان میں پانی کا زیادہ تر حصہ, یعنی 70 فیصد زراعت میں استعمال ہوتا ہے. جبکہ 22 فیصد انڈسٹری میں اور صرف 8 فیصد گھریلو استعمال میں ہے. اس لحاظ سے ہمیں زراعت میں استعمال ہونے والے پانی میں توازن لانا پڑے گا.

ایک اندازے کے مطابق ہمیں 2025 تک پانی کے دستیابی میں تناؤ کا سامنا ہو گا. جس کا زراعت پر تھوڑا بہت اثر پڑھ سکتا ہے لیکن 2035 کے بعد ہمیں پانی کی شدید کمی کا سامنا ہوگا. اور 2050 کے بعد ہمارے پاس فی کس پانی کی دست یابی 500 مکعب فی کس سے نیچے گر جائے گی. اور یہ بہت سخت وقت ہوگا.

[pullquote] کونسا صوبہ زیادہ متاثر ہو سکتا ہے؟[/pullquote]

دوسراسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کونسا صوبہ زیادہ متاثر ہو سکتا ہے. اس وقت اگر دیکھا جائے تو کل پانی کا 77 فیصد حصہ پنجاب میں اور 14 فیصد سندھ میں زیر استعمال ہے. جبکہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں بلترتیب 5 اور 4 فیصد پانی دستیاب ہے. اس لحاظ سے یہ دو صوبے, یعنی خیبر پختونخواہ اور بلوچستان بہت زیادہ متاثر ہوں گے. تیسرے نمبر پر سندھ اور چھوتے نمبر پر پنجاب کا صوبہ ہے.

[pullquote]ہم پانی کی قلت کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟؟؟[/pullquote]

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم پانی کی قلت کی طرف کیوں جا رہے ہیں.

اس کی ایک بڑی وجہ آبپاشی کے دوران پانی کا ضائع ہونا ہے. ایک اندازے کے مطابق 50 فیصد پانی ترسیل اور آبپاشی کے دوران ضائع ہو جاتا ہے.

دوسری بڑی وجہ بد انتظامی اور پانی کے تقسیم کا ناقص نظام ہے. مناسب قانون سازی اور موثر پالیسی نہ ہونے, یا اس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہم پانی کی قلت کی طرف جا رہے ہیں.

تیسری بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے. جس کی وجہ سے ایک طرف درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے. اور برف تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے گلیشئر کم ہوتے جا رہے ہیں. تو دوسری طرف بارشوں میں کمی آرہی ہے.

[pullquote]ہمیں کیا کرنا چاھیئے؟؟؟[/pullquote]

پانی کا بحران کوئی افسانہ نہیں بلکہ ایک ڈراونا حقیقت ہے۔ اس کے لیے فوری اور موثر انتظام کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسا نہ کرنے سے انسانی زندگیوں اور ملکی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

1.سب سے پہلے تو یہ کہ باقی دنیا کا تقریباً 70 فیصد پانی زرعت میں استعمال ہوتا ہے اور پاکستان میں تقریباً 90 فیصد ممالک کا پانی زراعت میں میں استعمال ہوتا ہے۔ ہمیں اس کو کم کرنا ہو گا. اور وہ تب ہی ممکن کہ جو پچاس فیصد پانی ضائع ہو رہا ہے, اس کی روک تھام ہنگامی بنیادوں پر شروع کی جائے.

2.دوسرا یہ کہ اداریاتی بد انتظامی کیلئے مناسب اقدامات کی جائے. پانی کے دانستہ طور پر ضائع کرنے سے بچانے کیلئے مناسب قانون سازی کی جائے. یہ تب ممکن ہے جب ایک مناسب قابل عمل پالیسی مرتب کی جائے. اس کے علاوہ پانی کی مناسب قیمت مقرر کی جائے. تاکہ پانی کے ذخائر بڑھانے کیلئے مناسب رقم ملتی رہے.

3.تیسری یہ کہ پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیم بنائیں جائیں. اس وقت پاکستان بڑے اور درمیانی سائز کے ڈیموں میں دلچسپی رکھتا ہے. حالانکہ اس کو چھوٹے ڈیم بنانے چاھیئے اور زیادہ بنانے چاھے. کیونکہ اس کیلئے بڑی رقم بھی نہیں چاھیئے اور یہ جلد مکمل ہو کر فوری طور پر معیشت کو مستحکم کریں گے.

4.چوتھا یہ کہ ہم بارش کے پانی کو ضائع یونے سے بچانے کیلئے اقدامات کریں. آج کل پوری دنیا میں رین واٹر ہارویسٹنگ یعنی بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی پر کام ہو رہا ہے. پاکستان نے 2010 سے اس پر کام شروع کیا ہے. پہلا سسٹم اسلام آباد میں فیصل مسجد کیلئے 2010 میں نمونے کے طور پر لگایا گیا تھا.

اس سلسلے میں کسی حد تک کام جاری ہے. لیکن سست روی کے ساتھ پاکستان کونسل آف ریسرچ این واٹر کے مطابق چولستان میں 26,000 مربع کلومیٹر پر پھیلے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام کا ایک نیٹ ورک تیار کیا گیا ہے. جس میں 440 ملین گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے ساتھ خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ 110 آبی ذخائر تیار کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 1405 ملین گیلن سالانہ ڈسچارج کے ساتھ 20 سائنسی طور پر ڈیزائن کیے گئے گہرے ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں جہاں زمینی پانی انسانی اور مویشیوں کی آبادی کے پینے کے لیے قابل استعمال ہے۔

اس طرح مارچ 2022 میں راولپنڈی کے دی پارک اینڈ ہاریٹیکلچر اتھارٹی نے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے ایک پراجیکٹ پایا تکمیل کو پہنچایا. جس میں زیر زمین تین لاکھ گیلن بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ایک ٹینک بنایا ہے. جو کہ آبپاشی کیلئے استعمال میں لایا جائے گا.

مندرجہ بالا اعداد و شمار کو دیکھ اندازہ ہوتا ہے, کہ ہم بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے پر کام تو ہو رہا ہے, لیکن اس نوعیت کا نہیں ہے جو ہمیں بڑے پیمانے پر آنے والے پانی کے بحران سے بچا لیں. اس پر تیزی سے مزید کام کرنا ہوگا.

5. پانچواں, ہمیں گرے واٹر ہاروسٹنگ یعنی نیم آلودہ پانی کی ذخیرہ اندوزی پر بھی کام کرنا ہوگا. اس وقت پاکستان کے بڑے شہروں سے بہت سارا پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے دریاوں میں چھوڑا جاتا ہے. جس کی وجہ سے ہمارے دریا آلودہ ہوتے جا رہے ہیں. اس پانی پر اگر کام کی جائے تو بہت سے فائدہ سامنے آسکتے ہیں. ایک تو یہ کہ ہمارے دریا آلودگی سے بچ جائیں گے. دوسرا یہ کہ آبپاشی کیلئے پانی مل جائے گا. تیسرا یہ کہ زمینی پانی پر بوجھ کم پڑ جائے گا.

اس سلسلے میں اس سال جامع پشاور کے شعبہ ماحولیات نے نیوکلئر انسٹیٹیوٹ فار فوڈ اینڈ ایگریکلچر(نیفا ) کے تعاون سےدو پی ایچ ڈی لیول کی سٹڈیز مکمل کئے ہیں. جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پشاور سے نکلنے گندے پانی کو تھوڑا سا ٹریٹمنٹ دے کر اس کو زراعت کیلئے قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے.

[pullquote] پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس ،شعبہ ماحولیات: جامع پشاور [/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے