انسان کی اچھی سوچ ہمیشہ اسے زندہ رکھتی ہے

پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ کی میں نے ایک بہترین بات پڑھی وہ اپنے بچپن کا قصہ سنا رہی تھی وہ کہتی تھی کہ میں چھوٹی تھی میں نے اپنی اماں سے عید پر غرارہ بنانے کی فرمائش کی انہوں نے میری یہ فرمائش پوری کی اور میرے لئے بہترین میری پسند کا غرارا سلوایا ہم سب رشتے دار ناشتے پر اکٹھے ہوئے ناشتہ ہمارے ہاں اس زمانے میں یعنی عید والے دن کا ناشتہ ایک جشن تھا میں بھی تیار ہو کر والدین کے ہمراہ ناشتے پر پہنچی ناشتہ کرنے کے بعد ہم سب بچے کھیلنے کے لیے باہر جانے لگے اماں نے مجھے پیار سے بلایا اور کہا کہ کپڑے بدل لو ، میں نے ان کی بات مان لی اور کپڑے تبدیل کر کے کھیلنے چلی گئی میرے لیے کھیلنا اہم تھا۔ مختصر اس قصے میں ان کا اہم پیغام یہ تھا کہ لوگوں میں لوگوں کی طرح جیو ۔۔۔۔

یہ قصہ پڑھ کر میں ماضی کی یادوں میں کھو گئی میری طالب علمی کا زمانہ تھا میں سکول کی طالبہ تھی ہم روز شام کو محلے کی ہم عمر لڑکیاں بی بی جان کے گھر جاتے تھے بی بی جان بہت پڑھی لکھی خاتون تھیں کالج کی پروفیسر تھی ان کے شوہر بھی پروفیسر تھے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی روز شام کو محلے کی خواتین لڑکیاں بچے ان کے پاس اکھٹےہوتے تھے وہ سب کو لیکچر دیتی تھی بہت مزہ آتا تھا ان کی باتیں سن کر سب ان کے دیوانے تھے پورے محلے میں بی بی جان کا ہی چرچا تھا، وہ تھی ہی اتنی نرم مزاج باوقار ملنسار ہر ایک سےاس کی عمر کے مطابق بات کرتی تھی میں نے بھی بہت کچھ سیکھا تھا بی بی جان سے گھر داری کفایت شعاری سلیقہ غرض ہر وہ سلیقہ جو عورت کو بہترین بناتا ہےسیکھا.

بی بی جان بہت سادہ رہتیں تھیں ، کپڑے وہ بہت اچھے پہنتیں تھی مگر سادگی لئے ہوئے بس ایک چیز جو میں نے بہت محسوس کی تھی وہ یہ کہ ان کے دونوں ہاتھوں کی درمیان کی انگلیوں میں ایک انگوٹھی ہوتی تھی جو میں ہر ہفتے الگ الگ دکھتی تھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہیں انگوٹھیاں بہت پسند ہیں اور ان کے پاس سونے کی انگوٹھیاں بہت زیادہ ہیں. وقت آگے بڑھ رہا تھا اور میں کالج میں آگئی، مجھے کالج کی طرف سے ایک اسائنمنٹ ملا ، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اس لئے بی بی جان کے پاس آئی بی بی جان مجھے سمجھانے لگی مگر میری تو جیسے نگاہیں ان کے ہاتھوں پر ٹک گئی تھیں، مجھے ان کی انگوٹھیاں بہت پیاری لگ رہی تھیں، خاص طور سے بائیں ہاتھ کی درمیان کی انگلی میں پہنی انگوٹھی مجھے بہت اچھی لگ رہی تھی، شاید بی بی جان نے یہ محسوس کر لیا تھا انہوں نے فورا انگوٹھی اتاری اور کہا لو آپ پہن لو میں نے کہا نہیں نہیں آپ کی یہ بہت قیمتی انگوٹھی ہے وہ ہنسنے لگی اور کہا قیمتی چیزیں نہیں انسان ہوتے ہیں میں نے کہا یہ تو سونے کی ہے آپ مجھے کیوں دے رہی ہیں وہ بولی سونے کی نہیں ہے اگر ہوتی بھی تو بھی میں آپ کو دے دیتی میں نے پوچھا بی بی جان آپ کے پاس بہت سارا سونا ہے میرا جواب دینے کے بجائے وہ کہنے لگیں دیکھو انسان کو خود سونے کا بننا چاہیے یعنی اتنا قیمتی کیونکہ ہمارے ہاں سونا قیمتی چیزوں میں شمار ہوتا ہے اور لوگ اس سونے کی حفاظت کرتے ہیں سنبھال کے رکہتے ہیں کیوں نہ انسان خود کو اتنا قیمتی بنا لے میں نے کہا وہ کیسے وہ بولیں اتنا قیمتی یعنی خلق خدا کا خیال رکھو اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ دو میں ایک دم بولی اور اگر خود کو تکلیف ملے تو کیا کریں۔۔؟

وہ مسکراتے ہوئے بولیں اللہ پر چھوڑ دو وہ بہترین مرہم رکھنے والا ہے، جب ہم سب کچھ اپنے اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں تو وہ ہمارے لیے بہت بہترین کرتا ہے ہمیں ہمیشہ اللہ کی رضا میں راضی رہنا چاہیے اور جو بھی کریں اللہ کی قربت کے لیے کریں ۔۔۔۔۔مجھے انگوٹھیاں بہت پسند ہیں مگر میں آرٹیفیشل لیتی ہوں کیونکہ میرے پاس ہر طبقے کی خواتین آتی ہیں اور میں کسی کو بھی احساس کمتری میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی.. میں نے گھر بھی اسی لیے سادہ رکھا ہے یہ انسان کی سطی سوچ ہے کہ چیزوں کے ذریعہ لوگوں پر اپنی عمارت ظاہر کریں قیمتی لباس زیورات قیمتی ترین گھر کی آرائش ان چیزوں کے ذریعہ خود کو قیمتی بنانے والے دراصل خود بے قیمت لوگ ہوتے ہیں جن کو ان بے جان چیزوں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ذرا سوچو یہ بے جان چیزیں بھلا کیسے ہماری شان بڑھا سکتی ہیں جو ہماری محتاج ہیں ہم جو اشرف المخلوقات ہیں ہم سے زیادہ قیمتی تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔

آج بی بی جان ظاہری دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں مگر مجھ سمیت ہر ایک کے دل میں وہ زندہ ہیں، میں جب بھی میکے جاتی ہوں اور محلے کی دیگر خواتین سے ملاقات ہوتی ہے یا اپنی سہیلیوں سے کہ جب وہ بھی میکے آتی ہیں تو کسی نہ کسی طرح بی بی جان کا ذکر ضرور نکلتا ہے ہم میں سے ہر ایک نے بی بی جان سے کچھ نہ کچھ سیکھا تھا اور اپنی زندگیوں کو بہترین بنایا تھا واقعی بی بی جان بہت قیمتی انسان تھیں ۔انسان کی اچھی سوچ ہمیشہ اسے زندہ رکھتی ہے۔ ❤

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے