اختر بلوچ نے کہا کہ میں ”تقریباً ”استاد ہوں

تاریخ تو یاد نہیں لیکن سال 2011 میں اختر بلوچ سے پہلی مرتبہ فون پر بات ہوئی ۔ ان سے کوئی تعارف نہیں تھا لیکن پہلی دفعہ ہی کال پر انہوں نے ایسے گفتگو کی کہ لگا جیسے ہمیشہ سے جانتے ہوں۔ ہم نے سندھ اور سرائیکی علاقوں کے لیے ریڈیو مینٹورز کی ایک ٹیم بنانی تھی۔ طے ہوا کہ اختر بلوچ سے ملتان میں ملاقات ہو گی۔

مشال (ٹیم لیڈ) اور میں نے بلوچ کا، کام کی نوعیت کے حوالے سے انٹرویو لیا۔ انہوں نے بے دھڑک ہو کر بتایا کہ ریڈیو میں تجربہ کچھ خاص نہیں ہے لیکن صحافت کی خیرخبر ہے ۔ گفتگو کے آخر میں کہنے لگے کہ سائیں ریڈیو میں آپ آگے آگے اور ہم پیچھے پیچھے ۔
اختر ٹیم کا حصہ بنے ۔ اور خبر اور سکرپٹ پر اپنے جاندار تجربے کی وجہ سے خود کو ایک بہترین مینٹور منوایا۔ پروفیشنل تعلق آہستہ آہستہ دوستی میں بدل گیا ۔ فون پر وقتاً فوقتاًا بات چیت رہتی۔ وہ محبت کی وجہ سے ہمیشہ مجھے” استاد محترم ”بلاتے ۔

اختر بلوچ جان محفل تھے ۔ لکھنا تو باکمال تھا لیکن جب گفتگو کرتے تو واقعات کے تار ایسے ملاتے ۔ کہ واقعہ فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے چلنے لگتا۔ ایسا ممکن نہیں تھا کہ اختر محفل میں ہوں اور جبڑے ہنسنے ہنسانے کی وجہ سے دکھنے نہ لگیں۔

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ عید پشاور میں کرنی پڑی ۔ جن کے ہاں مہمان تھا انہوں نے بتایا کہ بعد نماز عید ہم حجرے میں بیٹھتے ہیں۔ اور لوگ وہاں ہی عید ملنے آتے ہیں .اب ہر کوئی آتا اور جتنے افراد بیٹھے ہوتے ۔ سب کھڑے ہو جاتے۔ اور سب سے گلے ملتے۔ میں بھی سب کے ساتھ کھڑا ہو جاتا۔ اور ہر کوئی مجھے گلے لگاتا ۔ اور کہتا "اختر دہ مبارک شاہ”

کہتے ہیں میں دوپہر تک یہی سوچتا رہا کہ ان سب کو میرا نام کیسے معلوم ہے۔ پھر خود ہی جواب سوچا کہ چونکہ پشتون مہمان نواز ہوتے ہیں۔ اس لیے شاید میرے میزبان نے سب کو میرے بارے میں بتا دیا ہو گا۔ کھانے پر استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ عید کو پشتو میں اختر کہتے ہیں.

اختر بلوچ سے جوں جوں ملاقاتیں ہوتی رہیں ان کی ذات کا ایک نیا صٖفحہ کھلتا گیا۔ جب انہوں نے اپنی کتاب تیسری جنس تحفے میں دی ۔ تو معلوم پڑا کہ وہ ایک بہتریں محقق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کتاب پر تحقیق کے لیے انہوں نے کئی دن خواجہ سراوں کے ساتھ رہ کر گزارے ۔ تاکہ ان کی اصلی زندگی کا قریب سے مشائدہ کر سکیں۔ تیسری جنس ٹرانسجینڈر کے حوالے سے اردو کا انسائیکلو پیڈیا ہے ۔

اعلی ظرف اور کام کے بارے اتنے پابند تھے کہ ایک مرتبہ دوران تربیت ہم نے جلوزئی نوشہرہ کیمپ کا دورہ کرنا تھا۔ انہوں نے کام ختم ہونے تک ہمیں اطلاع نہ دی کہ کراچی سے ان کی والدہ کے انتقال کی خبر آ چکی ہے۔ میں نے افسوس کے ساتھ استفسار کیا کہ آپ نے بتایا ہوتا تو ہم دورہ کینسل کر دیتے یا کسی اور کو ساتھ لے آتے تو کہنے لگے کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری وجہ سے کام کا حرج ہو۔ اب کام ختم ہو گیا ہے تو میں رخصت ہوتا ہوں.

اختر سے گزرے دسمبر میں آخری ملاقات کراچی پریس کلب ناشتے پر ہوئی۔ بتانے لگے کہ یونیورسٹی میں تقریبا استاد ہوں۔ میں نے کہا کہ تقریبا کیسے ۔ کہنے لگے کہ میری کلاس میں استادی کم مباحث زیادہ ہوتے ہیں۔ طلبا و طالبات کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھتا ہوں تا کہ وہ اپنے اندر کی بات کلاس میں بول سکیں۔ پھر کہنے لگے کہ کراچی اور حیدرآباد کے کوٹھوں پر ایک کتاب لکھ رہا ہوں۔ تحقیق اور اولین مسودہ مکمل کر لیا ہے ۔ لیکن ابھی کافی کام باقی ہے۔

میں نے پوچھا کہ آپ ہمیشہ حساس اور ممنوعہ موضوعات کا انتخاب ہی کیوں کرتے ہیں۔ کہنے لگے کہ استاد محترم ۔ آواز اٹھانے کا لطف ہی تب آتا ہے جب وہ محروم طبقے کے لیے اٹھائی جائے ۔ جن کو لوگ نفرت سے کھسرے اور کنجریاں کہتے ہیں ۔ ان کی کیا کہانیاں ہیں وہ لوگوں کو بتانا ضروری ہے ۔

ایک مرتبہ جاوید چوہدری صاحب ایک پروگرام میں کراچی میں یہودی قبرستان کا ذکر کر رہے تھے۔ میں نے اختربلوچ کا لکھا ہوا کالم کراچی میں یہودی قبرستان پڑھا ہوا تھا۔ جاوید چوہدری صاحب نے پورا کالم ایسے بیان کیا جیسے ان کی اپنی تحقیق ہو۔ میں نے اختر بلوچ کو کال پر بتایا کہ آج تو آپ کی تحقیق چوری ہو گئی ۔ تو ہنس کر کہنے لگے کہ میں اپنی بائیک پر تھا ۔ ٹریفک سگنل پر رکا ۔ تو ایک بھکاری ٹائپ کا بندہ دس روپے میں ایک کتابچہ بیچ رہا تھا۔ میری نظر پڑھی تو اس پر ٹائٹل لکھا تھا ۔ کراچی میں یہودی قبرستان ۔۔ اور مصنف میں کسی حکیم کا نام درج تھا۔ اور پھر ہنس کر بات ختم کر دی۔

یہ ان کی وسیع القلبی تھی کہ ان کی کئی تحریروں کو لوگوں نے کاپی پیسٹ کر کے چھاپا لیکن اختر نے کبھی بھی اس بات پر برا نہ مانا۔
اختر بلوچ میں یہ خوبی تھی کہ ہمیشہ تعریف کھل کر کرتے۔ ایک دفعہ اعزاز سید نے اسلم بیگ پر سوالات پر سوالات کیے اور اسلم بیگ بھاگنے لگے۔ اعزاز کی اس ۔۔حرکت ؛ پر اختر اتنے محظوظ ہوئے کہ مجھے کہا کہ اعزاز کا نمبر کہیں سے تلاش کر دیں ۔ میں نے اسے خراج تحسین پیش کرنا ہے ۔ انہوں نے اعزاز کو کال کی اور کھل کر تعریف کی ۔

مجھے کئی دفعہ کہا کہ پاکستان میں ایف ایم ریڈیو کی تاریخ پر کتاب لکھیں۔ اس حوالے سے مجھے زیڈ اے بخاری کی کتاب سرگزشت تحفے میں دی اور اس پر لکھا ۔۔

استاد محترم امجد قمر امید ہے آپ اس کتاب کو پڑھ کر آپ اپنے تجربات کی روشنی میں اس سے بہتر کتاب لکھ سکتے ہیں ۔ کیونکہ اس وقت پاکستان میں ایف ایم نہیں تھا ۔ اور ہم جیسے شاگرد بھی ۔ عمر رسیدہ ۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے