کیا اسٹیبلشمنٹ دوبارہ کبھی عمران خان پر بھروسہ کر پائے گی؟

اسلام آباد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے نیوٹرلز پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ شہباز شریف کی زیر قیادت اتحادی حکومت کو ہٹایا جائے۔

اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کی نیوٹرلز کو ہدف بنا کر ان سے اپنی بات منوانے کی حکمت عملی کارگر ثابت ہوگی یا نہیں؟ کیا اسٹیبلشمنٹ اُن پر دوبارہ کبھی اعتماد کرے گی یا نہیں؟ نیوٹرلز کا اصرار ہے کہ وہ غیر جانبدار ہیں اور ان کا کوئی ارادہ نہیں کہ سیاسی جوڑ توڑ کی ماضی کی غلطیاں دوبارہ دہرائیں لیکن عمران خان نے جمعرات کو واضح انداز سے ایک مرتبہ پھر انہیں مداخلت کی دعوت دی۔

ساتھ ہی انہوں نے ایک مرتبہ پھر نیوٹرلز کو ہزیمت کا شکار کرنے کی کوشش کی اور کچھ الزامات دہرانے کے ساتھ کچھ نئے الزامات بھی عائد کیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آپ کے پاس اب بھی اپنی پالیسی کا جائزہ لینے کیلئے وقت ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے کرپٹ لوگوں کی حمایت کی ہے۔ اپنی حکومت کے خاتمے سے لیکر عمران خان نیوٹرلز پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ اتحادی حکومت کو ہٹایا جائے تاکہ اقتدار تک رسائی کیلئے ان کا راستہ ہموار ہو سکے۔ عمران خان حکومت میں بیٹھے اپنے سیاسی مخالفین سے بات کرنا نہیں چاہتے۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ سے انہیں جو کچھ چاہئے وہ ان کی سیاست کیلئے موزوں ہے۔

گزشتہ چار ماہ کے دوران انہوں نے اپنی توقعات ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ کر رکھی ہیں اور اس مقصد کیلئے وہ ہر ممکن چال استعمال کر رہے ہیں جس میں اسٹیبلمشنٹ پر دبائو ڈال کر اسے اپنی اشاروں پر نچانا شامل ہے۔ جمعرات کو انہوں نے نیوٹرلز کو یاد دلایا کہ آئی ایس آئی اُنہیں کرپٹ لوگوں کے کیسز کے بارے میں بتاتی رہی ہے۔

تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آئی ایس آئی میں سے کون لوگ انہیں یہ سب بتاتے رہے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر نیوٹرلز پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ہی چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر بندہ لگانے کیلئے نام دیا تھا اور ضمانت دی تھی کہ یہ شخص مسئلہ نہیں کرے گا۔

عمران خان کو] حکومت میں لانے والوں اور بعد میں اس حکومت کی ہر طرح سے مدد کرنے والوں پر عمران خان کی ایسی تنقید انہیں ناقابل بھروسہ شخص بناتی ہے۔

ان کے حالیہ بیانات کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ والوں کے کرپشن کیسز کے حوالے سے انہیں آئی ایس آئی والے بتاتے تھے اور یہ بھی سکندر سلطان راجہ کا نام بحیثیت چیف الیکشن کمشنر ان لوگوں نے دیا تھا، مبینہ طور پر ایسے شخص کے بارے میں ہیں جو حالیہ عرصہ تک عمران خان کے من پسند ہوا کرتے تھے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران عمران خان نے دکھا دیا ہے کہ وہ اپنے فائدے اور دوسرے کے نقصان کیلئے ہر طرح کی توجیہات پیش کر سکتے ہیں چاہے اُن میں وہ لوگ ہی شامل کیوں نہ ہوں جنہوں نے عمران خان کو قانونی طور پر یا غیر قانونی طور پر ماضی کی طرح فائدہ پہنچایا ہو۔

آزاد مبصرین سمجھتے ہیں کہ چاہے اسٹیبلشمنٹ اپنے ماضی کے متنازع کردار کی طرف واپس کیوں نہ لوٹ آئے، عمران خان وہ شخص نہیں بن پائیں گے جن پر بھروسہ کیا جا سکے۔

کہا جاتا ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی ایک بڑا سبق ہیں۔ عمران خان کے بے لگام انداز سے اسٹیبلشمنٹ پر حملے ان کی اپنی پارٹی کے رہنمائوں کیلئے سنگین تشویش کا باعث بن چکے ہیں لیکن پارٹی کے لوگ بھی بے بس ہیں۔ وہ آپس میں اس بات پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو کیسے روکا جائے، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان سے انتہائی محتاط رہنے کو بھی کہتے ہیں۔

ق لیگ کے رہنما، پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے مونس الٰہی بھی انہیں خبردار کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ پر عوامی جلسوں اور میڈیا انٹرویوز میں تنقید نہ کریں لیکن بدلے میں ایسے تمام افراد کو ’’اپنے لوگ‘‘ کہہ دیا جاتا ہے۔

حال ہی میں بیچارے پرویز الٰہی کو عمران خان کی شہباز گل کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد پولیس کی حراست میں نہ دینے کی خواہش پر ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کیلئے ایک بھیانک خواب کے جیسی ہے۔

پرویز الٰہی اس صورتحال کے خواہاں نہیں تھے جو پیدا ہوئی۔ لیکن عمران خان کے دبائو کی وجہ سے پروی الٰہی نے شہباز گل کے بیان کو مسترد کرنے کے باوجود کچھ با اثر لوگوں سے رعایت مانگنا پڑ گئی جنہوں نے پرویز الٰہی سے کہہ دیا کہ قانون پر عمل کریں۔ عمران خان کو پرویز الٰہی کی واسطے داریوں کا علم ہے۔

پی ٹی آئی میں پرویز خٹک بھی ایسے ہی شخص ہیں۔ پرویز الٰہی اور پرویز خٹک دونوں خود کو ہزیمت آمیز صورتحال میں پھنسا دیکھ رہے ہیں۔

پرویز الٰہی چاہتے تھے کہ اُن کی تمام تر توجہ گورننس اور کارکردگی پر رہے لیکن انہیں غیر ضروری ایشوز میں گھسیٹ لیا گیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے