ممنوعہ فنڈنگ کیس : ہائی کورٹ کا عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

اسلام آباد: ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

ممنوعہ فنڈنگ کیس میں فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں عمران خان کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ عدالت میں دلائل دیتے ہوئے وکیل نے کہا کہ عمران خان کے 2 شریک ملزمان نے ضمانت کے لیے بینکنگ کورٹ سے رجوع کیا، بینکنگ کورٹ اور سپیشل جج سینٹرل دونوں عدالتوں نے سننے سے معذرت کی۔

وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کی گرفتاری کا خدشہ ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے خیال میں ممنوعہ فنڈنگ کیس کون سی عدالت میں جانا چاہیے؟۔ جس پر وکیل نے جواب دیا ممنوعہ فنڈنگ کیس اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت جانا چاہیے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عمران خان کہاں ہیں ؟ پیش کیوں نہیں ہوئے ؟ جس پر وکیل نے کہا کہ عدالت حکم کرے تو عمران خان فوری عدالت پیش ہوجائیں گے۔ بنی گالہ میں پولیس نے عمران خان کے گھر کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔اسلام آبادہائیکورٹ نے عدالت پیشی تک عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ انتظامیہ عمران خان کو ہراساں بھی نہ کرے۔

اس موقع پر عمران خان کی ہائی کورٹ میں ممکنہ پیشی سے قبل سیکورٹی کے سخت انتظامات کرلیے گئے۔

قبل ازیں ممنوعہ فنڈنگ کیس میں فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان نے ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، اس سلسلے میں دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایف آئی اے نے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے ۔ عدالت حفاظتی ضمانت منظور کرے تاکہ متعلقہ عدالت میں پیش ہو سکیں۔ عمران خان کی درخواست میں آج ہی سماعت کی استدعا کی گئی تھی۔

دریں اثنا اسسٹنٹ رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ اسد خان کی جانب سے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر 3 اعتراضات عائد کیے گئے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے بائیو میٹرک نہیں کرائی، ایف آئی آر کی غیر مصدقہ نقل لگائی گئی ہے جب کہ خصوصی عدالت میں جانے سے پہلے ہائی کورٹ کیسے آسکتے ہیں۔بعد ازاں عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اعتراضات کے ساتھ ہی درخواست پر سماعت کی استدعا کی، جسے منظور کرتے ہوئے درخواست سماعت کے لیے مقرر کرلی گئی تھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے