تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے گرفتار کرلیا

[pullquote]پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی گرفتار، جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے[/pullquote]

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما اور سینیٹر اعظم سواتی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اعظم سواتی کوایف آئی اے سائبر کرائمز کی جانب سے رات گئے حراست میں لیا گیا ہے ۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو ان کے متنازعہ ٹوئٹس پر گرفتار کیا گیا ہے، اعظم سواتی پر اداروں کے خلاف بیان دینے اور لوگوں کواشتعال دلانےجیسےالزامات ہیں۔

ذرائع کے مطابق اعظم سواتی کا نام ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بھی شامل ہے اور وہ سائبر کرائم کے بھی ایک کیس میں زیر تفتیش رہے تاہم اب تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ انہیں کس کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اعظم سواتی کے اہل خانہ نے وکلا سے رابطہ کرلیا ہے اور گرفتاری کے بعد ان کو جس مقام پر لے جایا گیا ہے اس حوالے سے رابطے کیے جارہے ہیں۔

[pullquote] اعظم سواتی اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں پیش[/pullquote]

اعظم سواتی کو سینئر سول جج شبیر بھٹی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے جہاں ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

دوسری جانب عدالت میں اعظم سواتی کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کو صرف سیاسی بنیادوں پر کو گرفتار کیا گیا ہے، اعظم سواتی پر رات گئے بدترین تشدد کیا گیا۔

عدالت نے ایف آئے اے کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ سناتے ہوئے اعظم سواتی کا 2 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

مزید برآں عدالت نے حکم دیا کہ اعظم سواتی کا فوری طورپر پمز اسپتال میں میڈیکل کرائیں جس کے بعد ایف آئی اے اعظم سواتی کو لے کر پمز اسپتال روانہ ہوگئی ہے۔

[pullquote]’ہمیں پتا ہے ہم آپ سے کمزور ہیں‘، اعظم سواتی کی گرفتاری پر پی ٹی آئی رہنماؤں کا رد عمل[/pullquote]

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پارٹی رہنما اعظم سواتی کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ‘سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری اور پھر انہیں ننگا کر کے مارنا، وہ ایک بزرگ ہیں، نانا اور دادا ہیں، ایک لمحے کو سوچیں ان کی فیملی پر کیا گزر رہی ہوگی؟

انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں پتا ہے ہم آپ سے کمزور ہیں کچھ نہیں کر سکتے، اس لیے آپ سے استدعا ہے کہ مجھ سمیت پارٹی کے کسی جوان کو پکڑ لیں لیکن بزرگ کو ننگا نہ کریں’۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ‘اعظم سواتی پر تشدد کی خبریں پریشان کن ہیں، سیاسی قیدیوں پر تشدد پاکستان میں ایک نیا معمول بن گیا ہے’۔

دوسری جانب شیریں مزاری نے بھی اعظم سواتی کی گرفتاری کی سخت مذمت کی اور حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ‘صرف ٹویٹس کے لیے!’۔

انہوں نے مزید کہا ‘سنجیدگی سے یہ اب جمہوریت کا خاتمہ ہے جس طرح سے امپورٹڈ حکومت اور ان کے لوگ طاقت کا غلط استعمال کرکے برتاؤ کر رہے ہیں’۔

پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے بھی اعظم سواتی کی گرفتاری پر ردعمل دیا اور بولے ‘مریم کو اس کی چوری کے جرم میں چھوڑ دیا گیا ہے، شہباز اور حمزہ اب مجرم نہیں رہے، اور ایک سینیٹر ٹوئٹ میں اپنی رائے کا اظہار نہیں کرسکتا’۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے