سندھ حکومت کو عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا کہ عوام کے لیے کام ہو رہا ہے :سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات طلب کرلیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا کہ عوام کے لیے کام ہو رہا ہے۔

سیلاب متاثرین کو سہولیات دینے سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست پر سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے سندھ حکومت سے سیلاب زدگان کے لیے امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات طلب کرلیں جس پر سندھ حکومت نے جواب داخل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی۔

سپریم کورٹ نے پی ڈی ایم اے اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے بھی جواب طلب کرلیا اور کہا کہ سیلاب انتظامی اختیارات کا نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے، سندھ ہائی کورٹ نے عوامی مفاد میں احکامات جاری کیے تھے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے شہری کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت امدادی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گی، سندھ حکومت کو عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا کہ عوام کے لیے کام ہو رہا ہے۔

سیلاب متاثرین کے وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے دور میں بھی جواب کے لیے ایک ہفتے کا وقت مانگا جا رہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں لوگ مر رہے ہیں۔

اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ جواب آنے میں تاخیر سے کوئی موت نہیں ہو رہی۔

بعدازاں عدالت نے مزید سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے