’وعدے پورے نہیں کر سکی‘ برطانوی وزیراعظم لز ٹرس 45 دن بعد مستعفیٰ

برطانیہ کی نئی وزیر اعظم لز ٹرس نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے دو ماہ کے اندر ہی یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئی ہیں کہ وہ اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

اپنی سرکاری رہائش گاہ کے باہر ذرائع ابلاغ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے شاہ چارلس کو بتا دیا ہے کہ وہ حکمران جماعت، کنزرویٹو پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہو رہی ہیں۔

لِز ٹرس کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے وزارت عظمیٰ ‘شدید معاشی اور بین الاقوامی عدم استحکام، کے دنوں میں سنبھالی تھی، تاہم ‘میں سمجھتی ہوں کہ میں اس وہ وعدے یا مینڈیٹ پورا نہیں کر سکتی جس کے لیے کنزرویٹو پارٹی نے مجھے منتخب کیا تھا۔’

ذرائع ابلاغ کے درجنوں `نمائندوں کے سامنے ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایک عرصے تک پیچھے رکھا گیا اور ان کی جماعت نے اس چیز کو ‘بدلنے کا مینڈیٹ’ دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے توانائی (بجلی، گیس) کے بِلوں میں کمی کی اور نیشنل انشورنس میں بھی رعایت دی اور ‘کم ٹیکس اور زیادہ ترقی’ کی سوچ کو فروغ دیا۔

لِز ٹرس نے کہا کہ ‘میں تسلیم کرتی ہوں ۔ ۔ موجودہ صورت حال میں میں اس مینڈیٹ کو پورا نہیں کر سکتی جس کے لیے مجھے پارٹی نے منتخب کیا تھا۔’

لِز ٹرس وزارت عظمیٰ پر محض 45 دن تک فائز رہیں، جو کہ برطانیہ کی تاریخ میں کسی بھی وزیر اعظم کی مختصر ترین مدت ہے۔ ان کے بعد سابق وزایر اعظم جارج کینِنگ آتے ہیں جو 119 دن تک وزیراعظم رہنے کے بعد سنہ 1827 میں وفات پاگئے تھے۔

لِز ٹرس کی مشکلات اس وقت شروع ہو گئی تھیں جب 23 ستمبر کو ان کے منتخب کردہ پہلے وزیر خزانہ کواسکی کوارٹِنگ نے مِنی بجٹ پیش کیا تو برطانیہ کے بازار حصص اور معیشت میں کھلبلی مچ گئی۔

اس کے بعد سے کنزرویٹِو پارٹی میں بے چینی بڑھنے لگی جس نے جلد ہی پارلیمانی پارٹی میں غم و غصے کی شکل اختیار کر لی اور ان کے جماعت کے لیے لِز ٹرس کا دفاع مشکل تر ہوتا گیا۔

لِز ٹرس کی جانب سے مستعفیٰ ہونے کے اعلان کے فو راً بعد حزب اختلاف کی بڑی جماعت، لیبر پارٹی کے سربراہ کیئر سٹارمر نے ‘فوراً’ نئے انتخابات کرانےکا مطالبہ کیا ہے۔

لِز ٹرس کے مستعفیٰ ہونے کے اعلان پر بی بی سی کے نامہ نگار برائے سیاسی امور، نِک ارڈلی کا کہنا تھا کہ ‘میں نے اس قسم کی صورت حال پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کل ہی بات ہے جب مِس ٹرس نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ ایک فائٹر ہیں۔’

‘لیکن حکومت، پارلیمان اور خود کنزرویٹِو پارٹی کی صفوں میں افراتفری اس مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں انھیں ( لِزٹرس) کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ اب وزیراعظم کے طور پر کام نہیں کر سکتیں۔’

‘آج جو کچھ ہوا ہے، وہ (برطانیہ کی) حالیہ تاریخ میں تبدیلی اقتدار کا تیز ترین واقعہ ہے۔ یہ تبدیلی آسمانی بجلی کی رفتار سے آئی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا کنزرویٹِو پارٹی کسی نئے رکن کی سربراہی میں یکجا ہو سکتی ہے یا نہیں اور آیا حکمران جماعت نئے عام انتخابات سے بچ سکتی ہے یا نہیں۔’

لِز ٹرس کے استعفے کے اعلان پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے بھی رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

فراسن کے صدر ایمینوئل میکراں نے کہا کہ برطانیہ کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ ‘جس قدر جلد ممکن ہو مستحکم’ ہو جائے۔

یورپی یونین کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے برسلز پہنچنے پر ان کا کہنا تھا کہ قطع نظر دوسری چیزوں کے ہمارے لیے جلد از جلد استحکام سب سے زیادہ مقدم ہے۔’

‘جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو میں جب بھی کسی ساتھی کو جاتے دیکھتا ہوں، تو مجھے دُکھ ہوتا ہے

[pullquote]میری الزبتھ لز ٹرس کون ہیں؟ [/pullquote]

میری الزبتھ ٹرس سنہ 1975 میں آکسفورڈ میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد ریاضی کے پروفیسر اور والدہ ایک نرس تھیں اور لز کے مطابق وہ ‘بائیں بازو’ نظریات کے حامی تھے۔

بی بی سی ریڈیو 4 سے بات کرتے ہوئے، اُن کے بھائی نے کہا کہ اُن کے گھر والوں کو بورڈ گیمز کھیلنے میں مزہ آتا تھا، لیکن لز ٹرس جب چھوٹی تھیں تو انہیں ہارنے سے نفرت تھی اور اگر اُنہیں لگتا کہ وہ ہار جائیں گی تو وہ کھیل چھوڑ کر چلی جاتی تھیں۔

سکول کی تعلیم کے بعد لز ٹرس نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں انہوں نے فلسفہ، سیاست اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی اور طالب علمی کے دور سے ہی سیاست میں سرگرم رہیں، ابتدا میں وہ برطانوی سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کے لیے سرگرم تھیں۔

سنہ 1994 میں لبرل ڈیموکریٹس کی جانب سے منعقد کی گئی کانفرنس میں اُنہوں نے بادشاہت کے نظام کے خاتمے کے حق میں بات کی، برائٹن میں ہونے والی اس کانفرنس میں انہوں نے مندوبین سے کہا: ‘ہم لبرل ڈیموکریٹس سب کو موقع دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم یہ نہیں مانتے کہ کچھ لوگ حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔‘

سنہ 2021 میں 46 سال کی عمر میں وہ حکومت کے سب سے سینئر عہدوں میں سے ایک پر وزیرِ خارجہ کا عہدہ سنبھالا۔

اس عہدے میں انھوں نے بریگزٹ کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ کے معاہدے کے کچھ حصوں کو ختم کر کے، شمالی آئرلینڈ پروٹوکول کے پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی اُن کے اس اقدام پر یورپی یونین نے شدید تنقید کی۔

انھوں نے دو برطانوی ایرانی شہریوں کی رہائی کو یقینی بنایا جنھیں ایران میں قید کر لیا گیا تھا۔

اور جب فروری میں روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو انھوں نے سخت موقف اختیار کیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ ولادیمیر پیوتن کی تمام افواج کو یوکرین سے نکال باہر کیا جائے۔

انھیں یوکرائن میں لڑنے کے خواہشمند برطانوی لوگوں کی پشت پناہی کرنے پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے