پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شی جن پنگ۔۔۔۔!!

میرا اپنی مادر علمی میں تقریبا 14 برس بعد جانا ہوا، 2003ءمیں ابلاغ عامہ میں ماسٹرز کے بعد 2008ء میں کانووکیشن میں اپنا میڈل وصول کرنے گیا جبکہ اب اکتوبر2022 میں خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے منعقد کانفرنس میں شرکت کیلئے جانا ہوا۔اے پی پی شعبہ سرائیکی کی ہیڈ سعدیہ کمال تو ہمارے میزبانوں میں شامل تھیں، اسلام آباد سےقربان بلوچ(سندھ ٹی وی)،سجاد اظہر(انڈیپنڈنٹ اردو)،یاسر نذر( آج ٹی وی)،صوفیہ صدیقی،نیلم ارشد(بول ٹی وی)، عائشہ ناز(ابتک ٹی وی)،راجہ زبیر(اے پی پی)،افشاں قریشی(روزنامہ جناح)،نبیلہ حفیظ(نیوز ویب سائٹ)عاصم شیرازی(کیپیٹل ٹی وی)،اکمل شہزاد(نوائے وقت)اور نرگس جنجوعہ بھی اسلام آباد سے بہاولپور پہنچے جہاں،یونیورسٹی کے ڈائریکٹرز شہزاد احمد خالد،اظہر حسین اور دیگر دوستوں نے نور محل کے دروازے پر ہمارا استقبال کیا۔جہاں سے اس خوبصورت معلوماتی دورے کا آغاز ہوا۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے دورے پراسلام آباد کے صحافیوں کا وفد

دوہزار دو تین میں مجھے یاد ہے یونیورسٹی میں غیر نصابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھیں، ہمارے سیشن کے ابتدائی وقت میں واحد بڑی سرگرمی طلبہ یونین تھی،جس کی بیشتر سرگرمیاں بھی غیر معیاری ہوتیں، ہم نے اپنے شعبے کے اساتذہ کی سرپرستی اور موجودہ چیرمین شعبہ ابلاغ عامہ ڈاکٹر واجد خان کی نگرانی میں ایک پندرہ روزہ اخبار”انقلاب” شروع کیا جسے اس زمانے میں اساتذہ اور طلبہ حتی کہ اس وقت کے وائس چانسلر جناب ڈاکٹر منیر اختر بھی شوق سے پڑھتے تھے،مختصرا اس وقت چار پانچ ہزار طلبہ کی یہ یونیورسٹی پاکستان اور پنجاب کی ایک متوسط یونیورسٹی سمجھی جاتی تھی،
شعبہ ابلاغیات کے چیئرمین ڈاکٹر واجد خان اور سینئر صحافی قربان بلوچ کے ساتھ طلبہ سے ایک نشست

سرکاری شعبوں میں عموما لیڈرشپ فیصلہ سازی سے شاید اس لیئے ڈرتی ہے کہ بعد میں حساب کتاب مشکل لگتا ہے۔ مگر جب لیڈرشپ کا کانسیپٹ کلیئر ہو تو اس کیلئےاچھے فیصلے کرنااور ادارے کو ترقی کے دھارے میں لانا مشکل نہیں ہوتا،ایسا لیڈر کسی ملک و قوم کا ہو یا ادارے کا حالات بدل کر رکھ دیتا ہے۔
شی جن پنگ جو گزشتہ ہفتے تیسری مدت کیلئے چین کے صدر کےعہدے پر براجمان ہوئے ہیں۔چین ان سے پہلے بھی آہستہ آہستہ ترقی کر رہا تھا تاہم گزشتہ دو ٹرمز میں چین نے صدر شی کی ولولہ انگیزاور ویژنری قیادت میں جو بے مثال ترقی کی ہےاسکی مثال نہیں ملتی اب چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کر نمبر ون کی دوڑ میں ہے۔اسی طرح جامعہ بہاولپور میں موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کی 3 سال قبل جوائیننگ سے قبل یونیورسٹی سرکاری موڈ پر چل رہی تھی طالب علموں کی تعداد تیرہ (13)ہزارتھی جو اب بڑھ کر لگ بھگ(66)ہزار ہوگئی ہے اور غالبا جامعہ بہاولپور طلبہ کی ان کیمپس تعداد کے لحاظ سے پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی بن گئی ہے۔اب یونیورسٹی میں1391 اساتذہ میں 700 سے زائد پی ایچ ڈی ہیں۔ تعلیم و تحقیق و فیکلٹیز کیلئے 138 شعبہ جات ہیں، فیکلٹیز کی تعداد7 سے بڑھ کر 16ہوچکی ہے۔
وفد کا مختلف شعبوں کا دورہ

ڈاکٹر اطہر محبوب کی قیادت میں یونیورسٹی دنیا کی درسگاہوں کی ریٹنگ میں بھی دو سے اڑھائی سو درجہ اوپر آئی ہےجبکہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن میں ٹاپ 500 ایشیائی یونیورسٹیوں میں شامل ہو چکی ہے۔ پاکستانی یونیورسٹیز میں مجموعی طور پر 11 ویں پوزیشن پر آگئی ہے، جنوبی پنجاب کی پہلی یونیورسٹی ہے اور تدریس کے لحاظ سے پاکستان میں دوسری یونیورسٹی ہے۔ہائر ایجو کیشن، پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور آفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمر شلائزیشن کی جانب سےاسے 70 تحقیقی منصوبے دیے گئے ہیں اور اس وقت 18 ہزار طلبا کو 92کروڑ روپے کی رقم بطورسکالر شپ دی جا چکی ہے۔پچھلے تیں سال ڈاکٹرصاحب نے دھڑا دھڑ نئے بلاکس اور عمارتیں تعمیرکروائیں، یونیورسٹی بسوں کو 60 کلومیٹر دور کے علاقوں تک پھیلا دیاتاکہ علم کی روشنی دور درازکے بچے بھی سمیٹ سکیں۔
یونیورسٹی نے گزشتہ 3 سال میں تعلیم و تحقیق انتظامی اور مالیاتی امور اور ترقیاتی منصوبوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا جسکے نتیجے میں آج یونیورسٹی اپنے(90) نوےفیصد اخراجات خود اٹھانے کے قابل ہو گئی ہے۔ احمد پور اور لیاقت پور کیمپسز کے قیام کے بعد حاصل پور کیمپس کے قیام کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں۔
اسلام آباد کے صحافیوں کا وفد
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب سےاسلام آباد کے صحافیوں کےوفدکی ملاقات

تعلیم دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور اس کے بغیر قومیں کبھی ترقی کی منازل طے نہیں کرتیں۔
آج پاکستان میں کاروبار کیلئے نئی نجی یونیورسٹیاں اور ادارے تو بنتے ہیں تاہم سرکاری شعبے میں حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ریاست بہاولپور میں نواب سر صادق خان عباسی کےدور میں جو ادارے بنے بات اس سے آگے نہ بڑھ سکی، مگر مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ موجودہ وی سی نے جامعہ بہاولپور کو جتنا فروغ دیا اس کی مثال نہیں ملتی، انہوں نے ناممکن کو ممکن بنایا ہے۔
راقم پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب سے سوینئروصول کرتے ہوئے

ڈاکٹر اطہر محبوب کی انڈسٹری اور اکیڈیمیا کے مابین روابط پر بھی خصوصی توجہ ہے۔سب سے اہم کامیابی حوالہ جات کے زمرے میں پاکستان بھر میں پہلی پوزیشن ہے جوکہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی تحقیق کے میدان میں واضح برتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تدریسی اور تحقیقی اشتراک عمل ، صنعتی و تجارتی منصوبوں اور انٹرینیورشپ پر بھی عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
یونیورسٹی ملکی شعبہ طب کیلئے اعلی تعلیم یافتہ نرسز بھی تیار کررہی ہے

مجھے تو حیرت ہوئی یونیورسٹی کی اپنی فرنیچر فیکٹری، اپنا شمسی بجلی گھر، اپنے فارمز اور معلوم نہیں کیا کیا منصوبے چل رہے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب اولیاء کرام کی تعلیمات کو عام کرنےاور علاقائی ٹیلنٹ کو فروغ دینے پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔اور مَیں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر اطہر کی پوری ٹیم اس وقت ان کی ولولہ انگیز قیادت میں مخالفین کی طرف سے ہماری مادر علمی کے خلاف سازشیں ناکام بنانے کیلئے بھی پوری طرح مصروف ہے۔
ڈاکٹر سعدیہ کمال اور فرید چیئر کے ارکان کا وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کے ساتھ گروپ فوٹو

وائس چانسلر کی نگرانی میں الیومینائی نیٹ ورک کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے،یونیورسٹی فیکلٹی سے ہی نوجوان لیڈر ڈاکٹر اظہر حسین کو ڈائریکٹر الیومینائی تعینات کیا گیا ہے۔ دنیا بھر اور پاکستان کے اہم اداروں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے والے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے فارغ التحصیل طلبہ بہت تیزی سے۔اس نیٹ ورک کا حصہ بن رہے ہیں۔اب تک اٹھارہ ہزار طلبہ اس الیومینائی کاحصہ بن چکے ہیں۔سٹی چیپٹر،ڈیپارٹمنٹ چیپٹر اور سوشل میڈیا نیٹ ورک تشکیل پارہے ہیں۔یہ امر لازم ہے کہ اپنے اپنے شعبوں میں کامیاب الیومینائی کے ممبران نئے طلبہ کیلئے مشعل راہ کا کردار ادا کر سکیں گے۔
راقم وائس چانسلر سے ایوارڈ آف آنر وصول کرتے ہوئے ڈائریکٹر الیومینائی افیئرز ڈاکٹر اظہر حسین بھی موجودہیں

اللہ کرے پاکستان کے باقی اداروں کے سربراہان بھی اسی طرح روایتی طریقہ کار سے نکل کر کام کریں تاکہ وطن کو صحیح معنوں میں باشعور لوگوں کا ملک بنایا جاسکے ورنہ جہالت تو پہلے ہی بہت ہے۔اچھے کپتان کی خصوصیات یہی ہیں کہ وہ جرات سے فیصلے کرے۔ کوئی بھی کپتان اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتاجب تک اس کی ٹیم اس کا ساتھ نہ دے۔مجھے فخر ہے کہ میرے اساتذہ اکرام پروفیسر ڈاکٹر واجد خان، پروفیسر ڈاکٹر سجاد پراچہ، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد رانا وی سی صاحب کی ٹیم کے اہم کھلاڑی ہیں۔اللہ میری مادر علمی کو اسی طرح دن دگنی رات چوگنی ترقی دے(آمین)
خواجہ غلام فرید کانفرنس کےشرکاء کا گروپ فوٹو

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے