کیوں دامن میرا لہو لہو کیے دیتے ہو

میں وہ جیسے سینچا گیا لہو کی آ بیاری سے
کیوں دامن میرا لہو لہو کیے دیتے ہو

جی قارئین ہم سب کا پاکستان پکار رہا ہے، ہم سب کو یہ احساس دلا رہا ہے کہ آ پ سب بھول گئے کہ کس طرح مجھے حاصل کرنے کے لیے کتنی قربانیاں دیں تھیں اور اپنے سامنے اپنے عزیز واقارب کو دشمن کے ہاتھوں کٹتے اور مرتے دیکھا تھا ،اپنے پیاروں کے لاشے بے گوروکفن دیکھے تھے،اپنی املاک اور جائیداد سب کچھ گنوا کر ہم اپنے پاکستان پہنچے تھے اور شکر کا سانس لیا تھا کہ اب ہم پیار ومحبت کہ ساتھ اپنے پاکستان میں خوشی کے ساتھ زندگی گزاریں گے اور دشمن کی مجال نہیں ہوگی ہماری طرف غلط نظر ڈالنے کی اور ایسا ہو بھی رہا تھا ہم سکون کی زندگی گزار رہے تھے کہ دشمن سے برداشت نہیں ہوا اور اس نے پھر اپنا ناپاک مشن شروع کیا ہمیں توڑنے کے لیے اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہا ۔

قارئین اس بات کو آ پ بخوبی سمجھتے بھی ہیں کہ ہم بظاہر آپس میں لڑ رہے اور دنیا میں پیش بھی یہی کیا جارہا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں مگر حقیقت کچھ اور ہے کیونکہ یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک بہت بڑی سازش ہے اور وہ کسی حد تک اس میں کامیاب بھی ہو گے ہیں جسے ہم سب کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے ۔

آپ یہ بات نوٹ کیجیئے کہ ہمیں توڑنے کے لیے ہمارے ہی نادان ہم وطنوں کو استعمال کیا جارہا ہے جو کہ ایک بہت بڑی ہم سب کی کوتاہی ہے ۔ہمارے اداروں کو آپس میں لڑوایا جا رہا ہے، انہیں بدنام کیا جارہا ہے دنیا والوں کو یہ باور کروایا جارہا کہ ہم آ پس میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے انشاللہ نہ کبھی ایسا ہوگا ۔یہی کچھ ہماری پاک افواج کے بارے میں افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں ۔ہماری وہ پاک افواج جن کی دنیا بڑی متعرف ہے جن کو پوری دنیا میں بہت مانا جاتا ہے اور جس کے لیے ہم سب یہی کہیں گے کہ

اقبال کے شاہینوں ان دل والوں کو سلام
اے پاک وطن تیرے رکھوالوں کو سلام ۔
اور یہ پاک آرمی تو میرے وطن کا جھومر ہے
اللہ ان کا صدا نگہبان ہو
آ مین

ان کے لیے بھی دشمن دل میں ناپاک عزائم لیے بیٹھا ہے اور انشاللہ یہ کبھی ہمارے پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا مگر اس کے لیے ہمیں دشمن کے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینا اور ہم سب کو اپنی صفوں میں چھپے دشمن کو تلاش کرنا ہوگا اور آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد کی فضا کو قائم کرنا ہوگا ایک دوسرےکو مضبوطی سے تھامنا ہوگا بجائے اس کہ کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایں ہم اس دشمن کی چال کو سمجھیں اور اس کو ناکام بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں ۔

حال ہی میں ہوئے اس واقعے نے ہماری ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا اور دنیا میں اچھا پیغام نہیں گیا ۔یہاں دشمن اپنی چال چل گیا اور ہم آپس میں ایک دوسرے سے لڑ پڑے ، ہمیں ہر بات کو سوچنا ہے اور دشمن کو کامیاب نہیں کرنا ۔

ہم سب ایک ہیں اور ایک ہی رہیں گے ۔اپنی بات کہنا اور کرنا جمہوریت کا حسن ہے اور یہ حق استعمال کرنے کا سب کو حق ہے مگر اس میں کسی دوسرے کو دخل اندازی کرنے کی اجازت نہ دیں ۔ اور کوئی حادثہ ہو بھی گیا ہو تو ہمیں اس کی تحقیقات کرنا ہو گی اور اصل مدعے تک پہنچنا ہوگا اور اصل حقائق کو سامنے لانا ہو گا ناکہ آپس میں دست و گریباں ہوں اور دوسرے پر سے اعتماد کو ختم کریں ۔ اور اپنے اداروں کو عزت و احترام دیں اور ایک دوسرے کا خیال رکھیں کہ دشمن ہمارے اس اعتماد کو توڑنے میں کبھی کامیاب نہ ہو۔

انشاللہ ہمیں اپنی صفوں سے تیسری طاقت کو نکالنا ہوگا اور سب کو مل کر اس پر عمل پیرا ہونا ہو گا اگر ہم آ پس لڑتے رہے تو دشمن کی چالیں کامیاب ہوتی رہیں گی، یہ حال ایران ،لیبیا، عراق،شام ،اور افغانستان کا حال دیکھ لیجیئے کہ وہاں پہلے آپس میں سیاسی جماعتوں کو آپس میں لڑوایا گیا ان کو آپس میں توڑا گیا اور کمزور کیا گیا یہ ایک حقیقت ہے اگر کسی مضبوط دیوار کو گرانا ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس کی کمزور اینٹ کو نکالا جاتا ہے تاکہ مضبوط دیوار کو گرایا جا سکے اور ہمیں کمزور دیوار نہیں بننا اور اپس کی رنجشوں کو ختم کرنا ہوگا اب بھی وقت ہم سنبھل سکتے اور مل کر دشمن کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں ،آ ج ان ممالک کا حال دیکھ لیجئیے جو ان سازشوں کا شکار ہوئے اور ان کی نسلوں کو ختم کیا گیا ۔وہ ممالک اب ایک وطن نہیں رہے ایک بربادی کی داستان پیش کر رہے ہیں جن کو دیکھ کر دل خون کے آ نسو روتا ہے ۔

اب ان دشمنوں کی نظر ہمارے پیارے پاکستان پر ہے مگر انشاللہ پاکستان پر اللہ کی رحمتوں کا سایہ ہے، یہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا اور دشمن اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ یہاں سے جانا ہوگا مگر ہم سب کو ایک اعلی حکمت عملی اپنانا ہو گی ۔

یہ وطن یہ میری جنت ہے، یہ میری ارض پاک ہے، یہ ہم سب کی خوشیوں کا گہوارہ ہے، ہم سب مل کر اس کو جنت کا گہوارہ بنائیں گے انشاللہ ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے