حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے گلگت کا تاریخی پل خستہ حالی کا شکار

گلگت شہر کا سب سے گنجان آباد علاقہ کنوداس جو دریائے گلگت کے اس پارواقع ہے ،کو ملانے کے لئے 1894 میں انگریز دورحکومت میں لکڑی کے تختوں کے ذریعے ایک پل تعمیر کرنے کا آغاز کیا گیا ،اس پل کو اس وقت کے ہندو ٹھیکدار برتھا نے تعمیر کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا، پل کی تعمیر کے لئے سٹیل کی تاریں کلکتہ،بھارت سے منگوائے گئے تھے۔یوں گلگت شہر میں لکڑی کے تختوں کا پہلا پل تعمیر کیا گیا- گلگت بلتستان کے مشہور مفکر ادیب و مصنف شیر باز برچہ نے بتایا کہ گلگت شہر کو دوسرے علاقوں سے ملانے کے لئے لکڑی کے تختوں کے ذریعے پل مختلف اوقات میں تعمیر کئیے گئےتھے، مگر اس میں کنوداس ملحق پل سب سے زیادہ اہمیت کا حامل پل رہا ہے، اس پل کو1982 اس وقت کے سابق چیف سیکریٹری جمیل حیدر شاہ نےکنوداس معلق پل کو فوڈ اسٹریٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر کچھ نا معلوم وجوہات کے بنا پر یہ فیصلہ تعطل کا شکار رہا اور لکڑی کے یہ قدیم پل خستہ حالی کا شکار ہے اور انکے تختے گل سڑچکے ہیں اور کسی بھی سانحے کا باعث بن سکتے ہیں۔

انگریز دور میں ہر چھ ماہ کے بعد پلوں کی مرمت ہوتی تھی اور خراب تختوں کی جگہ نئی تختے لگا ئے جاتے تھے، بھاری سامان پل سے گزارنے اور سگریٹ نوشی پر بھی سختی سے پابند عائد تھی،مگر انگریز حکومت جانے کے بعد مقامی حکومتوں نے اس پر توجہ نہیں دی اور آج یہ قدیم اور تاریخی اہمیت کے حامل پل خستہ حال پڑے ہیں۔سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے مطابق ہم نے اپنے دور حکومت میں پلوں کی مرمت ان کی آرائش پر توجہ دی سڑے تختے نکال کر پلوں کی مرمت کروادی۔1905 میں ڈوگرہ راج کے دور حکومت میں بونجی استور کے مقام پر پرتاب پل کی تعمیر کی گئی مگر اب اس پل کی حالت دیکھنے کے قابل نہیں پل سے تختے اٹھا دیئےگئے ہیں صرف لکڑی کا ڈھانچہ نظر آتا ہے۔ اگر ان پلوں کی دیکھ بھال کی جاتی تو یہ تاریخی پل گلگت شہر میں سیاحت کے فروغ کے لئے بھی اہم ثابت ہو سکتے تھے۔

گلگت بلتستان انگریز کے بعد ڈوگرہ راج کی زیر نگرانی رہا ہے اور ڈوگرہ دور حکومت میں گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کے جال بچھائے گئے دریا گلگت سے معلق ملحق آبادی جو پہلے کشتیوں کے ذریعے آمدورفت کرتے تھے ڈوگرہ دور حکومت میں وہاں لکڑیوں کے پل تعمیر کرکے عوام کے لئے آمدورفت میں آسانی پیدا کی گئی ۔سابق ڈپٹی اسپیکر جمیل احمد کے مطابق دریا کے اس پار آبادی کو گلگت شہر سے ملانے کےلیے لکڑیوں کے پل حکومتی عدم توجہی کے باعث خستہ حالی کا شکار ہیں۔چنار باغ گلگت ڈبل پل میں ابھی تک ایک پل آمدورفت کے لئے بند ہے اور ایک ہی پل ہے جس پر آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر آثار قدیمہ کا منظر پیش کررہا ہے- ذرائع کے مطابق لکڑی کے پلوں کی مرمت کے نام پر سالانہ کڑورں روپے حکومتی خزانے سے نکالے جاتے ہیں مگر پلوں کی مرمت نہیں ہوتی۔ حال ہی میں کچھ شرپسندوں نے سکار کوئی معلق پل کو جلانےکی کوشش کی مگر شرپسند تاحال گرفتار نہیں ہوسکے ۔

سکارکوئی گلگت سے تعلق رکھنےوالی سماجی کارکن روبینہ شاہین نے بتایا کہ سکارکوئی واحد پل ہے،جس کے ذریعے ضلع غذر کے لئے بھی آمدورفت ہوتی ہے۔ گلگت شہر میں بدامنی اور سڑکیں بلاک ہونے کی صورت میں اسی پل کو آمدورفت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، مگر حکومتی عدم دلچسپی کے باعث یہ پل بھی آخری سانسیں لے رہی ہے پل کے تختےسڑ کرجگہ جگہ سے اکھڑ چکے ہیں اور یہ پل کسی بھی وقت مہندم ہوسکتا ہے۔بی اینڈ آر ڈویژن گلگت کے ایگزیکٹو انجئینر اور ماہر تعمیرات انتخاب عالم نے کہا کہ گلگت شہر میں موجود 7 معلق پلوں کی ہر پانچ ماہ بعد مرمت کی جا رہی ہے اور پلوں کی سالانہ مینٹینسس کے لئے ایک کروڑ روپے فراہم کئے جاتے ہیں اور پلوں کی دیکھ بھال کے لئے 4 چوکیدار تعینات کئے گئے ہیں جو ان پلوں کی دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں ، اور ضرورت پڑے پر لکڑی کے پلوں کو ہٹا کر آر سی سی ( سریا اور سیمنٹ ) کے پل بنائے جاتے ہیں۔ انکے مطابق حکومت گلگت بلتستان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہر علاقے کے لئے آر سی سی پل تعمیر کئے جاسکیں بی اینڈآر ڈویژن کا کام پلوں کی مینٹینسس اور نئے پلوں کو اے ڈی پی میں رکھنا عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق چونکہ یہ پل خستہ حال ہیں اور گاڑیوں کے سفر کا قابل نہیں ۔ اس پر لوگ پیدل سفر کرتے ہیں اور موٹر بائیک والے بھی اس پل کو آمدوروفت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے مزید کہا کہ پل پر ہمیں کوئی چوکیدار نظر نہیں آتا ہے جس کی وجہ سے کوئی سانحہ رونما ہوسکتا ہے۔ جبکہ مقامی لوگ مجبوری کی وجہ سے یہ خستہ حال پلوں پر سفر کرتے ہیں کیونکہ متبادل راستہ کافی دور اور لمبا ہے۔گلگت کے ایک مقامی دکاندار محمد عالم (جو ہر وقت ان پل پر سفر کرتا ہے) نے کہا کہ لکڑیوں کے تختے سے بنائے گئے یہ پل اب ناقابل استعمال اور سفر کے قابل نہیں ہیں جبکہ انکی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں متبادل راستہ استعمال کرنا پڑرہا ہے جس سے سفر کافی زیادہ طے کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بعد اس علاقے کی آبادی بیس ہزار کے لگ بھگ ہے اور علاقے کے تمام مکین اسی پر سفر کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق موسمی حالات کی وجہ سے اب لکڑیوں کے تختے سے بنائے گئے پل پائیدار نہیں رہے ہیں۔ماضی کی نسبت اب آمدورفت زیادہ ہوگئی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کی پیٹرن میں تبدیلی بھی آئی ہے اس لئے علاقے میں جدید اور معیاری پل بنانے وقت کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے