خیبرپختونخوا : خواتین بہتر روزگار کیلئے علاقائی رسم رواج کے دباؤ کی وجہ سے بیرونی ملک نقل مکانی سے محروم

پاکستان کے علاقائی رسم رواج میں شادی کے دباؤ کی وجہ سے اعلی تعلیم کے حصول اور بہتر روزگار حاصل کرنے کے لیے خواتین بیرونی ملک نقل مکانی کرنےسے محروم رہ جاتی ہیں ۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان سے خواتین کے مقابلے میں نقل مکانی کرنے والے اکثریت مردوں کی ہے۔ 1971 اور 2019 کے درمیان خواتین کی ہجرت 0.4 فیصد ریکارڈ میں سامنے آئی تھی۔ جس میں اعلی تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی لیبر مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، جن کی بنیادی وجہ سماجی اور ثقافتی روایات کا دباؤ اور جانے کے لیے طریقہ کار کے بارے میں شعور اور اگاہی کا نہ ہونا ہے۔ خواتین کو بیرونی ملک نقل مکانی کرنے سے درپیش مسائل کے حوالے سے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن2020 کی رپورٹ میں خواتین کو بیرون ملک ملازمت کے لیے پیش آنے والی مشکلات اور محدود کرنے کا عنصر بھی بیان کیا گیا ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانونی تحفظ اور انصاف تک رسائی کا فقدان،ثقافتی رسم رواج اور خاندان کی جانب سے خواتین پر معاشرتی دباؤ ڈالا جاتا ہے، اس کے علاوہ نقل مکانی کرنے والی خواتین جو روزگار کے لیے جانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، ان کی تعداد بھی انتہائی کم ہےجبکہ بہتر ہنر مند خواتین کو بین الااقومی مارکیٹ میں بہتر اجر ملنے کے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں ۔ رپورٹ میں واضح بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خواتین کے لیے بہتر روزگار کے مواقع انتہائی کم ہیں۔

پاکستان کے پانچوں صوبوں میں خواتین تعلیم اور شعور کے ساتھ مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں اور دوسرے بیرونی ملک جانے کے لیے خواہش مند بھی ہیں ۔ چند فیصد خواتین جانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں اور لاکھوں خواتین نقل مکانی کرنے کے عمل میں مسائل کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کے ضلع مانسہرہ میں خواتین کی بڑی تعداد اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اپنے کام کرنا چاہتی ہیں تاکہ مردوں کی طرح وہ بھی بہتر روزگار حاصل کر سکے، اور کئی خواتین اعلا تعلیم کے حصول کی خواہش مند ہیں مگر سماجی روایات نے انہیں نقل مکانی کے عمل کی طرف جانے نہیں دیا۔ خاندان والوں کی جانب سے شادی نہ ہونا اور اکیلے عورت ذات کا دوسرے ملک میں کام کرنا کسی بھی طرح سے مناسب نہیں سمجھا جاتا ہے ۔ خاندان کی جانب سے یہی دباؤ رہتا ہے کہ عورت کے ساتھ کوئی بھی واقعہ پیش آ سکتا ہے ۔ اس لئےشادی پہلی ترجیحات میں شامل رکھی جاتی ہے، نسبت خواتین کی تعلیمی اور ہنر مند ہو کر معاشی طور پر مضبوط ہونے کے۔

اس سلسلے میں بات کرتے ہوئےخیبر پختونخوا ہزارہ ڈویژن کے ضلع مانسہرہ کی رہائشی آمنہ جدون ماہرغذائیت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ترقی پذیر ملکوں میں شامل ہوتا ہے ۔ہمارے ملک میں ہر شعبے میں تعلیم حاصل کرنے لیے مواقع موجودہ ہیں مگر عملی طور پر اپنے پیشہ میں کام کرنے کے لیے نوکریاں موجودہ نہیں ہیں ۔ ایم ایس کی ڈگری لینے کے بعد مجھے نوکری حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا کیوں کہ پورے ملک سمیت ہمارے علاقے میں بھی ماہر غذائیت کے پیشے کو اہمیت نہیں دی جاتی ۔ اپنے ڈگری کے حوالے سے مزید تعلیم حاصل کرنے اور روزگار کے لیے امریکہ جانے کی خواہش مند تھی مگر خاندان والوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنا آیا تھا۔ میری والدہ نے مجھے سختی سے بولا کہ تعلیم حاصل کرنے میں ہم نے بہت ساتھ دیا ہےجبکہ علاقے میں دوسرے والدین بھی ہیں جنہوں نے اپنی بیٹوں کو بنیادی تعلیم دلائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی جانب سے اصرار رہتا ہے کہ شادی وقت پر ہو جائے تو بہتر ہے .اسی دباؤ کی وجہ سے میں نے عملی طور پر بیرونی ملک جانے لیے کوئی کوشش بھی نہیں کی۔ سچ پوچھے تو علاقی سطح پرکسی ادارے کی جانب سے کوئی سنیٹر بھی موجودہ نہیں ہے کہ نقل مکانی کرنے کے لیے کوئی رہنمائی حاصل ہو سکتی۔

سارہ خان کا کہنا ہے کہ میرے دو بھائی بیرونی ملک رہتے ہیں اور ان کے معاشی حالات بہت بہتر ہیں ۔ ایم اے انگلش کرنے کے بعد میں خود بھی بیرونی ملک نقل مکانی کرنا چاہتی تھی تاکہ میں بھی اپنے بھائیوں کی طرح معاشی طور پر مضبوط ہو سکے مگر فیملی کی جانب سے نہ پسندیدگی کا رویہ اختیار کیا گیا۔ خاندان کی جانب سے شادی ہی وہ واحد حل ہے، جس سے زندگی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ ہمارے علاقے میں یہ تاثر عام ہے لڑکی کی عمر نکل جائے تو مناسب رشتہ بھی نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر خاندان کے لڑکے بہتر روزگار اور اعلا تعلیم کے حصول کے لیے جانا چاہتے ہیں تو پورا نظام انہیں مدد فراہم کرتا ہے مگر خواتین کی باری عورتوں کا گھر سے دور بیرونی ملک جانا انتہائی برا سمجھا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ میرے بھائی نے مجھے آگاہ کیا کہ بیرونی ملک میں کام کرنے کی مارکیٹ میں لوگ بہت زیادہ ہنرمند بھی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستانیوں میں خاص کر خواتین کو بھی بہت کم درجہ کی نوکری کرنی پڑتی ہے جوکہ اپنےملک میں کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ہیں ۔ سارہ کہتی ہیں کہ میری شادی ابھی تک نہیں ہوئی مگر میں فوٹوگرامی کے پروفیشن میں کام سیکھنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر کام کر رہی ہوں اگر بیرونی ملک جانے کا موقع ملا تو اپنے فوٹوگرامی کے ہنر کو استعمال میں لا سکتی ہوں ۔

ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی امبر شاہ اٹلی کی ایک یونیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوسال سے رہائش پذیر ہیں ۔سوشل میڈیا میسجر کے ذریعہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے بین الااقومی اداروں اور پلیٹ فارمز پر اپنی نمائیندگی ظاہر کرنا بہت ضروری ہے ۔ خواتین اگر معاشی ترقی حاصل کرنا چاہتی ہیں تو اپنے ماحول کے دباؤ کا شکار ہونے کے بجائے عملی طور پر ٹھوس اقدامات کرتی رہے۔

سوشل میڈیا اس دور میں وہ راستہ ہے جس میں آپ اپنی مدد آپ کے تحت کام کر سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں نے بیرونی ملک تعلیم حاصل کرنے کی بات شروع کی گھر والوں نے بات کوا ہمیت نہیں دی تھی اور جب اسکالرشپ بھی حاصل کر لی تو تب والدین نے کہا کہ شادی یا نکاح کر کے جاؤ اکیلی کیسے جا سکتی ہوں ۔۔۔۔تمام تر حالات کوبہت مثبت طریقہ سے حل کیا اور اب میں بیرونی ملک تعلیم کے ساتھ ساتھ کام بھی کر رہی ہوں ۔ انہوں نے بتایا کہ میں اب اپنے دوستوں ، رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ جو بھی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہے، میں ہر ممکن طریقے سے مدد بھی فراہم کرتی ہوں ۔

صنفی امور کی ماہرڈاکڑرخشندہ پروین کا کہنا ہے کہ ملک میں خواتین ہرطبقہ سے تعلق رکھتی ہیں اور ہر ایک کی انفرادی حثیثت ہوتی ہے مگر مجموعی تاثر یہی لیا جاتا ہے کہ خواتین اگر اپنے مستقبل کے لیے فیصلہ سازی کرتی ہیں تو انہیں فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جاتا ہے۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ روایاتی رسم رواج والے معاشرے میں خواتین کی ممجوعی طور پر کوئی حثیثت اور فیصلہ سازی کے اختیارات نہیں ہوتے اور اگر چند فیصد خواتین کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہو بھی جائے تب بھی وہ شدید مشکلات کا سامنا کرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نقل مکانی انتہائی کم خواتین کرتی ہے۔ جو اس عمل میں کامیاب ہوتی ہے یا تو وہ سکالرشپ، فیلوشپ یا کسی پروگرام کے لیے منتخب ہوتی ہیں بلکہ ایسی شادی شدہ خواتین کی مثال موجودہ ہے جو اپنے بچوں اور خاوند کو بھی ساتھ لے کر جاتی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ سول سوسائٹٰی عملی طور پر خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کرتی نظر آتی ہیں ۔ خواتین ہمارے معاشسرے میں با شعور ہو چکی ہیں کئی فیصد عورتیں نقل مکانی کر چکی ہیں ۔میرا مشورہ ہے کہ ملک کے معاشی،سیاسی، سماجی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین ہنر یافتہ ہوکر بیرونی ملک نقل مکانی کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ نجی طور پر کام کرنے والے ادارے خواتین کو کونسلز اور مواقعوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتے رہے۔سوشل میڈیا کی وجہ سے دنیا ایک گلوبل والچ کی صورت اختیار کر چکی ہے کسی بھی قسم کی معلومات حاصل کرنا آسان کام ہو چکا ہے۔ ہمارے روایاتی معاشرے میں خواتین مردوں کی نبست زیادہ دباؤ کا شکار رہتی ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن 2020کی جانب سے مختلف سروے کو مدنظر رکھتے ہوئے رپورٹ میں پاکستان سے نقل مکانی کرنے والی خواتین کے اعدادوشماربیان کیا گیا ، جس کے مطابق پاکستان دنیا میں آبادی کے لحاظ سے بڑے ملکوں میں شامل ہوتا ہے ۔ کل آبادی میں لیبر فورس 61.7 ملین ہے اس لیبر فورس میں خواتین 22 فیصد پر مشتمل ہے۔ رپورٹ کے مطابق خواتین ہنر کی سطح کے لحاظ سے 18.8 فیصد ہیں، جس میں سے کم ہنر مند والی خواتین 32.9 فیصد،دوسرے درمیان درجہ 8.7فیصد ہیں جبکہ اعلا ہنر مند خواتین 1.9 فیصد ہیں جبکہ اعلا تعلیم یافتہ 37.6 فیصد خواتین کی تعداد بھی شامل ہے۔ پاکستان میں صوبوں کے لحاظ سے خواتین میں نقل مکانی کرنے کا سب سے زیادہ رجحان پنجاب سے 56 فیصد ، خیبر پختونخوا 33 فیصد ہے جبکہ وفاقی دالحکومت اسلام آباد 5 ،سندھ 33 ،کشمیر 1 ،گلگت بلستان 1 ،بلوچستان 0 ، فاٹا 0فیصد خواتین کی نقل مکانی رپورٹ ہوئی ہیں ۔ جبکہ رپورٹ کے مطابق خواتین مہاجروں کی زیادہ تعداد یو اے ای میں 42.5، سعودی عرب 35 فیصد، عمان 5 فیصد،انگلینڈ 2 فیصد ،قطر 2 فیصد اور کینیڈا 1.4 فیصد ہے۔پیشہ کے لحاظ سے نقل مکانی کرنے والی خواتین میں جنرل ورکرز 14.7 ، گھریلوملازمین 17.3 ، مینیجرز 11.5 ، ٹیجرز 4.5، ڈاکٹراورنرس 15.1 ، آفس سٹاف 8.3 اور سیلزز میں 5.3 فیصد جبکہ دیگر بیوٹیشن، انجینئر، فارماسسٹ ،کمپیوٹر پروگرامر،فنانسسز، تکنیکی ماہر23.1 ،اپنے اپنے شعبوں میں روزگار کے لیے کوشش کرتی ہیں ۔

دنیا بھر میں نقل مکانی کرنا ایک مشکل ترین طریقہ کار ہوتا ہے مگر خواتین کے لیے یہ راستہ معاشرتی مسائل سے بھرا رہ جاتا ہے ۔ سرکاری اور غیرسرکاری ادارے خواتین کی ترقی کے لیے رہنمائی فراہم کر بھی لے بھر بھی ہمارے ملک میں خواتین کو نقل مکانی کرنے کے لیے دوہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین موجود ترقی یافتہ دور میں اپنے معاشی اور تعلیم ترقی حاصل کرنے کے لیے نقل مکانی کے عمل کو یقینی بنائے بغیر کسی معاشرتی اور سماجی دباؤ میں آئے ۔ معاشی اور سماجی طور پر کامیاب خواتین ہی معاشرہ بہتر کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے