عمران خان کے خدشات درست ہوتےدکھا ئی دے رہے ہیں

اسلام آباد(فاروق اقدس/تجزیاتی رپورٹ) پنجاب میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کیا عمران خان کی خواہش پر اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے، 26 نومبر کو تحریک انصاف کے چیئرمین کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کئے جانے کے اعلان کے بعد یہ سوال اتنی شدت سے سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور اس حوالے سے اتنے دعوے، قیاس آرائیاں، خدشات اور امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ یہ واقعی ’’ملین ڈالر کوسچین‘‘بن گیا ہے اور صورتحال بھی ایسی ہی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں بالخصوص حکومت پنجاب کیلئے یہ فیصلہ کسی کے سیاسی مستقبل کا بھی ہو سکتا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ق)گوکہ عددی اعتبار سے ایک کمزور اتحادی جماعت ہے لیکن اس حیثیت میں بھی برتری رکھنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا اقتدار مسلم لیگ (ق)کا مرہون منت ہے اور یہ سیاسی ہنر چوہدری برادران کو ورثے میں ملا ہے کہ وہ ایوان میں پارلیمانی اقلیت ہونے کے باوجود اکثریتی حیثیت میں ہوتے ہیں اور کمزور ہوتے ہوئے بھی طاقتور پر بالادست ہوتے ہیں۔

اس صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے بیانئے اور موقف کے جو غیر مبہم تضادات ہیں ان میں شاید یہ تضاد فی الوقت سب سے اہم ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت، رہنما اور ان کا حامی سوشل میڈیا سابق چیف آف ارمی سٹاف جنرل(ر)قمر جاوید باجوہ پر الزامات اور ان کی کردارکشی میں پوری طرح سرگرم ہے اور خود عمران خان بھی ان کے بارے میں آئے دن نت نئے منفی انکشافات کر رہے ہیں۔

اس بات سے قطع نظر کہ ماضی میں وہ ان کے بارے میں ان کے احسانات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کا ذکر کرتے نہیں تھکتے تھے لیکن ماضی میں ان کے محسن آج ان کی جانب سے مطعون ٹھہرائے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف چوہدری خاندان کسی تذبذب اور مصلحت کے بغیر آج بھی ان کے دفاع میں اعلانیہ طور پر کھڑا ہے اور اس حوالے سے سیاسی طعنوں، تشنوں کے باوجود تحریک انصاف کی جانب سے کی جانے والی تنقید اور الزام کا جواب دے رہا ہے۔

اس حوالے سے مونس الٰہی کا چند دن پہلے ایک ٹی وی چینل پر انٹرویو ہی حوالے کیلئے کافی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں یہ اطلاع بھی موجود ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے بعض قابل اعتماد افراد جو ان کی حکومت میں قابل ذکر سرکاری عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں ان کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی ہے کہ وہ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے آرمی چیف کے بارے میں ایسا مواد تلاش کریں جن کی تشہیر کی جاسکے اور جو ان کے خلاف کارروائی کی بنیاد بن سکے۔

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب تحریک انصاف کی معزول حکومت کے مذکورہ افسران نے اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے اور کچھ دستاویزات کی تصدیق کرنے کیلئےسرکاری افسران سے رابطے کئے تاہم امر واقع ہے کہ چوہدری خاندان کی وفاداری فوج کے کسی فرد واحد سے نہیں بلکہ ایک ادارے کی حیثیت سے ہے جس کا دفاع اس خاندان کی دیرینہ روایت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے