مراکش کی جیت نے سب کو رُلا دیا

مراکش کی فٹبال ٹیم نے قطر میں فیفا ورلڈ کپ میں تاریخ رقم کی ہے۔ ماضی میں تین بار افریقی ٹیمیں ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل تک پہنچیں مگر آگے نہ جا سکیں تو اس بار کیا مختلف تھا؟

مراکش کی ٹیم نے یقیناً اس ورلڈ کپ کو مزید دلچسپ بنایا ہے اور سیمی فائنل میں پہنچ کر پورے براعظم کے شائقین کو تحفہ دیا ہے۔

یوسف النصیری کی حیرت انگیز چھلانگ اور غیر معمولی ہیڈر نے پہلے ہاف میں ہی سکور ایک صفر کر دیا تھا جس کے بعد مراکش کی ٹیم کو صرف دفاعی کھیل پیش کرنا تھا۔ انھوں نے ایسا ہی کرتے ہوئے کرسٹیانو رونالڈو اور پرتگال کی ٹیم کو گھر بھیج دیا۔

فاتح مراکش ٹیم کے کوچ ولید رگراگی نے کہا ہے کہ ’ہم سب کی پسندیدہ ٹیم بن گئے ہیں کیونکہ ہم نے بتایا ہے کہ ہم کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔‘

’اگر آپ جنون، دل اور یقین کے ساتھ کھیلتے ہو تو آپ کامیاب ہو سکتے ہو۔ میرے کھلاڑیوں نے یہی ثابت کیا۔ یہ کوئی معجزہ نہیں۔ یورپ میں کچھ لوگ شاید یہ کہیں گے مگر ہم نے پرتگال، سپین اور بیلجیئم کو ہرایا ہے اور گول ہونے دیے بغیر کروشیا کے خلاف میچ برابر رکھا۔ یہ شدید محنت کا نتیجہ ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’افریقی اور عرب ٹیمیں سخت محنت کرتی ہیں لیکن ہم نے اپنے لوگوں کو خوش کیا ہے اور انھیں ہم پر فخر ہے۔ پورے براعظم کو اس فتح پر فخر ہے۔

’اگر آپ راکی بلبویا (فلم) دیکھتے ہیں تو آپ اسے سپورٹ کرتے ہیں اور ہم اس ورلڈ کپ کے راکی ہیں۔‘

[pullquote]جب کھلاڑیوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی اور سجدے کیے[/pullquote]

کیمرون نے 1990، سینیگال نے 2002 اور گھانا نے سنہ 2010 میں کوارٹر فائنلز میں مواقع گنوا دیے تھے مگر مراکش نے قطر میں اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

میچ کے آغاز سے وہ پرتگالی کھلاڑیوں سے ٹکر کا مقابلہ کرتے نظر آئے اور سٹیڈیم میں بیٹھے شائقین نے ان کا بہت ساتھ دیا۔ شائقین کی طرف سے ’سير سير (چلو، چلو)‘ اور ’ديما مغرب (مراکش ہمیشہ)‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

مراکش کے کوچ ركراکی، جنھیں کافی سراہا جا رہا ہے، کو ان کے کھلاڑیوں نے فتح کے بعد ہوا میں اچھالا۔ شائقین کی طرف رُخ کر کے انھوں نے ہاتھ بلند کر کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

سابق سکاٹش کھلاڑی پیٹ نیون نے بتایا کہ ’سٹیڈیم میں بہت شور تھا۔ میں یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ورلڈ کپ میں آخری بار ایسا شاک کب دیا گیا تھا۔‘

’وہ اس جیت کے مستحق ہیں۔ نہ صرف صلاحیت اور کوششیں بلکہ یہ شور بھی نہیں تھم پا رہا تھا۔‘

مراکش نہ صرف ایک افریقی ٹیم ہے بلکہ اسے مسلم اکثریتی عرب ملکوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ ایک عرب ملک فیفا ورلڈ کپ کی آخری چار ٹیموں میں جگہ بنا پایا ہے۔

ٹیم نے اس دوران کھل کر اپنے اسلامی مذہبی عقائد کا اظہار کیا۔ وہ سپین کے خلاف میچ میں پینلٹیوں کے دوران ہڈل میں قرآن کی آیات کی تلاوت کرتے تھے اور پرتگال کے خلاف میچ میں کھلاڑیوں کو بار بار ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگتے دیکھا گیا۔

مراکش نے اپنے کھلاڑیوں کی تمام تر انجریوں اور مشکلات کے باوجود پرتگال کو کوئی گول نہ کرنے دیا۔ میچ کے بعد تمام کھلاڑی اور عملے کو سٹینڈز کے پاس سجدہ کرتے دیکھا گیا۔

سبسٹیٹیوٹ اشرف داری نے خود کو فلسطینی پرچم میں لپیٹ لیا جبکہ پی ایس جی کے لیے کھیلنے والے اشرف حکیمی دوبارہ اپنی والدہ کے پاس گئے جنھوں نے انھیں بوسہ دیا۔

مگر سفيان بوفال نے اس بار حکیمی سے ایک قدم آگے جانے کا فیصلہ کیا اور وہ اپنی والدہ کے ساتھ ترانوں پر جھومنے لگے۔

[pullquote]رگراگی کے خوشی کے آنسو مگر رنالڈو آبدیدہ ہو کر میدان سے باہر چل دیے[/pullquote]

رگراگی وہ آخری شخص تھے جو میدان سے باہر گئے۔ وہ اس وقت واضح طور پر جذباتی ہوچکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’الحمد للہ (خدا کا شکر)۔ ہمارے پاس ورلڈ کپ جیتنے کا موقع ہے اور اب دنیا مراکش ٹیم کے ساتھ ہے۔ انشا اللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔‘

’میں پہلی بار میچ کے آخر میں رویا ہوں۔ مجھے خود کو ذہنی طور پر مضبوط دکھانا ہوتا ہے لیکن کبھی کبھار یہ مشکل ہوتا ہے۔ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچ جاؤ تو جذبات قابو میں نہیں رہتے۔ اگر میں کہوں کہ ہم نے یہیں پہنچ جانا تھا تو یہ جھوٹ ہوگا۔

’میں اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ پایا۔‘

ادھر میچ کے بہترین کھلاڑی گول کیپر یاسین بونو نے کہا کہ ’ہمیں ذہنیت بدل کر کمتر ہونے کا خیال ذہن سے نکالنا ہوگا۔ مراکش کی ٹیم دنیا میں کسی کا بھی مقابلہ کر سکتی ہے۔

ہماری نسلوں کو یہ معلوم ہوگا کہ مراکشی کھلاڑی معجزے پیدا کر سکتے ہیں۔۔۔ اب جب کسی کا مراکش سے مقابلہ ہوگا تو انھیں بہترین کھیل کرنا ہو گا۔‘

مگر ایک طرف مراکش کے کھلاڑی اور کوچ خوشی کے آنسو بہا رہے تھے تو رونالڈو اپنا ورلڈ کپ کا خواب ٹوٹنے پر سیٹی بجتے ہی میدان سے باہر جاتے ہوئے واضح طور پر غم سے نڈھال اور آبدیدہ لگے۔ شاید ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔

ایک موقع پر رونالڈو اپنے کوچ کے ساتھ بحث کرتے بھی دکھائے دیے اور انھیں اس میچ میں سبسٹیٹیوٹ کا درجہ ملا۔

اس ٹورنامنٹ میں یہ امید کرنا مشکل تھا کہ اس میں رونالڈو کے لیے کوئی ’ہیپی اینڈنگ‘ ہوگی۔ کوارٹر فائنل میں پرتگال کے ٹورنامنٹ سے نکلنے پر ان کی جانب سے آنسو بہانا ان کے موجودہ حالات کی عکاسی کرتا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار شیما خلیل سے بات کرتے ہوئے ایک فین نے بتایا کہ ’اب میں اپنے بچوں کو بتا سکوں گا کہ میں وہیں تھا جب مراکش نے تاریخ رقم کی۔‘

گذشتہ آٹھ میچوں سے رگراگی کی ٹیم کو تاحال ہرایا نہیں جا سکا اور انھوں نے گروپ سٹیج میں اون گول کے علاوہ کوئی گول نہیں دیا۔

رگراگی کہتے ہیں کہ ’یہ سب سے مشکل ٹورنامنٹ ہے۔ ہم نے بہترین ٹیموں کا مقابلہ کیا۔ یہ سچ ہے کہ پرتگال سے ہمیں گول پڑ سکتا تھا مگر افریقی اور عربی لوگوں نے ہمیں مثبت قوت بخشی۔‘

’ہم نے ثابت کیا کہ افریقی ٹیم بھی سیمی فائنل کھیل سکتی ہے، حتیٰ کہ فائنل بھی۔ ٹورنامنٹ سے پہلے مجھے سے پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں۔ میں نے کہا تھا کیوں نہیں؟ کیا ہمیں خواب دیکھنے کی اجازت نہیں؟‘

’اگر آپ خواب نہیں دیکھتے تو آپ کہیں نہیں پہنچ سکتے اور خوابوں کا کوئی دام نہیں ہوتا۔ یورپی ٹیموں کو ورلڈ کپ جیتنے کی عادت ہے۔ اب ہمیں وہ مقام حاصل کرنا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر افریقی صارفین کے ساتھ ساتھ شکیرا نے بھی یہی کہا کہ ’دس ٹائم فار افریقہ (یہ افریقہ کی باری ہے)۔‘

بشکریہ بی بی سی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے