16دسمبر

عام طور پر قوموں کی تاریخ میں اچھی اور بُری خبروں یا واقعات کی وجہ سے کچھ دن یاد رکھے جاتے ہیں اگرچہ سقوطِ ڈھاکا اور پشاور کے آئی پی ایس اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے درمیان 45سے زیادہ برس حائل ہیں مگر دونوں واقعات میں 16دسمبر کے دن کے اشتراک کی وجہ سے ایک عجیب سا رشتہ پیدا ہوگیا ہے۔

ظاہر ہے ان دونوں واقعات پر اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ اب کوئی بھی تفصیل محض دہرانے کے مصداق ہوگی مگر اتفاق سے گزشتہ دنوں مجھے اُن وجوہات کی ابتدا اور تاریخی تسلسل اور تاریخ کے بارے میں ایک ایسے نکتۂ نظر کو جاننے کا موقع ملا جو اس سے پہلے اتنی مرتّب شکل میں میری نظر سے نہیں گزرا تھا۔

سو میں نے چاہا کہ آپ کو بھی اس ’’علم‘‘ میں شامل کیا جائے، ہوا کچھ یوں کہ ہمارے شاعر دوست برادرم فاروق طراز مجھے اکثر بہت اہم اور سنجیدہ قومی و معاشرتی معاملات پر مختلف طرح کی وڈیوز بھجواتے رہتے ہیں جو سوشل میڈیا کے عمومی مزاج کے برخلاف سنجیدہ بھی ہوتی ہیں۔

باوثوق بھی اور قابلِ فکر بھی۔ میری اس تحریر کی بنیاد بھی سقوطِ ڈھاکا کے بارے میں اُن کی بھجوائی ہوئی ایک پانچ اقساط پر مبنی بہت عمدہ اورخیال افروز وڈیو ہے جو ’’سفر جانو‘‘ نامی ایک سیریل میں فیصل وڑائچ پیش کر رہے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ بہت دنوں کے بعد مجھے اُردو میں کوئی ایسا سیاسی اور تاریخی تجزیہ سننے کوملاہے جس کے نمونے عام طورپر ہمیں صرف انگریزی یا دیگر غیر ملکی زبانوں میں ہی نظرآتے ہیں۔

فیصل نے اس گفتگو کا آغاز 11مارچ 1948 کو ڈھاکا میں شیر بنگلہ مولوی فضل الحق کی ایک تقریر سے کیا ہے جس میں بنگلہ کو پاکستان کی قومی زبان بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، واضح رہے کہ یہ وہی مولوی فضل الحق ہیں جنھوں نے قیام پاکستان کی تحریک پیش کی تھی۔

یہ مسئلہ اس قدر اہم تھا کہ گورنر جنرل پاکستان قائداعظم محمد علی جناح خود 21مارچ کو ڈھاکا پہنچے جہاں اُن کا انتہائی شاندار استقبال کیا گیا انھوں نے اپنی تقریر میں بہت واضح طور پر کہا کہ ایک قوم ایک زبان کے اصول کے مطابق پاکستان کی قومی زبان صرف اور صرف اُردو ہوگی البتہ آئین کے مطابق وقت آنے پر مشرقی زبان کی حد تک بنگلہ کو سرکاری زبان بنانے کی صورت نکل سکتی ہے اگرچہ اس وقت بنگلہ کی حمائت میں جذبات شدّت پر تھے مگر یہ قائداعظم کے احترام کا اثر تھا کہ نہ صرف سب نے اُن کی بات کو خاموشی سے سن لیا بلکہ خاصے عرصے تک یہ مسئلہ ایک طرح سے ٹھنڈا بھی ہوگیا لیکن سیاسی سطح پر مشرقی پاکستان کی ناراضی مسلسل بڑھ رہی تھی۔

11ستمبر1948 کو قائداعظم کی وفات پر یہ معاملات مزید شدّت اختیار کرگئے اور23جون 1949 کو مشرقی پاکستان میں ایک نئی سیاسی جماعت نے جنم لیا جس کا نام عوامی مسلم لیگ رکھا گیا اور جس کے پہلے صدر مولانا بھاشانی اور اسسٹنٹ سیکریٹری حسین شہید سہروردی کے شاگرد شیخ مجیب الرحمن تھے، چند برس بعد جماعت کو سیکولر رنگ دینے کے لیے مسلم کا لفظ اُڑا دیا گیا اور آگے چل کر یہ جماعت عوامی لیگ ہی کے نام سے جانی گئی۔

قومی آئین نہ بن سکنے کی وجہ سے ابھی تک زبان کا مسئلہ کسی کنارے نہیں لگا اس پر اس دبی ہوئی آگ کو بنگال ہی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے ایک بار پھر یہ کہہ کر زندہ کر دیا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اُردو ہوگی اس پر شدید ردِّعمل کی دو وجوہات تھیں ایک تو خواجہ صاحب اور قائداعظم کی شخصیت کا فرق اور دوسرے اس زمانے میں آئین کی تیاری۔

جلد ہی احتجاج کا دائرہ ڈھاکا یونیورسٹی سے نکل کر پورے شہر اور پھر مختلف شہروں تک پھیلتا چلا گیا، 20فروری1952کو شہرمیں دفعہ 44لگا دی گئی مگر اگلے ہی دن یونیورسٹی کے طلبہ نے نہ صرف اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی، مظاہرے کیے قومی پرچم کو سرنگوں کیا بلکہ یونیورسٹی سے باہر نکلنے کی بھی کوشش کی جس پر پولیس نے فائرنگ کی جس میں پانچ نوجوان جان کی بازی ہار گئے۔

23فروری کو عوامی لیگ نے مکمل ہڑتال کا اعلان کردیا جس کے نتیجے میں دو اور نوجوان مارے گئے اور یونیورسٹی کو غیر معینہ عرصے کے لیے بند کر دیا گیا، مارچ 1954 میں مشرقی بنگال کی اسمبلی کے عام انتخاب کا اعلان ہوا جس میں مغربی پاکستان کی سیاسی بالادستی کے خلاف اس طرح کھل کر اظہار کیا گیا۔

عوامی لیگ نے دو قوم پرست جماعتوں کے ساتھ انتخاب میں مل کر حصہ لیا اور 97%ووٹ حاصل کرکے قومی مسلم لیگ کو شکست سے دوچار کیا، اس متحدہ فرنٹ کا نام ’’جگنو فرنٹ‘‘ رکھا گیا اور اس کے دو بنیادی مطالبے بنگلہ کو قومی زبان قرار دینا اور مشرقی پاکستان کو مکمل خود مختاری دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

شیر بنگال مولوی فضل الحق اس نئی حکومت کے وزیراعلیٰ بنے مگر دو ہی ماہ میں گورنر جنرل غلام محمد نے صوبائی حکومت کو برطرف کرکے گورنر راج نافذ کردیا اور سکندر مرزا صوبے کے گورنر بن گئے، فضل الحق کی اس برطرفی میں اُن کے ایک متنازعہ مگر غیر مصّدقہ بیان کو بنیاد بنایا گیا اور یوں تحریک پاکستان کی ایک مرکزی شخصیت کو غداری تک کے الزام سہنا پڑے۔

19اپریل 1954 کو دستور ساز اسمبلی نے اُردو کے ساتھ ساتھ بنگالی کو بھی قومی زبان بنانے کا اعلان کر دیا جس سے زبان کے مطالبے کی حد تک تو بات ختم ہوگئی مگر اس کے لیے جدوجہد میں جن لوگوں نے جانیں گنوائیں تھیں انھیں قومی شہیدوں کا رتبہ دے دیا گیا یوں یہ مسئلہ کسی نہ کسی شکل میں اگلی نسلوں کو بھی منتقل ہوتا رہا۔

صوبائی اسمبلی کی معطلی کے بعد جن سیکڑوں سیاسی لیڈروں اور افراد کو گرفتار کیا گیا اُن میں صوبائی وزیر شیخ مجیب الرحمن بھی تھے جو اپنے گرو حسین شہید سہروردی کی وفات کے بعد اب اُن کے جانشین اور پارٹی کے سربراہ بن چکے تھے ۔

حالات بتاتے ہیں کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی مشرقی پاکستان کے عوام اپنی بے شمار گِلہ مندیوں کے باوجودپاکستان کا حصہ بن کر ہی رہنا چاہتے تھے اور اگر انھیں صوبائی خود مختاری دے دی جاتی تو عوام کی حد تک براہ راست شکائتوں کا سلسلہ اپنی حکومت کی طرف منتقل ہوجاتا اور یوں مرکزی حکومت کواُن کی جائز اور ناجائز تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑتا مگر ایسا نہ کیا گیا اور مرکز میں جنرل ایوب کا مارشل لا لگنے کی وجہ سے سیاسی عمل رک جانے کی وجہ سے معاملات مزید بگڑنا شروع ہوگئے۔

شیخ مجیب الرحمن کو ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا اور مختلف شواہد کے مطابق اسی قید نے اُن کے اندر اُس مجیب الرحمن کو جنم دیا جس کے نزدیک ’’بنگلہ دیش‘‘ کا قیام ہی مسئلے کا واحد حل تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے