مسلمان توہین رسالت کا مرتکب ہوجائے تو فقہ حنفی میں اس کا حکم

[pullquote]مسلمان توہین رسالت کا مرتکب ہوجائے تو فقہ حنفی میں اس کا حکم[/pullquote]

1۔ کسی شخص کو گستاخ اس وقت تک نہیں کہا جا سکتا جب تک اس کا جرم ثابت نہ ہو جائے ۔اس کے جرم کا ثبوت دو طرح سے مل سکتا ہے ۔

1ملزم خود اقرار کرے ۔

2 ملزم اقرار نہ کرے تو دو ایسے مسلمان مردوں کی گواہی لی جائے جن کا کردار بے داغ ہو۔

[pullquote]مجرم کی سزا [/pullquote]

کوئی مسلمان اگر گستاخی کر کے مرتد ہو گیا تو اس کی سزا قتل ہے ۔

لیکن سزا کے نفاذ سے پہلے عدالت ملزم کو توبہ کرنے کا کہے گی ۔اگر اس کی توبہ سے عدالت مطمئن ہو قتل کی سزا کو ساقط بھی کر سکتی ہے۔

2۔ اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کے جرم کا مرتکب ہو تو وہ مرتد ہو جائے گا ۔ اس کو مرتد ہونے کی سزا دی جائے گی ۔ جو کہ قتل ہے۔

3۔ ارتداد کی سزا اللہ کا حق ہے ۔جس کا نفاذ حکومت کا کام ہے ۔کسی عام انسان کا نہیں ۔

4۔ اگر کسی شخص نے قانون کو ہاتھ میں لے کر از خود کسی کو توہین کے الزام میں قتل کرڈالا تو سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ

آیا مجرم نے جرم کا خود اقرار کیا ہے یا نہیں۔اگر اقرار نہیں کیا تو پھر دو عادل مسلمانوں کی گواہی لی جائے گی ۔

اگر گواہی میسر آگئی اور جرم ثابت ہوگیا تو قاتل سے قصاص نہیں لیا جائے گا لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پرکوئی مناسب سزا دی جا سکتی ہے ۔

اور اگر مقتول کے جرم کا ثبوت نہیں ملتا تو قاتل کو قصاصا قتل کردیا جائے گا۔

[pullquote]قانون توہین رسالت میں مفتی تقی عثمانی کا موقف سننے کے لیے ویڈیو پر کلک کریں .[/pullquote]

https://www.youtube.com/watch?v=lZJwpJSWSyE

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے