پاکستان زرعی ملک یا سیکورٹی اسٹیٹ؟

پرانے اخبارات کی ورق گردانی کرتے ہوئے 2جنوری 1953ء کو شائع ہونیوالی ایک خبر نظر سے گزری کہ حکومت نے غذائی قلت سے نمٹنے کیلئے25سے زیادہ افراد کو دعوت پر مدعو کرنے پر پابندی عائد کردی ہے اور اسکی خلاف ورزی کرنے والے کو تین سال قید ،جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکیں گی۔پاکستان کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کے دورِ حکومت میں گندم اور آٹے کی قلت کا بحران اس قدر سنگین ہوگیاکہ لوگ مکئی اور باجرے کی روٹی کھانے پر مجبور ہوگئے۔ اناج کا سرکاری نرخ تو13روپے 14آنے تھا لیکن بازار میں گندم 20روپے من بھی نہیں مل رہی تھی۔
’’پاکستان کے پہلے سات وزرائے اعظم ‘‘نامی کتاب جو پرائم منسٹر آفس میں کام کرنے والے اسٹاف نے مرتب کی ہے، اس میں گندم کی قلت کے زمانے کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ایک دن وزیراعظم(خواجہ ناظم الدین) کا دوپہر کا کھانا دفتر میں آیا تو انہوں نے اپنے چپراسی ادریس سے پوچھا کہ تمہیں آج کل کیسا آٹا مل رہا ہے ؟ادریس نے جواب دیا جناب بہت خراب آٹا مل رہا ہے۔اس نے روٹی کے ٹکڑے خواجہ صاحب کی میز پر رکھ دیئے۔اس روٹی کے ٹکڑے کا رنگ سیاہی مائل تھا، وزیراعظم نے جب نوالہ منہ میں رکھا تو کڑواہٹ محسوس ہوئی۔ انہوں نے حکم دیا پیرزادہ صاحب کو بلوائو۔(عبدالستار پیرزادہ اس وقت وزیر خوراک و زراعت تھے)پیرزادہ صاحب تشریف لے آئے تو خواجہ صاحب نے کہا،آپ تو کہتے تھے کہ اچھے آٹے کا انتظام کردیا گیا ہے لیکن یہ کیا ہے؟ پیرزادہ صاحب نے کہا، اب اچھا آٹا مارکیٹ میں آچکا ہے پھر بھی تحقیقات کرواتا ہوں۔ گندم کے علاوہ چینی کا بحران بھی سر اُٹھارہا تھا اور ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ قادیانیوں کے خلاف پرتشدد احتجاج شروع ہوگیا۔ختم نبوت تحریک کی آڑ میں حالات اس قدر خراب ہوئے کہ 6 مارچ 1953ء کو لاہور میں مارشل لا لگا کر لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا ۔فوجی عدالت نے سمری ٹرائل کے بعد جماعت اسلامی کے امیر مولانا مودودی اور جے یو پی کے رہنما مولانا عبدالستار خان نیازی کو سزائے موت سنادی جو کچھ عرصہ بعد ختم کردی گئی اور یوں گندم کا بحران ختم ہوگیا۔دو ماہ بعد مارشل لا بھی اُٹھالیا گیا مگر فوجی مداخلت کا اونٹ سیاست کے خیمے میں داخل ہوچکا تھا اور اسے پھر کبھی نہ نکالا جا سکا۔بعد ازاں سامنے آنے والے حقائق سے معلوم ہوا کہ اس پرتشدد احتجاج کا مقصد بنگالی وزیراعظم سے وزارت عظمیٰ کا کمبل چھیننا تھا۔مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل اعظم خان کا دعویٰ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کی اس تحریک کے پس پردہ مقاصد کچھ اور تھے، ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ خواجہ ناظم الدین کیخلاف سازش تیار کرنے والوں میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں ممتاز دولتانہ بھی شامل تھے جو خواجہ ناظم الدین کی برطرفی کے بعد خود وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔ لیکن اس تحریک کے پیچھے ایک غیر ملکی خفیہ ہاتھ بھی سرگرم تھا جو وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو جرات ِرندانہ اور خودداری کی سزا دینا چاہتا تھا۔
بنگالی رہنما اور سابق وفاقی وزیر محمود علی جن کی پاکستان سے محبت اور اٹوٹ رشتے کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بنگلہ دیش کے بجائے بچے کھچے پاکستان میں رہنا گوارہ کیا ،نے اپنے مشاہدات پر مشتمل کتاب resurgence and what should we do nowلکھی ۔محمود علی کا دعویٰ ہے کہ خواجہ ناظم الدین کو امریکی امداد وصول کرنے سے انکار کی سزا دی گئی۔ وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے امریکہ کے پی ایل 480 پروگرام کے تحت گندم کی خیرات وصول کرنے سے انکار کردیا تھا۔وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ان کی غیرجمہوری، غیرقانونی اور غیرآئینی برطرفی پر احتجاج کرتے ہوئے سوال کیا کہ انہیں کیوں معزول کیا گیا ہے؟خواجہ صاحب نے کہا، میرا قصور یہ ہے کہ میں نے گندم کی فی من قیمت میں 25 پیسے اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا اور امریکی گندم کے عوض پاکستان کو فروخت کرنے سے انکارکیا ۔
گورنر جنرل غلام محمد اور انکی افسر شاہی امریکہ سے خوشگوار تعلقات استوار کرنے کو بیتاب تھی اور وزیراعظم خواجہ ناظم الدین انکے راستے کا پتھر ثابت ہو رہے تھے۔ چنانچہ اس پتھر کو ہٹانے کیلئے گندم کا مصنوعی بحران پیدا کیا گیا، اخبارات کے ذریعے خواجہ ناظم الدین کی سادگی کا مذاق اڑایا گیا کیونکہ یہ ایسے وزیراعظم تھے جو تانگے پر سفر کرنے میں عار محسوس نہ کرتے۔ جب گندم کی مصنوعی قلت زوروں پر تھی تو لیاقت علی خان کو دیئے گئے لقب قائد ملت کے وزن پرخواجہ ناظم الدین کو قائد قِلت کہا گیا۔ افواج پاکستان کے محکمہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ بریگیڈیئر عبدالرحمان صدیقی نے اپنی کتاب ’’فوج اور سیاست‘‘میں لکھا ہے کہ گندم کے بحران کی وجہ سے وزیراعظم کی تضحیک معمول بن گئی۔ ان کے نام ناظم الدین کے حوالے سے ان پر ہاضم الدین کی پھبتی کسی گئی۔ چنانچہ گورنر جنرل غلام محمد نے 17اپریل 1953ء کو نقص ِامن ،آٹے کی قِلت اور اس نوع کے دیگر الزامات عائد کرکے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کومعزول کردیا ۔محمد علی بوگرہ جو امریکہ میں سفیر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے، انہیں واشنگٹن سے بلوا کر وزیراعظم بنا دیا گیا۔ اسکے بعد امریکی گندم کراچی بندرگاہ پر آئی تو اسے جن اونٹوں کے ذریعے لاد کر لایا گیا ان کے گلے میں ’’شکریہ امریکہ‘‘کے ٹیگ لہرا رہے تھے۔ زرعی ملک سیکورٹی اسٹیٹ بن جائے تو سیاسی عدم استحکام اور اس کے نتیجے میں اس طرح کے بحران عوام کا مقدر بن جایا کرتے ہیں۔
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے