حالیہ مون سون بارشیں،کیچ میں کجھور کے باغات تباہ، کسانوں کو کروڑوں کا نقصان،رمضان میں کجھور ناپید ہونے کاخدشہ

60 سالہ کسان بدل جو کہ آبسر تُربَت میں رہائش پذیر ہے، اس نے درد بھرے لہجے کے ساتھ آئی بی سی اردو کو بتایا کہ حالیہ مون سون بارشوں نے ہمارا سب کچھ ملیامیٹ کردیا اور میرے زرعی باغات جو کہ کیچ کور کے قریب موجود ہیں اور ہرسال بیس لاکھ کے قریب مجھے آمدنی ہوتی تھی، اب سب کچھ پانی میں بہہ جانے کی وجہ سے گھر چلانا مشکل ہوگیا ہے، انکے مطابق حالیہ مون سون کی بارشیں کیچ کے زمین داروں کے لئے زحمت بن گئیں ہیں۔

بُلیدہ سے تعلق رکھنے والا ایک مقامی زمین دار 60 سالہ عبداللہ مراد نے دکھی لہجے میں کہا کہ بُلیدہ کے دیہی علاقوں میں زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی سے منسلک ہے اور بُلیدہ ایک ذرعی علاقہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے بُلیدہ میں ذراعت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے اور المیہ یہ ہے کہ ذرعی علاقہ ہونے کے باوجود بُلیدہ میں محکمہ ذراعت کی جانب سے کسانوں کو کوئی بھی سہولت مہیا نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ بُلیدہ میں ذراعت تباہ ہونے سے زمین داروں کے نقصان کا ازالہ نہ کرنےسے مقامی زمین دار مالی طور پر غیر مستحکم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بُلیدہ میں اعلی کوالٹی کی کجھور ” بیگم جنگی” وافر مقدار میں کاشت کی جاتی ہے اور لوگوں کی سال بھر کی کمائی کجھور کی فصلوں سے وابستہ ہے کیونکہ یہاں روزگار کے متبادل ذرائع محدود ہیں۔

70سالہ حاجی صوالی بھی متاثرین میں سے ایک ہے، وہ آبسر سرکاری ذرعی فارم کے قریب رہائش پذیر ہے ، انہوں نے اپنا مدعا کچھ یوں بْیان کیا۔” جب ہماری کجھور کی فصلیں تیار تھیں اور اس سے مجھے پندرہ سے سولہ لاکھ تک آمدنی متوقع تھی مگر غیر متوقع مون سون کی بارشوں نے ہماری سال بھر کی محنت پر پانی پھیر دیا۔ سرکار کی جانب سے کوئی امداد نہ ملنے کی وجہ اب نوبت فاقوں تک پہنچی ہے کیونکہ ہمارا واحد ذریعہ معاش یہی کجھور کے باغات تھے جو نہ صرف تباہ ہوگئیں بلکہ سولر پینلز اور دیگر ذرعی آلات سیلابی پانی میں بہہ گئیں ہیں۔

85 سالہ بزرگ کسان داد محمد کئی دہائیوں سے کاشت کاری سے منسلک ہیں، اور حالیہ مون سون کی بارشوں سے انکے کجھور کے باغات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں، انکے مطابق اس سال کجھور کی فصل کافی بہتر تھی اور زیادہ منافع ملنے کا امکان تھا۔ کسان خوش تھے کہ اس سال پہلے کی نسبت زیادہ منافع ملے گا۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں ہر سال کجھور کے باغات سے بیس لاکھ کے قریب روپے ملتے تھے، کیونکہ کجھور کے باغات سال بھر میں ایک دفعہ فصل دیتا ہے۔ حالیہ بارشوں کے بعد منافع اپنی جگہ بلکہ کیچ کے کسانوں کو لاکھوں کا نقصان ہوا، ان کے باغات تباہ ہو گئے اور کجھور کی تیار فصل سیلابی پانی میں بہہ گئیں جبکہ سولر سسٹم سمیت تمام ذرعی آلات پانی کی نذر ہوگئیں ہیں۔

محکمہ ذراعت کیچ کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق ضلع کیچ میں 15885 کسان رجسٹرڈ ہیں، جو کہ تربت، بُلیدہ، مَنْد، ہوشاب اور ضلع کے دوسرے علاقوں میں کاشت کاری کرتے ہیں۔ مقامی کسانوں کے مطابق ضلع کیچ میں زیادہ تر کسان ہر سال کجھور کی فصل پر انحصار کرتے ہیں، جو کہ نہ صرف ضلع بھر میں اچھی پیداوار کے لئے مشہور ہے بلکہ کیچ میں اعلی کوالٹی کے کجھور پائے جاتے ہیں۔ مزید بتایا گیا ہے کہ کیچ میں کجھور کی پیداوار ایک لاکھ پچاس ہزار ٹن کے لگ بھگ ہے اور اس سال مون سون کی بارشوں کی وجہ سے کسانوں کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ جبکہ کیچ میں کجھور کی فی ایکٹر
پیداوار 6590 کلوگرام ہے جو حالیہ مون سون بارشوں کی نزر ہوگئیں۔

کیچ سے تعلق رکھنے والا ایک زمین دار یوسف جان جو کہ سماجی کارکن بھی ہے، نے بتایا ہے کہ حالیہ مون سون کی بارشوں کی وجہ سے کیچ بھر میں زمین داروں کے کجھور کی تیار فصلیں تباہ ہوگئیں اور پچاسی فیصد فصل تباہ ہونے سے ہر کسان کو لاکھوں کا نقصان ہوا۔ اسکے علاوہ مقامی مارکیٹ میں کجھور نایاب ہوگئیں ہیں۔ انکے مطابق کیچ اور پَنجْگُور میں زیادہ تر کسان صرف کجھور کی فصل پر انحصار کرتے ہیں، جو کہ حالیہ مون سون بارشوں سے تباہ ہونے کے بعد وہ مالی مشکلات کے شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کچھ کسانوں کے دس سے پندرہ فیصد فصلیں رہ گئیں ہیں،جبکہ زیادہ تر کسانوں کے تمام تیار فصلیں پانی میں بہہ گئیں ہیں یا ناکارہ ہوچکے ہیں۔

محکمہ ذراعت کے ایک آفیسر نادل شاہ نے رابطہ کرنے پر آئی بی سی اردو کو بتایا کہ ضلع کیچ میں کجھور کے باغات 24827 ایکٹر پر پھیلے ہوئے ہیں اور حالیہ مون کی طوفانی بارشوں کی وجہ سے18885 ایکٹر پر پھیلے ہوئے کجھور کی فصلیں تباہ ہوگئیں، انکے مطابق نقصان کا تخمیہ 4400 ملین بنتا ہے اور اس سال کیچ کے زیادہ تر علاقوں میں کجھور کے تیار فصلیں مون سون بارشوں کی نزرہوگئیں اور کسانوں کو لاکھوں روپیے کا نقصان ہوا۔

[pullquote]مقامی مارکیٹ میں کجھور نایاب ہونے کا اندیشہ[/pullquote]

خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کیچ بھر میں کجھور کے تیار فصلیں تباہ ہونے کے بعد رمضان المبارک کے مقدس میں مقامی مارکیٹ سے پیدا ہونے والی کجھور کیچ سمیت دیگر قرب و جوار کے علاقوں میں دستْیاب نہیں ہوگی جبکہ امکان یہی ہے کہ کجھور کی قیمیتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہونے کی وجہ سے کجھور خریدنا عام آدمی کے بس سے باہر ہوگا۔

[pullquote]ایرانی کجھور کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے امکانات[/pullquote]

کیچ سمیت مکران بھر میں رمضان المبارک میں افطاری اور سحری کے لئے روزہ دار وافر مقدار میں کجھور کھاتے ہیں۔ اس سال چونکہ مون سون کی بارشوں کی وجہ سے کجھور کی تیار فصلیں تباہ ہوگئیں ہیں اور مجبورا” ہمسایہ ملک ایران سے کجھور پہلے کی نسبت زیادہ تعداد میں درآمد کرنا پڑے گا اور مقامی دکاندار اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ ایرانی کجھور کیچ سمیت مکران بھر کی مارکیٹوں میں اس بار زیادہ ہوگی اور قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا کیونکہ اس سے پہلے کیچ کے کجھور سستے ریٹ پر دستْیاب ہوتی تھی ۔

[pullquote]کیچ میں پائے جانے والی کجھور کی پیداوار اور اقسام[/pullquote]

محکمہ ذراعت کیچ کے مطابق ضلع بھر میں کجھور کی ایک سو پانچ اقسام پائی جاتی ہیں جو کہ مختلف علاقوں میں کاشت کی جاتی ہیں۔

مکران کی کجھور کو عالمی سطح پر متعارف کرنے والا، درفشان ڈیٹ پروسسنگ کپمنی کے مالک مقبول عالم نوری کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق ضلع کیچ میں سب سے زیادہ ” بیگم جنگی” کجھور کاشت کی جاتی ہے۔

10800 ایکٹر پرکاشت کی جانے والی کجھور کی اس قسم کے کل درخت کی تعداد 1857600 ہیں، اور بیگم جنگی کی سالانہ پیداوار 65016 ٹن ہے جبکہ ہر درخت سے اوسط 35 کلو گرام کجھور پیدا ہوتی ہے۔

دوسرے نمبر پر "حسینی” اقسام کے کجھور 1645 ایکٹر پر پھیلے ہوئے ہیں، جنکی سالانہ پیداوار 9903 ٹن اور درختوں کی 282840 ہے، جبکہ ھلینی 8428 اور گوک ناہ 7775 ٹن کے ساتھ بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں اور ان دونوں اقسام کے کجھور کی فی درخت سے چالیس کلو گرام کجھور پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کیچ کے کجھور کے مشہور اقسام میں دَشْتیاری، کونزن آباد، مزاتی، شکری اور جدگالی شامل ہیں۔

[pullquote]پاکستان بھر میں کجھور کی پیداوار[/pullquote]

ملک بھر میں کجھور کی سب سے زیادہ کاشت مکران کے دو اضلاع کیچ اور پَنجْگُور میں کی جاتی ہے، 2005۔2006 کے ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کجھور کے باغات 48136 ایکٹر اور سالانہ پیدوار 252317 ٹن ، سندھ میں 26681 اور سالانہ 192810 ٹن،پنجاب میں 5797 ایکٹر اور 42580 ٹن اور خیبر پخنوانخواہ میں کجھور کے باغات 1377 ایکٹر پر پھیلے ہوئے ہیں اور سالانہ پیداوار 8869 ٹن ہے۔

[pullquote]کولڈ اسٹوریج بنانے کی ضرورت[/pullquote]

مقبول عالم نوری نے بتایا کہ مکران کے دو اضلاع کیچ اور پَنجْگُور میں کجھور کی کاشت کاری زیادہ کی جاتی ہے۔ کولڈ اسٹوریج نہ ہونے کی وجہ سے دونوں اضلاع کے کسان اونے پونے داموں پر کجھور فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالمالک کے وزارت اعلی کے دور میں کیچ میں ایک ڈیٹ پروسسنگ کولڈ اسٹوریج تعمیر کیا گیا، جہاں ایک ہزار ٹن کجھور اسٹور کرنے کی گنجائش ہے جبکہ مکران بھر میں سالانہ ڈھائی سے تین لاکھ ٹن کجھور پیدا ہوتی ہے۔ مقبول عالم نوری کے مطابق اس اسٹوریج سے پہلے سکھر اور خیرپور کے تاجر مقامی کسانوں سے فی من کجھور 800 سو سے نو سو کے درمیان خریدتے تھے ، اب مقامی کسان ڈھائی ہزار سے تین ہزار تک فی من کجھور فروخت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مکران میں ڈیٹ پروسسنگ یونٹ بناکر نہ صرف مکران کی کجھور کو عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاسکتا ہے بلکہ مقامی زمین داروں کو ہر سال لاکھوں روپیہ اضافی منافع مل سکتا ہے۔ ان کے ساتھ مطابق مکران کی کجھور کوالٹی کے حوالے سے ہمسایہ ملک ایران کے کجھور سے زیادہ پائیدار ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے