پاکستان کے ’شریر بچے‘

آپ نے اکثر ایسے بچے دیکھے ہوں گے جو کسی کے گھر جا کر خوب غُل غپاڑہ کرتے ہیں ، کبھی جوتے لے کر صوفوں پر چڑھ جائیں گے، کبھی برتن توڑ دیں گے ، کبھی دیوار پر رنگ برنگی لکیریں پھیر دیں گے ، کبھی دوسرے بچوں کو پیٹنا شروع کردیں گے اور کبھی خواہ مخواہ چیزیں اٹھا کر پھینکنے لگ جائیں گے ۔ ایسے بچوں کی مائیں عموماً وہیں پاس ہی ہوتی ہیں مگر مجال ہے کہ اُن کے کان پر جوں بھی رینگ جائے ، وہ ایسے مطمئن بیٹھی رہتی ہیں جیسے اُن کا بچہ بالکل نارمل انداز میں کھیل رہا ہو۔ اگر بچے کی بیہودگی حدسے زیادہ بڑھ جائےتوبچے کی ماں بادل نخواستہ فقط اتنا کہہ کر اپنی ذمہ داری پوری کر دیتی ہے کہ ’ٹونی بیٹا ،مت کرو۔‘ ٹونی بیٹا بھی مگرایسا ڈھیٹ ہوتا ہے کہ ماں کی پروا نہیں کرتا اور یہ تماشا اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کوئی بڑا نقصان نہ ہوجائے ۔
پاکستانی طالبان اور اُن کے ہمدرد مذہبی رہنماؤں کا باہمی تعلق بھی ایسا ہی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) وہ شریر بچہ ہےجس نے ریاست پاکستان کو تگنی کا ناچ نچایا، پورے ملک میں بم دھماکے کئے، پولیس اور فوج پر حملے کئے مگر اِن تمام ’شرارتوں‘ کے باوجود اُن کے ہمدرد مذہبی رہنماؤں نے اُن کے خلاف وہ سخت بیانیہ استعمال نہیں کیا جو یہ رہنما اپنے ہم وطن آزاد خیال مسلمانوں کے بارے میں استعمال کرتے ہیں، اِن لوگوں نے طالبان سے مسلسل مذاکرات کی حمایت کی اور جب یہ مذاکرات ناکام ہو گئے تو طالبان کو یوں پیار محبت سے سمجھایا جیسے کوئی ماں اپنے شریر مگر لاڈلے بچے کو سمجھاتی ہے، کسی نے افغان طالبان کو پیار بھر اخط لکھا تو کسی نے پاکستانی طالبان کے سامنے اپنی گزارشات رکھیں۔ طالبان نے بھی اِس پدرانہ شفقت اور محبت کا کمال جواب دیا ہے، حال ہی میں ٹی ٹی پی کے ایک رہنما نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں یہ ’گلہ‘ کیا ہے کہ اُن کے اساتذہ اور علمائے کرام نہ جانے کیوں انہیں دہشت گرد کہتے ہیں جب کہ اصل میں تو وہ جہاد کر رہے ہیں ، نائن الیون کے بعد یہ جہاد اِن علمائے کرام کے فتاویٰ کی روشنی میں ہی تو شروع کیا گیا تھا، اب وہی جہاد ناجائر کیسے ہو گیا؟ ٹی ٹی پی نے اپنے بیان میں مذہبی علما سے یہ وضاحت بلکہ رہنمائی مانگی ہے کہ اُن کے سمجھنے میں اگر کوئی کوتاہی ہو گئی ہو تو اسے دلائل سے ثابت کیا جائے، ہم سننے کو تیار ہیں، ہم نے تو اپنا جہادی قبلہ تبدیل نہیں کیا البتہ آپ اگرکسی مجبوری کی وجہ سے ہماری رہنمائی نہیں کر سکتے تو خدارا ہمیں دشمن کے دئیے گئے ناموں سے مت پکاریں اور رہی بات مذاکرات کی تو پاکستانی ریاستی اداروں نے چوں کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی لہٰذا ہم نے مجاہدین کو اُن پر حملوں کی اجازت دی۔ یہ ہےٹی ٹی پی کے بیان کا لب لباب!
سچ پوچھیں تو ٹی ٹی پی نے اپنے پاکستانی حمایتیوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے، پاکستان میں جو مذہبی رہنما امریکہ مخالف جذبات ابھارتے تھے اور لوگوں کو جہاد کی ترغیب دیتے تھے ،وہ اب کس منہ سے ٹی ٹی پی کے بیانئے کی مخالفت کریں گے ؟ طالبان کا بیانیہ تو بڑا سیدھا سادہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان پرحملہ کیا، پاکستان نے اُس جنگ میں طالبان کا ساتھ دینے کی بجائے کفر کی قوتوں کا ساتھ دیا لہٰذا امریکہ اور پاکستان میں فرق مِٹ گیا، جس طرح امریکہ کے خلاف جہاد جائز تھا اسی طرح پاکستان کے خلاف بھی جائز ہے ، امریکہ کو شکست ہوئی اور وہ بھاگ گیا ، اب (خاکم بدہن) پاکستان کو بھی شکست ہوگی ، رہی بات مسلمان کا خون بہانے کی تو وہ شخص مسلمان ہو ہی نہیں ہوسکتا جو اسلام کے مقابلے میں باطل قوتوں کے ساتھ کھڑا ہو اور وہ لوگ جو اِس موقع پر خاموش رہتے ہیں اُن کی خاموشی بھی کفر کی حمایت کے مترادف ہے ،لہٰذا بظاہر بے گناہ مرنے والے دراصل بے گناہ نہیں بلکہ واجب القتل کافر ہیں ۔ ٹی ٹی پی کے اِس بیانئے کا جواب اُن کے اساتذہ اور ہمدردوں نے نہیں دیا ، وہ دے بھی نہیں سکتے کیونکہ یہ پودا انہی کا لگایا ہوا ہے ، اب وہ پھل دے رہا ہے تو شکایت کس بات کی!
اب کچھ بات اُن بزرجمہروں کی ہوجائے جنہوں نے افغان طالبان کی جیت پر شادیانے بجائے تھے اور کہا تھا کہ یہ اسلام کی فتح ہے ،اب ہماری مغربی سرحد محفوظ ہوگئی، پاکستان میں دہشت گردی ختم ہوجائےگی، افغان طالبان اپنی سر زمین سے کسی کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ، مذاکرات کے ذریعے ٹی ٹی پی کو رام کرلیا جائے گا ، طالبان بدل گئے ہیں ،وغیرہ۔یہ تمام باتیں ہزارویں مرتبہ پھر غلط ثابت ہوئیں ۔طالبان بالکل تبدیل نہیں ہوئے، افغانستان میں عورتوں پر تعلیم اور روزگار کے دروازے پہلے کی طرح بند ہیں ۔یہ غلط فہمی بھی دور ہوگئی کہ افغان اور پاکستانی طالبان کا ایجنڈا مختلف ہے،ہمیں یہ سبق بھی رَٹایا گیا تھا کہ افغان سرحد پر بھارتی قونصل خانے ہیں ، وہاں سے ’را‘ دہشت گردی کرواتی ہے ، حامد کرزئی اور اشرف غنی بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہیں ، اب نہ حامد کرزئی رہا نہ اشرف غنی ، نہ قونصل خانے رہے اور نہ را کے ایجنٹ ، اب تو افغان طالبان کی حکومت ہے ، اُن کے ہوتے ہوئے اب دہشت گردی کیسے ہو رہی ہے ؟ یہ بھی ہماری خوش فہمی تھی کہ کابل میں ہماری دوست حکومت آگئی ہے ،اِس دوست حکومت نے سرحد پر جو کچھ کیا ویسا تو بھارتی سرحد پر بھی شاذو نادر ہی ہوا کرتا تھااور رہی بات اسلامی نظام کی توجو نظام طالبان نے افغانستان میں رائج کیا ہے ،کیا وہ اسلامی نظام ہے؟ اِس کا جواب اگرہاں میں ہے تو یقیناً ہم سے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔
یہ کالم پاکستانی یا افغان طالبان کے بارے میں نہیں بلکہ بطور قوم ہماری فیصلہ سازی کی صلاحیت کے بارے میں ہے ۔ ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے جو چکانی پڑتی ہے، ذاتی زندگی میں ہم جو اچھے برے فیصلے کرتے ہیں، اُن کے نتائج بھی ویسے ہی نکلتے ہیں جن کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اُن نتائج سے مفر ممکن نہیں ہوتا۔یہی کلیہ اجتماعی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے ، یہ ممکن نہیں کہ آپ غیر دانشمندانہ فیصلے کرتے چلے جائیں اور بحیثیت قوم اُن کا نتیجہ نہ بھگتیں ۔ آج ہم ایسے تمام فیصلوں کا نتیجہ بھگت رہے ہیں جو اپنے تئیں ’سپر اسمارٹ ‘ لوگوں نے کئے ،کاش کہ یہ سپرا سمارٹ ہماری قسمت میں نہ ہوتے اور ہمیں اوسط درجے کی فہم و فراست والا ہی کوئی شخص مل جاتا تو ہمارا یہ حال نہ ہوتا جو آج ہے۔کاش!
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے