خطرے کی گھنٹی

روزِ اول سے ہم جیسے چند عاجز دہائی دیاکرتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی بنائی اور اسے اقتدار بھی دلوایا لیکن کوئی اس بات پر کان دھرنے کو تیارنہ ہوتا، الٹا ہمیں اس حقیقت کے اظہار کی جرأت کی بدترین اور ہمہ پہلو سزائیں ملتی رہیں تاہم اب تو کوئی بات خفیہ نہیں رہی۔ سب اقرار کرنے لگے ہیں کہ عمران خان کو اقتدار اسٹیبلشمنٹ اور بالخصوص جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید اور لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے دلوایا۔ جنرل (ر)قمر جاوید باجوہ خود اعتراف کرچکے ہیں کہ عمران خان کو اقتدار دلوانے میں ان کا ہاتھ تھا جبکہ عمران خان صاحب بھی تسلیم کررہے ہیں کہ ان کی حکومت اور پارلیمنٹ جنرل باجوہ (با الفاظ دیگر جنرل فیض حمید اور جنرل آصف غفور وغیرہ) چلاتے رہے ۔

ایک اسٹیج پر جب جنرل باجوہ نے محسوس کیا کہ ان کے ادارے کا امیج ناقابل برداشت حد تک تباہ اور معیشت دیوالیہ ہونے جارہی ہے تو انہوں نے وہ سلسلہ نیوٹرل بن کر ختم کردیا اور یوں عمران خان کی حکومت دھڑام سے گرگئی۔ اس کے جواب میں عمران خان نے نہ صرف اپنی حکومت کی رخصتی کو جنرل باجوہ اور ان کے ساتھیوں کے گلے میں ڈال دیا بلکہ آرمی چیف اور فوج کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کی بدترین دشمن سے بھی توقع نہیں کی جاسکتی۔ دوسری طرف پی ڈی ایم اور بالخصوص مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نتھی ہوگئیں۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو28 نومبر تک بالخصوص اور اس کے بعد بالعموم یہ شکایت رہی کہ اسٹیبلشمنٹ اب بھی ان کے ساتھ گیم کھیل رہی ہے یا پھر پی ٹی آئی کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ ان کی رائے کی بنیاد یہ ہے کہ وہ یہ دیکھتے اور سوچتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ وہ سختی نہیں کی جارہی جو ماضی قریب میں ان کے ساتھ ہوتی رہی۔

اسی طرح وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو سیدھا کرنے کیلئے عدلیہ، میڈیا اور الیکشن کمیشن وغیرہ کے بازو اس طرح نہیں مروڑ رہی جس طرح نوازشریف، مریم نواز، شاہد خاقان اور دیگر کو ٹھکانے لگانے کیلئے مروڑتی رہی۔ غور سے دیکھا جائے تو عملاً مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی اور جے یوآئی کا رویہ اسٹیبلشمنٹ سے متعلق اسی طرح تابعدارانہ ہے جس طرح پی ٹی آئی کا تھا لیکن زبانی طور پر وہ اسٹیبلشمنٹ کی عمران خان کے دور حکومت کی طرح ہمنوائی کررہی ہے اور نہ اس کا دفاع۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے سرخیل اگرچہ دل و جان سے عمران خان سے نالاں اور پی ڈی ایم کی حکومت کی کامیابی کے متمنی ہیں لیکن وہ پی ڈی ایم حکومت کی کارکردگی سے بھی پوری طرح مطمئن نہیں۔ ایک طرف وہ معیشت کے حوالے سے پریشان ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ اسحاق ڈار کے آنے کے بعد اس طرح سخت فیصلے نہیں کیے جارہے جو حالات اور آئی ایم ایف وغیرہ تقاضا کررہے ہیں۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ نے آئی ایس پی آر کو سیاست سے مکمل دور کردیا ہے لیکن دوسری طرف حکومت کی میڈیا پالیسی مکمل طور پر ناکام ہے بلکہ میڈیا پالیسی نام کی کوئی چیز ہی موجود نہیں ۔

دوسری طرف پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں اور بالخصوص مسلم لیگ(ن) ایک بڑے مخمصے سے دوچار ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے مقبول بیانیہ چھوڑدیا۔نواز شریف، مریم نواز حسبِ روایت چھٹی پر چلے گئے جبکہ ان کے ہمنوا پرویز رشید جیسے لوگ غائب ہوگئے۔ خواجہ آصف جیسے اسٹیبلشمنٹ کے درپردہ حامی چھاگئے۔ مقبول اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو عمران خان نے اچک لیا اور مسلم لیگ(ن) ، پیپلز پارٹی یا جے یو آئی عوام کی نظروں میں دوسری مسلم لیگ (ق) بن گئیں، یوں اس کی مقبولیت زمین پر آگری۔

مسلم لیگ (ن) کو یہ بھی احساس ہے کہ زرداری اور مولانا اس کے ساتھ ڈرٹی گیم کھیل رہے ہیں اور اقتدار میں استحقاق سے زیادہ حصہ لینے کے باوجود حکومتی اقدامات کے دفاع اور ذمہ داری میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے۔ چنانچہ ایسا لگتا ہے کہ اب مسلم لیگ(ن) دوبارہ ماضی کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ مریم نواز کو آگے کرنے اور میاں نواز شریف کے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے خلاف بیانات سے لگتا ہے کہ اب نون لیگ بالخصوص نوازشریف ماضی کی طرف لوٹ کر دوبارہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کی طرف آرہے ہیں۔ وہ سردست اپنی تنقید جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید تک محدود رکھ رہے ہیں اور جنرل آصف غفور کا نام بھی نہیں لے رہے لیکن جلد وہ ان کا نام بھی لینا شروع کردیں گے۔ دوسری طرف عمران خان صرف جنرل باجوہ کا نام لے رہے ہیں اور باقی دو کا نہیں ۔

ظاہر ہے کہ موجودہ عسکری قیادت جس طرح اپنے سابق چیف جنرل باجوہ کے خلاف عمران خان کی تنقید پر خوش نہیں رہتی، اسی طرح وہ نون لیگ کی تنقید پر بھی خوش نہیں ہوگی بلکہ نون لیگ کے اس عمل کو پچھلے سال کے دوران قولی اور عملی طور پر کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا جائے گا۔اس سے اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں کو یہ پیغام بھی جائے گا کہ نون لیگ کے دل میں کینہ یا پھر عسکری اداروں سے اسکور برابر کرنے کی سوچ اب بھی موجود ہے۔مسلم لیگ(ن) کی طرف سے اس بیانیے کو دوبارہ اپنانے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں کی طرف سے عسکری قیادت پر بھی اسی طرح دبائو آئے گا جس طرح جنرل باجوہ پر آیا تھا۔ اب اگر نون لیگ معیشت اور ریاست بچاکر سیاست کو قربان کرنے کا رویہ برقرار نہیں رکھتی تو اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں سے ماضی کی طرح وعدہ خلافی کرتی ہے اور اگر سیاست کو ترجیح بناتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں کو امتحان میں ڈالے گی ۔

دوسری طرف عمران خان ماضی کی طرح دوبارہ لاڈلا بننے کیلئے رابطے کر رہےہیں اور ہر طرح کی گارنٹیاں دینے کی کوششوں میں مگن ہیں لیکن انہوں نے ماضی قریب میں جو کچھ کیا اور کررہے ہیں، اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ مقبول ہونے کے باوجود دوبارہ انہیں کسی بھی صورت اسٹیبلشمنٹ کے سرخیلوں کے ہاں قبولیت نہیں مل سکتی۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ پریشانی بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کے حوالے سے رہتی ہے لیکن حسبِ عادت مسلم لیگ(ن) کو ان میں کوئی دلچسپی نہیں۔ پختونخوا کو انہوں نے جے یو آئی، بلوچستان کو مولانا اور قوم پرستوں اور سندھ کو زرداری کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔ یوں اسٹیبلشمنٹ بھی سردست معیشت کے بارے میں پریشان، افغانستان اور پختونخوا کے بارے میں سرگردان جبکہ بلوچستان اور سندھ کے حالات کے بارے میں پریشان ہے۔

اب اگر عمران خان کے ناقابل قبول ہونے کے بعد پی ڈی ایم بھی ناقابل قبول بن جاتی ہے تو پھر اس کے پاس کیا راستہ بچے گا؟۔اسٹیبلشمنٹ کا بھی المیہ یہ ہے کہ وہ عمران خان اور اس کے ہمنوا میڈیا اور عدلیہ سے تو پریشان ہے لیکن ان سب کو غیرفطری طریقے سے دوسروں کی عزتوں کی قیمتوں پر سرچڑھانے والے اپنے بندوں کو بچانا چاہ رہی ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم کس طرف جارہے ہیں اور اس کا انجام کیا ہوگا؟۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے