اپنے ’’شکار‘‘ ڈھونڈتا ’’مکار‘‘ سسٹم

اندھی نفرت وعقیدت کی بنیاد پر ہوئی تقسیم کی وجہ سے گزشتہ کئی برسوں سے جو تہمتیں،طعنے اور ذلتیں برداشت کی ہیں انہیں ذہن میں رکھوں تو مجھے سینہ پھلا کر فواد چودھری کی گرفتاری کا دفاع کرنا چاہیے۔ ربّ کریم نے مگر ڈھٹائی والی خصلت سے محروم رکھا ہے۔ کسی بھی سیاسی کارکن کے نظریات سے ہزاروں اختلافات کے باوجود اس کے خلاف ریاستی جبر کے استعمال کو ہمیشہ غلط ہی تصور کیا ہے۔فواد چودھری کی گرفتاری کی بابت بھی دُکھی محسوس کررہا ہوں۔

فواد چودھری کے تایا چودھری الطاف حسین مرحوم میرے مشفق مہربان تھے۔اقتدار کے کھیل میں ملوث سرکردہ کردار اپنے اہداف کے حصول کے لئے ڈھٹائی اور سفاکی کی جن حدوں تک جاسکتے ہیں الطاف حسین کی سیاست اس کا نصابی اظہار تھی۔ منافقت کوڈھٹائی سے بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ پنجابی فلموں میں دکھائے ’’جاٹ‘‘ کی طرح اپنے دشمنوں کو نیچا دکھانے کے لئے ہر حربہ استعمال کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے۔اُس کے بارے میں مدافعانہ رویہ اختیار کرنے کی انہیں عادت ہی نہیں تھی۔ ان کی قربت نے مجھ سادہ لوح کو قطعیت سے سمجھادیا کہ حکمران اگر اپنا اختیار استعمال کرنے پر ڈٹ جائیں تو عافیت تلاش کرنا بہت دشوار ہوجاتا ہے۔عمران حکومت میں شمولیت کے بعد فواد چودھری کئی اعتبار سے اپنے تایا کے مستند جانشین ہی محسوس ہوتے رہے۔

اگست2018میں عمران حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد مجھ دو ٹکے کے رپورٹر کو واضح اشارے ملنا شروع ہوگئے کہ ٹی وی سکرینوں پر موجود چند ’’تخریب کاروں‘‘ کی فہرست تیار کرلی گئی ہے۔صحافتی اداورں پر دبائو بڑھایا جائے گا کہ انہیں ملازمتوں سے فارغ کردیا جائے۔ مجھ بدنصیب کا نام ایسے صحافیوں کی فہرست میں ’’نمبر ون‘‘تھا۔ مجھے اطلاع ملی تو فواد چودھری کو فون کیا۔موصوف نے دوسری گھنٹی پر خلوص بھرے احترام سے میرا نام لیتے ہوئے اسے وصول کیا۔میں نے طنز بھرے الفاظ میں اپنے حوالے سے ’’موسم آیا تو نخل دار پہ میرؔ…‘‘والی کہانی سنائی تو چودھری صاحب نے لاعلمی کا اظہار کیا۔اس امر کا اعتراف البتہ کردیا کہ مجھ تک پہنچی فہرست انہوں نے بطور وزیر اطلاعات تیار نہیں کی ہے۔ان کی وزارت سے بھی اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔ساتھ ہی اس امر پر ’’حیرت‘‘ کا اظہار بھی کردیا کہ باخبر صحافی ہونے کا دعوے دار ہوتے ہوئے بھی میں کیوں جان نہیں پایا کہ سیم پیج کے موسم میں ’’اصل فیصلے‘‘ کہاں ہورہے ہیں۔

بہرحال فیصلہ ہوچکا تھا۔میں جس ٹی وی چینل سے منسلک تھا اس نے مجھے اپنے ادارے پر ’’مالیاتی بوجھ‘‘ ٹھہراکر فارغ کردیا۔اس کے بعد دیگر کئی ساتھی بھی بیروزگاری کی لپیٹ میں آئے۔فواد چودھری سے شکوہ مجھے فقط یہ رہا کہ وہ صحافت کی جبری صفائی کے مذکورہ عمل سے لاتعلقی اختیار کرنے کے بجائے اس کے دفاع میں ڈٹ کھڑے ہوگئے۔ صحافتی اداروں کے ’’بزنس ماڈل‘‘ پر رعونت بھرے لیکچر دینا شروع کردئے۔عمران حکومت کے دوران اس کے سیاسی یا صحافتی ناقد جب بھی کربناک مراحل سے گزرتے تو بطور وزیر اطلاعات فواد چودھری کندھے اچکاکر پنجابی کا وہ محاورہ یاد دلاتے جوگاجریں کھانے کی وجہ سے پیٹ میں درد کا باعث ہوتا ہے۔میری شدید تمنا رہی کہ دیرینہ تعلق کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کے ساتھ تنہائی میں ملنے کا وقت مانگوں۔ سمجھانے کی کوشش کروں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ایسی ملاقات کی درخواست کرنے کو دل مگر مائل ہی نہیں ہوپایا ۔ذاتی شکوے سے بالاتر ہوکر سوچوں تو فواد چودھری نے سیاست میں کامیابی کے زینوں پر سرعت سے آگے بڑھنے کے لئے کمال ذہانت سے دریافت کرلیا تھا کہ اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے ماحول میں ’’جٹ داکھڑاک‘‘ ہی کام آتا ہے۔برجستہ فقروں، کامل اعتماد اور قابل رشک حس مزاح کی بدولت وہ ٹی وی سکرین پر رونق لگادیتے ہیں۔تحریک انصاف کے بیانیے کا ان سے بہتر پرچارک عمران صاحب کے دربار میں موجود نہیں ہے۔فواد چودھری مگر ایک ذہین شخص بھی ہیں۔

ہمارے نظام میں سیاست دانوں کی ’’محدودات‘‘ کا انہیں مجھ سے کہیں زیادہ علم ہونا چاہیے تھا۔انہیں یہ دریافت کرنے کو کسی ’’اتالیق‘‘ کی ہرگز ضرورت نہیں تھی کہ چودھری پرویز الٰہی کے ہاتھوں پنجاب حکومت تحلیل کروالینے کے بعد عمران خان صاحب اور ان کے وفاداروں کے پاس ریاستی جبر سے محفوظ رہنے کی ’’پناہ گاہیں‘‘ بھی موجود نہیں رہیں۔ ’’جاٹ‘‘ کو اب بلاضرورت بڑھک بازی سے گریز کرنا ہوگا۔محسن نقوی کی الیکشن کمیشن کی معاونت سے بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب تعیناتی کے ایک دن بعد یہ کالم لکھتے ہوئے میں نے ’’احتجاجی اور انتخابی‘‘ سیاست کے مابین فرق اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی۔کسی بھی نوعیت کے ’’ذرائع‘‘ سے رجوع کئے بغیر ملکی سیاست کا محض دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے یہ عرض بھی گزاری تھی کہ ’’سسٹم‘‘ اب ’’عمران دوست‘‘ نہیں رہا۔تحریک انصاف نے اگر ’’احتجاجی سیاست‘‘ بھڑکانے کی کوشش کی تو اس جماعت کے ’’انتخابی اثاثوں‘‘ کو جھوٹے سچے مقدمات میں الجھادیا جائے گا۔ فواد چودھری کی گرفتاری میری دانست میں اس جانب اٹھایا پہلام قدم ہے۔فواد چودھری وکالت کے شعبے میں متحرک رہے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی فیصل بھی ایک ذہین اور کامیاب وکیل ہیں۔خاندانی پس منظر اور فواد چودھری کی ذات کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں بھرپور اعتماد سے یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ ’’بغاوت‘‘ کا تاثر دیتی دفعات کے تحت گرفتاری سے وہ ہرگز نہیں گھبرائیں گے۔جو افتادان پر نازل ہوئی ہے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

’’سسٹم‘‘ کی مزاحمت کے دوران اگرچہ چند ہی دنوں میں وہ یہ بھی جان لیں گے کہ ان کے خلاف بنائے مقدمے نے حقیقی معنوں میں نام نہاد ’’لبرل اصول پرستوں‘‘ کے اسی گروہ کو پریشان کیا ہے جو عمران حکومت کے دوران بھی ایسی حرکات کے خلاف آواز بلند کرنے کی وجہ سے فواد چودھری صاحب کے طنز بھرے جملوں کا نشانہ بنتا تھا۔سوشل میڈیا کی بدولت خود کو دورِ حاضر کے ’’چی گویرا‘‘ ثابت کرتے کئی ’’بے باک‘‘ افراد بتدریج انہیں ویسے ہی بھلادیں گے جیسے شہباز گل اور اعظم سواتی کو ان کی افتاد کے دنوں میں نظرانداز کردیا گیا تھا۔’’سسٹم‘‘ بہت مکار ہوتا ہے۔یہ اپنے ناپسندیدہ افراد کے خلاف بیک وقت غول کی صورت حملہ آور نہیں ہوتا۔ نہایت سفاکی سے اپنے ’’شکار‘‘ ڈھونڈ کر اپنی توجہ انہیں اذیت پہنچانے پر مرکوز رکھتا ہے۔

چند نمایاں افراد کو وقفوں سے جبر کی لپیٹ میں لیتے ہوئے انہیں ’’عبرت کا نشان‘‘ بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ایسے افراد کے ساتھ ہوا سلوک ان کے سیاسی ہمدردوں کے دلوں میں خوف جاگزیں کرتا ہے۔شہباز گل کے ساتھ ہوئے ’’سلوک‘‘ کا بنیادی مقصد یہ ہی تھا۔فواد چودھری کی گرفتاری کے ذریعے اب عمران خان کی حمایت میں صف اوّل میں کھڑے افراد کو وقفوں سے چن چن کر نشانہ بنایا جائے گا۔وطن عزیز میں سیاسی مخالفین کے ’’مکو ٹھپنے‘‘ کا یہ عمل 1950سے جاری ہے۔عمران حکومت نے بھی اس مکروہ روایت کو کمزور کرنے کے بجائے مزید سفاکانہ بنایا تھا۔ کاش وہ اسے بدلنے کو ڈٹ جاتی اور فواد چودھری سکرینوں پر رونق لگانے کو میسر رہتے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے