زرداری پر قتل کا الزام، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید تھانے میں پیش نہ ہوئے، مقدمہ درج ہونے کا امکان

اسلام آباد: سابق صدر آصف زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے کے خلاف شکایت پر پولیس نے شیخ رشید کو تھانے طلب کرلیا۔

وفاقی دارالحکومت کے تھانہ آبپارہ میں شہری کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست جمع کروائی گئی ہے، جس میں سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے کی شکایت کی گئی ہے۔

شہری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے اپنے ایک انٹرویو میں سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کو قتل کرانے کی سازش کا الزام لگایا ہے۔ شیخ رشید نے ایک سازش کے تحت آصف زرداری پر یہ الزام لگایا ہے، جس سے سابق صدر اور ان کے خاندان کو مستقل خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

شہری راجا عنایت کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کے لیے دی گئی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ الزام کے ذریعے سازش کرنے پر شیخ رشید سمیت دیگر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، جس پر پولیس نے شیخ رشید کو آج شام تھانے طلب کیا تاہم وہ نہیں گئے۔

اطلاعات ہیں کہ شیخ رشید کی جانب سے کوئی نمائندہ پیش نہ ہوا، شیخ رشید کو پانچ بجے تھانہ آب پارہ طلب کیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کے خلاف درخواست پر رپٹ درج کرلی ہے، عدم حاضری پر انہیں الزامات کا جواب دینے کے لیے مزید ایک نوٹس دیا جائےگا اور ان سے ثبوت مانگا جائے گا، ثبوت فراہم کرنے میں ناکامی پر اعلیٰ افسران کی اجازت سے مقدمہ درج کرنے کی کارروائی کو آگے بڑھایا جائےگا۔

پولیس ذرائع کے مطابق سابق وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے اگر ثبوت فراہم نہ کیے تو ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ پانچ سو پانچ کے تحت مقدمہ درج ہوگا، دفعہ پانچ سو پانچ کا مطلب کسی کے بارے میں جان بوجھ کرجھوٹی افواہ پھیلانا، کسی کونقصان پہنچانے کی نیت سے لوگوں کو اس کے خلاف ورغلانا، سنگین نوعیت جھوٹے الزامات سے کسی کی شہرت کو داغ دار کرنا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق دفعہ پانچ سو پانچ کے تحت جرم ثابت ہونے کی سزا سات سال ہے اور یہ ناقابل ضمانت جرم ہے، شیخ رشید کو آصف زرداری کے خلاف ثبوت فراہم کرنے کا ایک اورموقع دیا جائے گا جس میں ناکامی پر پرچہ کاٹ دیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے