میرے صوفی صاحب!

جس طرح ہمارے بلوچستان کے لوگ بجاطور پر احساس محرومی کا شکار ہیں اسی طرح میں بھی ایک حوالے سے احساس محرومی کا مارا ہوا ہوں۔ میرا احساس محرومی یہ ہے کہ اپنی طالب علمی کے زمانے میں مجھے مرحوم صوفی تبسم صاحب سے پڑھنے کا اتفاق کیوں نہ ہوا کیونکہ ان کے شاگرد اپنے استاد کا ذکر جس محبت اور عقیدت سے کرتے ہیں اور بطور استاد ان کے ’’فضائل‘‘ جس طرح بیان کرتے ہیں اس سے میرے اندر احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔ صوفی صاحب کی شاگردی میں نہ آسکنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے لئے راوین ہونا ضروری تھا جب کہ میں راوین نہیں۔ میں نے بی اے، ایم اےاو کالج سے کیا تھا البتہ میری بیوی ’’اولڈ‘‘ راوین ہے کاش وہ صرف راوین ہوتی۔

ایم اے او کالج کا معاملہ یہ تھا کہ ایک دفعہ اعجاز حسین بٹالوی نے ایک طالب علم کے داخلے کی سفارش کے لئے مجھے اس کے ہاتھ ایک رقعہ بھیجا جس میں لکھا تھا برادرم قاسمی صاحب حامل رقعہ ہذا کا خیال ہے کہ انسان کو علم ضرور حاصل کرنا چاہیے خواہ اس کے لئے اسے ایم اے او کالج ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ تاہم یہ اس زمانے کی بات ہے جب لڑکا وہاں فرسٹ ایئر میں داخلہ لیتا تھا اور فورتھ ایئر تک پہنچتے پہنچتے عموماً پولیس مقابلے میں مارا جاتا تھا۔ تاہم پڑھائی مکمل کرکے وہاں بطور لیکچرر میری تعیناتی کے بعد صورتحال بدل گئی تھی۔ اس کے بعد کسی طالب علم کے نہیں استاد کے مارے جانے کا اندیشہ ہمیشہ لاحق رہنےلگا۔

خیر اگرچہ مجھے صوفی صاحب کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی لیکن ان سے ملاقات کا شرف ضرور حاصل رہا ہے سوائے ایک ملاقات کے باقی اکثر ملاقاتیں مختصر دورانیے کی ہوتی تھیں اور باعث ملاقات مشاعرےبنتے تھے یا ان سے سرراہے ملاقات ہو جاتی تھی البتہ ایک طویل ملاقات ان کی سمن آباد والی کوٹھی میں ہوئی تھی اور اس دوران وہ کافی دیر تک مجھ سے امرتسر میرے والد صاحب مولانا بہاء الحق قاسمی اور میرے دادا مفتی غلام مصطفیٰ قاسمی کی باتیں کرتے رہے۔ والد ماجد ایم اے او کالج اور ایم اے او ہائی اسکول امرتسر سے 28برس تک وابستہ رہے تھے ویسے بھی امرتسر کے لوگ ایک گھرانے کی طرح رہتے تھے اور یوں ایک دوسرے سے شناسائیاں اور محبتیں بہت عام تھیں۔ صوفی صاحب کے ساتھ میرے خاندان کا ایک رشتہ کشمیری ہونے کے ناتے بھی تھا اور یہ تو آپ جانتے ہیں کہ کشمیریوں کی نانی ایک ہوتی ہے۔

کسی دن مجھے صوفی صاحب اور اپنے شجرۂ نسب میں پرنانی تلاش کرنا ہی پڑے گی بلکہ ایک دفعہ صوفی صاحب کے داماد اور میرے دوست ماجد علی شاہ نے یہ فال ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکال ہی لی تھی اور مجھے اس بارے میں بتایا بھی تھا۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم فارسی ، اردو اور پنجابی زبان و ادب کے وہ غواص تھے جو ان سمندروں سے وہ موتی نکال کر لاتے تھے جن کی چمک آنکھوں کو خیرہ کردیتی تھی وہ اپنے طالب علموںکی جھولیاں موتیوں سے بھر دیتے تھے۔

صوفی صاحب اپنے تمام تر علم و فضل کے باوجود نہایت شگفتہ طبیعت کے مالک تھے۔ وہ پھلجھڑیاں چھوڑتے بھی تھے اور پھلجھڑیوں سے لطف اندوز بھی ہوتے۔ ایک بار میں نے بھی لبرٹی لیتے ہوئے اپنے کالم میں صوفی صاحب کی ایک میٹھی سی چٹکی لی مگر پھر ڈر کے مارے ان کے سامنے آنے سے گریز کرنے لگا۔ ایک روز انار کلی سے نیلا گنبد کی طرف آ رہا تھا کہ ناگاہ میری نظر صوفی صاحب پر پڑی وہ ٹائروں کی دکانوں کے سامنے چلتے چلتے میری طرف ہی آ رہے تھے، میں ابھی وہاں سے دوڑ لگانے کی سوچ رہا تھا کہ صوفی صاحب نے مجھے پکارا ’’اوئے ایدھر آ‘‘میں سر جھکائے گربہ مسکین بنا ان کے پاس گیا۔ انہوں نے ایک ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا اور کہا ’’وہ تم نے اپنے کالم میں کیا لکھا تھا؟‘‘ میں نے منمناتے ہوئے کہا ’’کچھ نہیں جی! بس ایسے ہی!‘‘ یہ سن کر صوفی صاحب نے اپنے جھالروں والے سر کے میدانی حصے میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ’’توں بڑا….‘‘ اگلا لفظ میں چھوڑ رہا ہوں۔

صوفی صاحب سے ملنے والے جانتے ہیں کہ وہ لفظ کیا تھا اور انہیں یہ بھی علم ہے کہ اس لفظ کا استعمال وہ عموماً شاباش دینے کے لئے ہی کیا کرتے تھے۔ تاہم ایک دفعہ میں نے صوفی صاحب کو ایک مشاعرے کے دوران جو پنجاب آرٹس کونسل کے زیرا ہتمام ہو رہا تھا، غصے میں بھی دیکھا لیکن ان کے اس غصے کو اسٹیج پر ہم سب شعراء نے بہت انجوائے کیا کیونکہ اس میں ہم سب کے غصے کی نمائندگی بھی موجود تھی دراصل اس مشاعرے میں لاہور کے ایک شاعر بھی موجود تھے جو مسلم لیگ کی حکومت میں اپنی جناح کیپ اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں اپنی مائو کیپ سے لوگوں کو ڈراتے رہتے تھے وہ جب اسٹیج پر کلام سنانے کیلئے تشریف لائے تو ایک بے ہودہ قسم کی نظم پڑھی جو سامعین نے بمشکل ہضم کی۔ اس کے بعد جب وہ دوسری نظم پڑھنے لگے تو لوگوں نے انہیں ہوٹ کرنا شروع کردیا۔

صدر مشاعرہ صوفی صاحب نے انہیں مخاطب کرکے آہستہ سے کہا اب واپس آ جائو۔ موصوف نے نظم جاری رکھی۔ صوفی صاحب نے ایک مرتبہ پھر انہیں واپس آنے کے لئے کہا لیکن اس بار بھی انہوں نے نہ صرف یہ کہ سنی اَن سنی کر دی بلکہ تیسری نظم کے لئے بھی اسٹارٹ لے لیا۔ اس پر صوفی صاحب جھنجھلا کر اپنی صدارتی نشست سے کھسکتے کھسکتے ان کی طرف بڑھے اور ان کی قمیص پیچھے سے کھینچتے ہوئے باآواز بلند غصے سے کہا، ’’توں واپس آنا اے کہ نیں‘‘ جس پر سارا ہال زعفران زار بن گیا۔ گویا صوفی صاحب کا غصہ بھی رنگ میں بھنگ ڈالنے والا نہیں بلکہ محفل کی رونق میں اضافے کا باعث بنا۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن ان کی خوبصورت غزلیں، ان کے تراجم ان کے علمی مضامین اور ایک اعلیٰ درجے کا استاد ہونا ان کی ہمہ جہت شخصیت کے ایسے پہلو ہیں کہ ان کا احاطہ ایک مختصر سے مضمون میں ممکن نہیں۔ مجھے ان کے یہ دو شعر خصوصاً بہت پسند ہیں۔

سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی

دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی

دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے

آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی

اور جو کچھ بچوں کیلئے لکھ گئے ہیں پورے اردو ادب میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ فوزیہ تبسم ہر سال صوفی صاحب کی برسی مناتی ہیں جبکہ صوفی صاحب تو ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ بہتر ہوگا کہ آئندہ برسی کی بجائے صوفی صاحب کی سالگرہ منائی جائے اور کوئی گول مٹول سا ٹوٹ بٹوٹ سالگرہ کا کیک کاٹے۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے