سپریم کورٹ سے غدار اور پھانسی کی سزا پانے والے سابق آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی میت پہنچنے سے پہلے ایک کہانی پڑھیں

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی میت پاکستان بھیجنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔سفارتی حکام کے مطابق دبئی قونصل خانے نے میت منتقل کرنے کیلئے این او سی جاری کردیا اور ان کا پاسپورٹ کینسل کردیا گیا ہے۔سفارتی حکام نے بتایاکہ سابق صدر پرویز مشرف کی میت راولپنڈی روانہ کی جائے گی۔اہل خانہ کے ذرائع کے مطابق پرویز مشرف کی میت المکتوم ائیرپورٹ سے پیرکی صبح 11 بجے روانہ ہوگی۔

[pullquote]دبئی: سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف انتقال کرگئے ۔[/pullquote]

پرویز مشرف طویل عرصے سے امریکن اسپتال دبئی میں زیرعلاج تھے۔ اہلخانہ کے مطابق پرویز مشرف کا آج علی الصبح دبئی میں انتقال ہوا۔خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہےکہ پرویزمشرف کو کراچی میں سپردِ خاک کیا جائےگا۔سابق صدر پرویز مشرف گیارہ اگست 1943 کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے، ان کا انتقال 79 سال کی عمر میں ہوا۔جنرل (ر) پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998 کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے، 12 اکتوبر 1999 کو وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو ہٹا کر چیف ایگزیکٹو بنے اور بعد ازاں اپریل 2002 میں ریفرنڈم کراکے باقاعدہ صدر پاکستان منتخب ہوئے۔سال 2004 میں آئین میں 17 ویں ترمیم کے ذریعے مزید 5 سال کے لیے پرویز مشرف باوردی صدر منتخب ہوئے، پرویز مشرف 18 اگست 2008 کو مستعفی ہوکر ملک سے باہر چلےگئے تھے۔جنرل (ر) پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998 کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے، 12 اکتوبر 1999 کو وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو ہٹا کر چیف ایگزیکٹو بنے اور بعد ازاں اپریل 2002 میں ریفرنڈم کراکے باقاعدہ صدر پاکستان منتخب ہوئے۔سال 2004 میں آئین میں 17 ویں ترمیم کے ذریعے مزید 5 سال کے لیے پرویز مشرف باوردی صدر منتخب ہوئے، پرویز مشرف 18 اگست 2008 کو مستعفی ہوکر ملک سے باہر چلےگئے تھے۔

[pullquote]پرویز مشرف کو آئین شکنی کے مقدمے میں سزائے موت کا حکم سنایا گیا[/pullquote]

17 دسمبر 2019 میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو آئین شکنی کے مقدمے میں آرٹیکل 6 کامجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت دینےکا حکم سنایا تھا۔جسٹس سیٹھ وقار کی سربراہی میں سنگین غداری کیس سننے والی خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتےہوئے قرار دیا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر آرٹیکل 6 کا جرم ثابت ہوتا ہے، اس لیے خصوصی عدالت پرویز مشرف کو سزائے موت کو حکم دیتی ہے۔اکثریتی فیصلہ پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف چیف جسٹس جسٹس وقار سیٹھ اور لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد فضل کریم نے دیا جب کہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذرمحمد نے فیصلے سے اختلاف کیا۔

پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس سابق وزیراعظٕم نوازشریف کے دور حکومت میں دائر کیا گیا، خصوصی عدالت 20 نومبر 2013 کو قائم کی گئی جس کے بعد خصوصی عدالت کی 6 دفعہ تشکیل نو ہوئی، ججز بدلتے رہے، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہرعالم میاں خیل، جسٹس طاہرہ صفدر سمیت 7 ججز نے یہ مقدمہ سنا اور سنگین غداری کیس خصوصی عدالت میں 6 سال تک چلتا رہا جس کے دوران مجموعی طور پر 125 سماعتیں ہوئیں۔

31 مارچ 2016 کو فرد جرم عائد ہونے کے موقع پر پرویز مشرف عدالت میں موجود تھے مگر پھر بیماری کی وجہ سے پرویز مشرف ملک سے باہر چلےگئے اور پھر کبھی واپس نہ آئے۔

عدالت نے کئی بار پرویز مشرف کو پیش ہونےکا موقع فراہم کیا جس کے بعد خصوصی عدالت نے 19 جون 2016 کو پرویز مشرف کو مفرور قرار دے دیا، اس سے قبل خصوصی عدالت میں دوران سماعت استغاثہ نے پرویز مشرف کے ساتھ سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، سابق وزیر قانون زاہد حامد اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کو بطور شریک ملزم شامل کرنے کی درخواست کی جو عدالت نے مسترد کر دی اور ریمارکس دیےکہ اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل رضا بشیر نے ایک بار پھر پرویز مشرف کو 342 کا بیان دینےکا موقع مانگا تو عدالت نے کہا کہ وہ یہ موقع بارہا فراہم کر چکے اب وہ وقت گزر چکا ہے، اشتہاری کا کوئی حق نہیں ہوتا جب تک وہ خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر نہ کرے، عدالت نے سماعت میں وقفہ کیا جس کے بعد سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔

[pullquote]مشرف غدار نہیں ہوسکتے، عدالتی فیصلے پر فوج میں غم و غصہ اور اضطراب ہے: ترجمان پاک فوج[/pullquote]

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی خصوصی عدالت سے سزا پر ردعمل میں کہا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے۔اسلام آباد میں خصوصی عدالت نے سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کو غدار قراردیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔اس صورتحال پر جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا۔اجلاس کے بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹ میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پرافواجِ پاکستان میں شدید غم وغصہ اور اضطراب ہے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق جنرل (ر) پرویز مشرف آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور صدرِ پاکستان رہے ہیں، پرویز مشرف نے 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی ہے اور ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں، وہ کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیس میں آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، خصوصی عدالت کی تشکیل کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور جنرل (ر) پرویز مشرف کو اپنے دفاع کا بنیادی حق بھی نہیں دیا گیا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی، کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا ہے لہٰذا افواجِ پاکستان توقع کرتی ہیں کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو آئین پاکستان کے تحت انصاف دیا جائے گا۔خیال رہے کہ سنگین غداری کیس کی 6 سال میں 125 سے زائد سماعتیں ہوئیں اور پرویز مشرف پر 5 فریم چارج کیے گئے۔ سابق صدر پرویز مشرف پر آئین توڑنے، ججز کو نظربند کرنے، آئین میں غیر قانونی ترمیم کرنے، بطور آرمی چیف آئین معطل کرنے اور غیر آئینی پی سی او جاری کرنے کا چارج فریم کیا گیا۔عدالت نے متعدد مرتبہ پرویز مشرف کو وقت دیا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔

[pullquote]پرویزمشرف کا جسد خاکی کراچی آیا تو شان سے تدفین کریں گے، خالد مقبول[/pullquote]

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کا جسد خاکی کراچی آیا تو شان سے تدفین کریں گے۔کراچی میں جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب میں خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھاکہ آج شب غم ہے پاکستان کے محسن پرویزمشرف انتقال کرگئے، آمر ہوتے ہوئے بھی پرویزمشرف نے بنیادی جمہوریت کا بہترین نظام دیا اور آزاد میڈیا کی بنیادرکھی۔انہوں نے کہا کہ متعصب عدالت نے نامناسب کلمات کہے تو پرویز مشرف سے اظہار یکجہتی کیلئے پورا کراچی باہرآگیا۔ خالد مقبول صدیقی نے اعلان کیا کہ پرویز مشرف کا جسد خاکی کراچی آیا تو شان سے ان کی تدفین کریں گے۔

[pullquote]سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی زندگی پر ایک نظر[/pullquote]

پاک فوج کے سابق سربراہ اور سابق صدر مملکت جنرل (ر) پرویزمشرف اپنے غیرمعمولی فیصلوں اور متنازع اقدامات کے باعث ملکی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

"سب سے پہلے پاکستان” کا نعرہ متعارف کرانے والے پرویز مشرف کارگل جنگ سے لےکر نواز حکومت کا تختہ اُلٹنے تک اور خود کو باوردی صدر بنوانے سے لےکر ملک سے باہر جانے تک اپنی ہنگامہ خیز زندگی میں ہمیشہ سرخیوں میں رہے.
گیارہ اگست 1943 کو وہ دہلی میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان کے بعد والدین کے ہمراہ کراچی منتقل ہوگئے، ان کے والد مشرف الدین محکمہ خارجہ سے منسلک تھے، پرویز مشرف عمر کے ابتدائی سالوں میں والدکی پوسٹنگ کے دوران ترکی انقرہ میں رہے، اس کے بعد کراچی میں سینٹ پیٹرک ہائی اسکول اور ایف سی کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے 1961 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا اور اسپیشل سروسز گروپ میں شمولیت اختیار کی، 1965اور 1971 کی جنگوں میں بھی حصہ لیا، کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ سے گریجویشن کی اور رائل کالج اور ڈیفنس اسٹڈیز برطانیہ سے بھی کورسز کیے۔

اپنے ملٹری کیرئیر میں پرویز مشرف نےکئی کمانڈز اور تربیتی سربراہ کے عہدوں پر کام کیا اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے اہم عہد ے پر بھی فائز رہے، انہیں فوجی تاریخ میں کارگل آپریشن کے مرکزی کردار کےطور پر جانا جاتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پرویز مشرف کا کردار اہم اور متنازع رہا ہے، وہ سات اکتوبر 1998 کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے، وہ پاک فوج کے 13 ویں آرمی چیف تھے۔

پرویز مشرف بارہ اکتوبر 1999 کو نواز شریف کی حکومت ختم کرکے چیف ایگزیکٹو بن گئے، پرویز مشرف کو کارگل آپریشن کے مرکزی کردار کے طور پربھی جانا جاتا ہے، انہوں نے نائن الیون حملے کے بعد القاعدہ کےخلاف افغان جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی بننے کی امریکی پیش کش بھی قبول کی۔

اپریل 2002 میں وہ ریفرنڈم کرا کے باقاعدہ صدر پاکستان منتخب ہوگئے، سال دوہزار چار میں اسمبلی سے مسلم لیگ ق کی حمایت سے آئین میں سترھویں ترمیم کراکے مزید پانچ سال کے لیے باوردی صدر منتخب ہوگئے۔

پرویز مشرف کے دور حکومت میں پاک بھارت تعلقات میں آگرہ سمٹ بھی اہم رہا, مشرف دور حکومت میں میڈیا خصوصاً نجی میڈیا کو عروج حاصل ہوا اور میڈیا نے انڈسٹری کا درجہ حاصل کیا، دوسری جانب میڈیا کو اس دور میں شدید دباؤ اور قدغن کا سامنا کرنا پڑا، صحافیوں کی گرفتاریاں بھی ہوئی اور ملک کے کئی نیوز چینلز کافی عرصے تک بند کردیےگئے۔

پرویزمشرف کے دور میں ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جاری منصوبوں کے ساتھ میزائل ٹیکنالوجی سمیت دیگر خود انحصاری پر مشتمل دفاعی منصوبوں کا آغاز کیا گیا، ان کے دور کو بہتر معاشی دور سمجھا جاتا ہے جہاں پاکستان آئی ایم ایف کے قرض سے نجات حاصل کرسکا تھا، مشرف دور حکومت میں نادرا کے محکمے کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا اور ساتھ ہی نیا بلدیاتی نظام متعارف کرایا گیا جس پر اختلاف رائے تو پایا گیا لیکن اس نظام کی خوبیوں کو بھی نظر انداز نہ کیا جاسکا جس میں اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم اہم عنصر تھا۔

ان کے دور حکومت میں ملک کے شمالی سرحدی علاقوں میں آپریشن اور ڈرون حملوں میں سیکڑوں ہلاکتیں ہوئیں ،سوئی میں ڈاکٹر شازیہ ریپ کیس، نواب اکبر بگٹی کے قتل اور لال مسجد آپریشن پرعوامی ، سیاسی سماجی حلقوں میں انتہائی غم و غصہ پایا گیا جس نے ان کو ایک متنازع شخصیت بنادیا۔

نومبر 2007 کو پرویز مشرف نے آئین مخالف اقدامات کرکے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو معزول کردیا جوایک بڑا تنازع بنا اور عدلیہ آزادی تحریک شروع ہوئی، جنرل پرویز مشرف کو فوج کے سربراہ کے عہدے سے نو سال بعد 28 نومبر 2007 کو سبکدوش ہونا پڑا۔

انہوں نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے ساتھ این آر او مفاہمتی معاہدہ بھی کیا ۔۔ بے نظیر بھٹو کی پاکستا ن آمد کے بعد جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے لئے اقتدار پر قائم رہنے میں مشکلات پیدا ہوئیں۔۔بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک میں عام انتخابات کے نتائج میں واضح تبدیلی سامنے آئی اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 18 اگست، 2008 کو قوم سے خطاب میں اپنے مستعفی ہو نے کا اعلان کردیا، بعد میں انہیں مکمل اعزاز کے ساتھ بیرون ملک رخصت کیا گیا۔

انہوں نے 29 نومبر 2007 کو پانچ سال کے نئے دور کے لیے صدر کا حلف اُٹھایالیکن وہ اس عہدے پر زیادہ عرصے برقرار نہ رہ سکے، بے نظیر بھٹو کی پاکستا ن آمد کے بعد جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے لیے اقتدار پر قائم رہنے میں مشکلات پیدا ہوئیں، بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک میں عام انتخابات کے نتائج میں واضح تبدیلی سامنے آئی اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 18 اگست 2008 کو قوم سے خطاب میں اپنے مستعفی ہو نے کا اعلان کردیا، بعد میں انہیں مکمل اعزاز کے ساتھ بیرون ملک رخصت کیا گیا۔

دسمبر 2019 کو پاکستان کی خصوصی عدالت نے غداری کے الزامات کے تحت انہیں سزائے موت سنائی لیکن لاہور ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو غیرآئینی قرار دے کر کالعدم کردیا، پرویز مشرف نے اس کے بعد اپنی زندگی کا باقی حصہ لندن اور دبئی گزارا، بھارت سمیت دیگر غیرملکی چینلز پر ان کے انٹرویوز کو خاصی شہرت حاصل رہی۔

ان کے دور حکومت میں ملک کے شمالی سرحدی علاقوں میں آپریشن اور ڈرون حملوں میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں، سوئی میں ڈاکٹر شازیہ ریپ کیس، نواب اکبر بگٹی کے قتل اور لال مسجد آپریشن پرعوامی، سیاسی سماجی حلقوں میں انتہائی غم و غصہ پایا گیا جس نے ان کو ایک متنازعہ شخصیت بنادیا، پرویز مشرف پر دو خودکش حملے بھی کیے گئے لیکن وہ محفوظ رہے۔

آخری ایام میں وہ شدید علیل رہے اور پانچ فروری 2023 کو دبئی میں انتقال کرگئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے