گلگت بلتستان کی حیثیت میں آئینی تبدیلی پر غور

چین کی اربوں ڈالرز پر مشتمل سرمایہ کاری کو قانونی تحفظ دینے کیلئے پاکستان گلگت- بلتستان کی حیثیت میں آئینی تبدیلی لانے پر غور کر رہا ہے۔

[pullquote]مبصرین کے مطابق، اس اقدام سے پاکستان کی کشمیرسے متعلق پوزیشن میں تاریخی تبدیلی آ سکتی ہے۔[/pullquote]

انڈیا گلگت-بلتستان پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتا آیا ہے اور اگر پاکستان نے اسے خطے کو آئینی طور پر اپنا حصہ قرار دے دیا تو دونوں ملکوں کے درمیان حال ہی میں بحال ہونے والے تعلقات کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

[pullquote]اس تجویز کے تحت پہلی بار پاکستانی آئین میں اسے ملک کا پانچواں صوبہ قرار دیا جا سکتا ہے.
[/pullquote]

اسلام آباد ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کے زیرتحت کشمیر کے حصوں کو نیم خودمختاری حاصل ہے اور وہ رسمی طور پر ملک کا حصہ نہیں، اور اسی موقف کے تحت وہ پورے کشمیر میں ریفرینڈم کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

– بلتستان کے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان کے ترجمان سجاد الحق نے اے ایف پی کو بتایا ‘ وزیراعظم نے اس معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے اور آپ کو جلد اچھی خبر ملے گی’۔

ایک سنیئر عہدے دار کے مطابق، حفیظ الرحمان اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے جمعرات کو اسلام آباد پہنچے ہیں اور اس دستاویز کو ‘ چند روز میں متعارف’ کرایا جائے گا۔

میں نام شامل کیے جانے کے ساتھ ساتھ گلگت- بلتستان وفاقی پارلیمنٹ میں دو اراکین کو بھی بھیج سکے گا تاہم ان کی حیثیت محض مبصر کی ہو گی۔

[pullquote]گلگت- بلتستان کے اعلیٰ ترین عہدے دار نے بتایا کہ یہ اقدام پاک۔ چین اقتصادی راہداری پر بیجنگ کے اٹھائے گئے تحفظات پر کیا جارہا ہے۔
[/pullquote]

اس عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ‘ [pullquote]چین کسی ایسی شاہراہ پر اربوں ڈالرز خرچ کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا جو ایسے متنازع خطے سے گزرے جس پر پاکستان اور انڈیا دونوں نے دعویٰ کررکھا ہو'[/pullquote]۔

اس راہداری منصوبے پر نئی دہلی پہلے ہی شدید تنقید کر چکا ہے اور انڈین وزیر خارجہ ششما سوراج نے جون 2015 میں اس منصوبے کو ‘ناقابل قبول’ قرار دیا تھا۔

[pullquote]تجزیہ کار عائشہ صدیقہ کے مطابق یہ اقدام اسلام آباد کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے اختتام کی خواہش کا سگنل ہے جس کے تحت اپنے کنٹرول حصوں کو ملک کا حصہ بنا کر انڈیا کے زیرتحت حصوں پر نئی دہلی کے دعویٰ کو تسلیم کرلیا جائے۔
[/pullquote]

ان کا کہنا تھا ‘ اگر ہم ایسا کرسکتے ہیں تو انڈیا بھی کرسکتا ہے، اس کے لیے بھی وادی کشمیر کو اپنا حصہ بنانا جائز ہوجائے گا’۔

ادھر کشمیری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ صوبہ بنایا گیا تو آزادی کے لئےجان کی قربانی دینے والے لاکھوں شہداء کے خون سے غداری ہو گی۔ پاکستان کے اس اقدام سے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کا کیس بہت کمزور ہو جائے گا ۔

واضح رہے کہ کشمیری زعماء نے اس قبل بھی کئی مرتبہ پاک بھارت بات چیت میں اپنے ان کو نظر انداز کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

خبر کا کچھ حصہ ڈان سے لیا گیا ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے