زمان پارک آپریشن : پولیس عمران خان کے گھر کے دروازے توڑ کر اندر داخل

لاہور: عمران خان کے لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوتے ہی پولیس نے زمان پارک میں آپریشن شروع کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا اور کیمپس اکھاڑ پھینکے۔

پولیس کا لاہور میں عمران خان کے گھر زمان پارک میں آپریشن جاری ہے۔ سی سی پی او لاہور خود کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پولیس عمران خان کے گھر کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہوگئی۔

زمان پارک کے علاقے کو مکمل سیل کردیا گیا ۔ پولیس کے ساتھ واٹر کینن، بلڈوزر اور قیدیوں کی وین ہے۔ پولیس نے کرین کی مدد سے پی ٹی آئی کے کیمپس اکھاڑ دیے اور بیریئرز و کنٹینرز ہٹادیے۔

عمران خان کے گھر کے باہر سے درجن بھر کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ کارکنوں کی طرف سے مزاحمت کی جارہی ہے اور پولیس پر پتھراؤ کیا جارہا ہے۔ پولیس نے کارکنوں کو قابو کرنے کےلیے شیلنگ شروع کردی ہے۔

سی سی ٹی وی اور تصاویر میں نظر آنے والے مشتعل افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔

زمان پارک میں موجود کارکنوں کی شناخت کا عمل کیا جائے گا اور لاہور پولیس پر حملہ کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔

[pullquote]پولیس نے میرے گھرزمان پارک پرحملہ کردیا جہاں بشریٰ بیگم اکیلی ہیں :عمران خان[/pullquote]

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس نے زمان پارک میں میرے گھر پر حملہ کردیا ہے جہاں بشریٰ بیگم اکیلی ہیں۔

عمران خان نے بیان میں کہا کہ پنجاب پولیس کس قانون کے تحت یہ کارروائی کررہی ہے۔ یہ لندن پلان کا حصہ ہے جہاں اس بات کا وعدہ کیا جا چکا ہے کہ مفرور نواز شریف کو اقتدار میں واپس لایا جائے گا۔ تمام کیسز میں ضمانت کے باوجود پی ڈی ایم کی حکومت مجھے گرفتار کرنا چاہتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں اسی لیے حکومت کے مذموم ارادوں کو جانتے ہوئے بھی اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہونے جا رہا ہوں۔ پی ڈی ایم کی حکومت کا واضح مقصد مجھے گرفتار کرنا ہے۔ان حرکتوں سے چوروں اور ڈاکوؤں کا یہ ٹولہ بے نقاب ہوگیا ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میرے گھر پرحملہ کرنے کا مقصد میرا عدالت پہنچنا یقینی بنانے کے لیے نہیں تھا بلکہ مجھے جیل میں ڈالنا تھا تا کہ میں انتخابی مہم کی قیادت نہ کرسکوں۔

[pullquote]عمران خان کے قافلے میں شامل گاڑیوں کو حادثہ[/pullquote]

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عدالت میں پیشی کےلیے اسلام آباد کی طرف روانہ ہیں۔

ان کے قافلے میں شامل 3 گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں۔ پولیس نے بتایا کہ حادثہ کلرکہار کے قریب پیش آیا ہے۔

پولیس کے مطابق زخمیوں کو اسپتال منتقل کررہے ہیں۔ حادثہ جیمر والی گاڑی کو پیش آیا۔

علاوہ ازیں اسلام آباد موٹروے ٹول پلازہ کو جزوی طور پر سیل کردیا گیا۔ صرف عمران خان کی گاڑی اور سیکیورٹی کو آگے جانے کی اجازت ہوگی۔

پولیس نے موٹروے پر شیلنگ بھی کی ہے۔ پی ٹی آئی کارکنوں کو اسلام آباد آنے سے روکنے کے لیے شیلنگ کی جارہی ہے۔

[pullquote]عمران خان کا قافلہ موٹروے ٹول پلازہ اسلام آباد پر پھنس گیا[/pullquote]

اسلام آباد: سیکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف درج توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت اسلام آباد کچہری کے بجائے سیکٹر جی الیون میں قائم جوڈیشل کمپلیکس میں ہوگی جہاں عمران خان بھی پیش ہوں گے۔

عمران خان زمان پارک براستہ موٹر وے لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوئے۔ کارکنان کی بڑی تعداد عمران خان کے ہمراہ ہے۔

ان کا قافلہ موٹروے ٹول پلازہ اسلام آباد پر پھنس گیا ہے۔ کارکنوں کی شدید نعرے بازی جاری ہے۔ ان کے پاس ڈنڈے ہیں۔

پولیس کی جانب سے کوشش کی جارہی ہے کہ صرف عمران خان اسلام آباد میں داخل ہوں اور ان کے ساتھ موجود یا دیگر علاقوں سے آنے والے پی ٹی آئی کارکن اسلام آباد میں داخل نہ ہونے پائیں۔

توشہ خانہ فوجداری کارروائی کے کیس کی سات سماعتوں پر طلبی اور ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے بعد پہلی بار عمران خان آج ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں پیش ہوں گے۔

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر چیف کمشنر نے خصوصی اختیارات کے تحت ایک کیس کیلیے عدالت منتقل کرنے کی منظوری دے دی جس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال ایف 8 کچہری کے بجائے جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت کریں گے۔

ایڈیشل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان پر آج فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔

[pullquote]اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ[/pullquote]

دوسری جانب عمران خان کی عدالت میں پیشی کے باعث اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، جس کے تحت اسلحے کی نمائش اور ساتھ لے کر چلنے پر پابندی ہوگی جبکہ گاڑی سڑک پر نکلنے والوں کی لیے ملکیتی ثبوت رکھنا لازمی ہوگا۔

[pullquote]ٹریفک پلان اور شہریوں کیلیے ہدایت نامہ جاری[/pullquote]

عدالتی پیشی کے سبب ٹریفک پلان جلد ہی جاری کردیا گیا، جس میں شہریوں کو جی الیون اور جی ٹین کی طرف غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ شہری کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور چیکنگ کے دوران پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

علاہ ازیں پولیس ترجمان نے کہا کہ شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق اطلاع فوری پکار 15 پر دیں۔

[pullquote]سیکیورٹی پلان مرتب [/pullquote]

تحریک انصاف کے چئیرمین سابق وزیر اعظم عمران خان کی پیشی پر اسلام آباد پولیس نے سکیورٹی پلان تیار کر لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق عمران خان کی سکیورٹی کے لئے دو ڈی آئی جی 3 ایس ایس پی، 4 ایس پی 15 اے ایس پی اور ڈی ایس پی تعینات ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کے 30 انسپکٹر اور چالیس پلاٹون تعینات ہوں گی، اسکے علاوہ رینجرز اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی۔

[pullquote]جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سیکیورٹی کے انتظامات[/pullquote]

عمران خان کی ممکنہ پیشی کے مدنظراسلام آباد جوڈیشل کمپلکس میں سیکیورٹی انتظامات کئے جا رہے ہیں، جس کے تحت اطراف میں کنٹینرز لگا کر تمام راستوں کو سیل کردیا گیا جبکہ ایک ہی داخلی اور خارجی راستہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عمران خان نے کارروائی قابل سماعت ہونے کو چیلنج کر رکھا ہے۔ الیکشن کمیشن نے گزشتہ سال نومبر میں عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے پر فوجداری کارروائی کی درخواست کی پہلی چار سماعتوں میں عدالت نے کمپلیننٹ قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کیا۔

جس کے بعد 9 جنوری سے اب تک سات سماعتوں میں عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ بعد ازاں 28 فروری کو پہلی بار ، 13 مارچ دوسری بار عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج پیشی کی انڈرٹیکنگ اور یقین دہانی کے بعد عمران خان عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے