امرت پال سنگھ کی گرفتاری : بھارتی پنجاب میں 4 روز سے انٹرنیٹ بند

نئی دہلی: بھارتی حکومت کی جانب سے خالصتان کے حامی امرت پال سنگھ کی گرفتاری کےلیے ریاست پنجاب میں انٹرنیٹ آج چوتھے روز بھی بند ہے۔

اس بندش کے باعث 27 ملین آبادی والی ریاست اپنے بنیادی حق سے محروم ہے اور لوگوں کو رابطوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

امرت پال سنگھ علیحدگی پسند رہنما اور وارث پنجاب دے تنظیم کے سربراہ ہیں۔ وہ کچھ عرصے سے مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے بھارتی پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

گزشتہ دنوں یہ یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امرت پال سنگھ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت نے ممکنہ ہنگاموں اور احتجاج کو روکنے کے لیے کئی شہروں میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی تھی جس میں اب توسیع کردی گئی۔

امریکی میڈیا سی این این کے مطابق بھارت میں اب انٹرنیٹ کی بندش معمول بنتی جارہی ہے۔ امریکی تنظیم ایکسس ناؤ کی رپورٹ کے مطابق 2022ء میں بھارت میں 84 مرتبہ انٹرنیٹ بند کیا گیا جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ پر پابندی والے ممالک کی فہرست میں بھارت مسلسل پانچویں سال بھی سرفہرست رہا۔

حال ہی میں بھارت اور بیرون ملک خالصتان تحریک کی مقبولیت میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ لندن میں سکھوں نے بھارتی ہائی کمیشن پر پرچم ترنگا اتار کر خالصتان کا پرچم لہرایا۔ آسٹریلیا میں خالصتان کے قیام کےلیے ریفرنڈم کرایا گیا ہے۔

بھارتی پنجاب میں مودی حکومت کیخلاف حالیہ عرصے میں اس وقت نفرت میں اضافہ ہوگیا تھا جب حکومت نے متنازع زرعی قوانین منظور کیے تھے۔ اس قانون کیخلاف کسانوں نے زبردست تحریک چلائی۔ حکومت کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 700 سے زائد کسان جان کی بازی ہار گئے تھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے