پشاور: سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرم کو سزائے موت

انسداد دہشتگردی عدالت پشاور نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے سید ذیشان حیدر کو سزائے موت کے ساتھ 23 سال قید اور 12 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے. انسداد دہشتگردی عدالت پشاور نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مردان کے علاقے میاں طورو سے تعلق رکھنے والے مجرم سید محمد ذیشان کو توہین رسالت کے ارتکاب کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی۔

انسداد دہشتگردی عدالت نمبر تین پشاور کے جج محمد عادل خان نے سنٹرل جیل پشاور میں مجرم کے خلاف مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے تعزیرات پاکستان،انسداد سائبر کرائم ایکٹ اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت سزائیں سنائیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور تین لاکھ روپے جرمانہ،دفعہ 295 اے کے تحت توہین مذہب کا جرم ثابت ہونے پر دس سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ،دفعہ 298 اے کے تحت توہین صحابہ و اہلبیت کا جرم ثابت ہونے پر تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ،انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7 جی کے تحت پانچ سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ،انسداد سائبر کرائم ایکٹ کی دفعہ 20 کے تحت دو سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ اور دفعہ 22 کے تحت تین سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزاء سنائی ہے۔جرمانے کی رقم کی عدم ادائیگی کی صورت میں مذکورہ مجرم کو مزید گیارہ ماہ کی بھی سزاء سنائی گئی ہے۔

مجرم کے خلاف مقدمہ ایف آئی اے کے انسداد دہشتگردی ونگ میں تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے شہری محمد سعید کی مدعیت میں 29 اکتوبر 2021 کو درج کیا گیا تھا۔مذکورہ مجرم کے خلاف مقدمے کی سماعت مکمل ہونے پر انسداد دہشتگردی عدالت نمبر تین پشاور کےجج محمد عادل خان نے چار جنوری 2023 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عدالت نے محفوظ شدہ فیصلے کو چھ دفعہ مؤخر کئے جانے کے بعد آج سنایا ہے۔

یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث نو افراد کو جرم ثابت ہونے پر متعلقہ عدالتیں سزائے موت سنا چکی ہیں۔ ملک بھر کی عدالتوں میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث دو سو کے قریب زیر حراست مجرمان کا ٹرائل جاری ہے.

تعزیرات پاکستان میں ایک آئینی شق 295 اور 298 کو قانون توہین رسالت کہا جاتا ہے۔ جن میں سےایک شق 295 (سی) کے تحت سنگین گستاخی کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔ 295a کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے کو جذباتی اذیت پہنچانے کی سزا کا تعین کرتے ہیں جو دس سال تک ہوسکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے