پیشہ وارانہ صحافتی اصولوں سے لاعلمی صحافی کوغیر محفوظ بنا سکتی ہے

میڈیا ٹرینر و معروف اینکرپرسن سبوخ سید (صدر ڈیجیٹل میڈیا آلائنس پاکستان اور سابقہ ادارے جیو نیوز) کا کہنا ہے کہ’’ میں 27دسمبر 2007 کو محترمہ بے نظیر بھٹو والے واقعہ میں راولپنڈی لیاقت باغ میں موجود تھا، بعد ازاں میرے آفس کیطرف سے مجھے نوٹس جاری ہوا کہ جب دھماکہ ہوا تو آپ سامنے کیوں نہیں تھے، میں نے جواباً پوچھا کہ جہاں یہ دھماکہ ہوا ہے وہاں کوئی بندہ زندہ نہیں بچا تو کیا آپ مجھے مروانا چاہ رہے تھے، اسکا چینل پر دباؤ پڑا کہ کہیں میڈٰیآ میں انکی یہ بات باہر نہ آجائے، دراصل چینل کیلئے آپکی زندگی اہم نہیں انہیں بس ’’کچھ نیا لاؤ‘‘ چاہیے۔‘‘

اکتوبر 30، 2022 کو سابقہ وزیراعظم عمران خان کی ریلی کی کوریج کے دوران شہید ہونے والی چینل فائیو کی نمائندہ صدف نعیم کی مثال دیتے ہوئے سبوخ نے صحافتی میدان عمل کے پروٹوکولز کے ہونے کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ عمران خان کا انٹرویو لینے کیلئے ٹرک کیساتھ دوڑ لگانے کی کیا ضرورت تھی، کہا جا تا ہے کہ اس پر کمرہ خبر کا پریشر تھاوہ چاہےڈائریکٹر نیوز ہے یا اسائنمنٹ ایڈیٹر ،انوکھی خبر ی زاویے کی دوڑ کیوجہ سے اس طرح کے پریشر ہر ایک صحافی پر ہیں، اور پیشہ ور صحافی کا کام اسی دباؤ کو متوازن کرتے ہوئے کام کرنا ہے ، ہمیں بھی ایسے دباؤ کا سامنا رہا ہے۔‘

سبوخ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کمرہ خبر میں ابھی بھی غیر انسانی سلوک موجود ہے، آپ کوئی بھی چیز لیکر آجائیں جس میں ریٹنگ زیادہ آتی ہو، جس کیلئے آپکوچاہے پیشہ وارانہ اخلاقیات کو قربان کرنا پڑے۔ مرکزی دھارے کا میڈیا بعض اوقات سماجی رابطہ میڈیا سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ کیونکہ ایک ہی وقت میں چینلز مختلف دکھانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، کمرہ خبر یا نیوز روم میں بعض اوقات نہایت بے رحم اور سفاکانہ رویہ پایا جاتا ہے۔

چونکہ پونیورسٹی کے کلاس روم اور نیوز روم کے درمیان بہت بڑی خلیج ہے جو لوگ یونیورسٹی سےتھیوریز پڑھ کر فیلڈ میں آتے ہیں ، انکا براہ راست یا پرائمری سطح پر استعمال نہیں ہوتا، جامعہ کی جماعت میں ڈیڑھ دو سو سال قدیم تھیوریز پڑھائی جاتی ہیں، اور دوسرا وہ اس خطے کے صحافی کیلئے بالکل نہیں ہوتی، کیونکہ وہ یورپ اور دیگر ممالک کے لوگوں کے تجزیے و مشاہدے کے خلاصے پر مبنی ہوتی ہیں، ان میں مقامی خطے کے ابلاغی ماہرین کا تجزیہ و مشاہدہ شامل نہیں ہوتا، امریکہ اور برطانیہ کی صحافت خالصتاً مقامی حالات کے تحت ہوتی ہے، اور ہر صحافت کے مقامی سطح کے حالات و واقعات مختلف ہوتے ہیں۔

بشری اقبال حسین، براڈکاسٹر (ریڈیو پاکستان اور سنو ایف ایم89.6 )، کونسلر اورریکی ماہر کا کہنا ہے کہ رپورٹر کا خاص ’رویہ ‘ہونا چاہیئے اپنے ساتھی رپورٹرز کے ساتھ اور فیلڈ میں اپنے سورسز کیساتھ بھی۔ میدان عمل پیشہ وارانہ حدود اور باؤنڈریز، اخلاقیات، ایذا رسانی سے بچنے کیلئے کوئی تربیت نہیں دی جاتی ، تنزیلہ مظہر کا ہراسانی کیس ان میں سے ایک ہے۔آج سے دس برس پہلے نوواردنوجوان صحافی کو کسی قسم کی تربیت نہیں دی جاتی تھی کہ ادارے میں اگر کوئی سنئیر ہراسانی کرے تو کس طرح ڈیل کرنا ہے، انہیں قومی براڈاکاسٹ ادارے میں انکے سنئیر صحافی نے کام کی جگہ پر مختلف طریقوں سے ہراساں کیا۔ پھر جب آرمی پبلک سکول حادثے کا واقعہ ہوا تو بہت سے صحافی فیلڈ میں ایسی صورتحال کے ٹراما میں چلے گئے جو لوگ مجھے جانتے تھے انکو بطور ریکی ہیلر صرف ایک دو سیشن نہیں کئی عرصہ تک کونسلنگ کرتی رہی ، اور بعض لوگ اسکے بعد فیلڈ ہی چھوڑ گئے۔ بطور صحافی میں سبق دیتی ہوں کہ آپ ہیں تو کہانی بتا سکیں گے ورنہ آپ خود کہانی بن جائیں گے، اس لئے آپکی پہلی ترجیح اپنی جان بچانا ہونا چاہیے ، رپورٹنگ کیلئے جہاں جارہے ہیں مقامی ڈسٹرکٹ حکومت کی جانب سے دی جانیوالے ایس او پیز کی پیروی کریں،

میدان عمل پیشہ وارانہ حدود اور باؤنڈریز، اخلاقیات، اپنے دفاع، ہراسگی کی صورت میں کیسے بچنا، سب سے پہلے کس سے رابطہ کرنا، ایسی صورتحال میں کس نیٹ ورک یا فرد پر اعتبار کرنا یا رابطہ کرنا، کہاں رپورٹ کرنا ہے، خبری زرائع یا سرکاری آفیشیلز سے پیشہ وارانہ تعلق میں بات کرنے کی حدود ، یا سورس سے ملنے یا خبر لینے کے طریقے اور مراحل ، ای میل کا ڈرافٹ بنانا ، فون یا میسج لینے کا ٹائم کی مدت یا حد مقرر کرنا،الفاظ، ٹولز یا ہتھیار، رویئے، جملے، باتیں، جگہیں اور لباس کا چناؤ، ’قابل قبول ‘کے زمرے میں آتے ہیں اور کونسی باتیں یا حرکتیں ’خطرے کا آلارم ‘ کے طور پر لی جانا چاہئے ،اپنی اجرت کے حوالے سے سوال کرنے کا ڈھنگ اور اسکے بارے میں شرمندہ نہیں ہونا ، وغیرہ کام کیساتھ ساتھ اگر خود کے دفاع اور سپورٹ نیٹ ورک کا پتہ ہو تو نہ صرف کام میں نکھار آتا ہے بلکہ انسان کی شخصیت بھی اپنے قدرتی مخفی صلاحیتوں کو صحیح طور استعمال کر پاتی ہے۔

کرئیر کونسلر لائبہ زینب نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا کہ کوئی بھی ادارہ یا یونیورسٹی اس بات پر دھیان نہیں دیتا کہ طلباء کو میدان عمل میں جانے سے قبل پیشہ وارانہ ابلاغ اور پرٹوکولز کی تربیت دی جائے تاکہ وہ کسی کا آلہ کار نہ بنیں۔طلباء یا نووارد صحافی جانتے ہوں کہ کس صورتحال میں کیسا رویہ اپنانا ہے، اپنا دفاع یا مدد کیلئے کس کو اور کیسے بلانا ہے، کیا صحیح اور کیا غلط، کونسے قوانین کا علم اسکو فائدہ دے سکتا ہے۔ آج سماجی رابطہ سائٹس کے دور میں آپ متوازن یا درگزر کا رویہ اختیار نہیں کرتے تو اپ کو فورا ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور آپکی ساکھ اور اعتبار بری طرح متاثر ہوتی ہے، ہر پیشہ وارانہ میدان عمل کے اپنے ٹی آؤ آرز یا پروٹوکولز ہوتے ہیں جو اس پیشے میں کام کرنیوالوں کو لازمی پیروی کرنا چاہئے مثلاً اگر کسی کو فون کال کرنا ہے تو ہمارے ہاں بغیر برقی پیغام کسی بھی وقت کال کر لی جاتی ہے اور اگر کوئی ایک بار کال نہ اٹھا پائیں تو مسلسل کال کرتے جاتے ہیں، پھر بنا رضامندی کے صبح شام، گڈمارننگ کے پیغامات، تصویریں بھیجنا معمولی بات سمجھی جاتی ہے جبکہ یہ پیشہ وارانہ رویے اور حدود کی خلاف ورزی بھی ہے انداز گفتگو یا انداز ابلاغ کسی بھی انسان کی پیشہ وارانہ سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔

جب ہم گھر سے باہر کام کرنے جائیں گے تو ایسے میں اگر آپکو پیشہ وارانہ یا کام کی جگہ پر ہراسانی کا سامنا کرنا پڑے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی مکمل طور پر پہلے سے تیار نہیں ہوتا، اس لئے اگر ایسا ہو جائے توپوری کوشش کریں اسکو کسی جگہ رجسٹری ڈاکو منٹ کرائیں اگر ایسا کوئی واقعہ ہو جس کا کوئی تحریری یا تصویری ثبوت نہ ہو تو آپ خود اسکو تفصیلا لکھ لیں، کیا ہوا، یا محسوس ہوا یا صحافی دوست یا ساتھی یا جتنے بھی لوگوں کو اسکی تفصیل بتا سکیں، لازمی بتائیں تاکہ بوقت ضرورت آپکے پاس صورتحال ثبوت موجود ہوں ،پاکستانی قوانین کی مطابق ہراسانی کمیٹی ہر دفتر میں لازم ہے مگر بہت سی جگہوں پر ایسا نہیں ہے،اگر بدقسمتی سےایسی فعال کمیٹی نہ ہو تو احتساب ادارے میں جا کر اپنی شکایت درج کرائیں، پورا واقعہ تفصیلا درج کرائیں۔

پھر خبری زرائع کے بارے میں لائبہ نے کہا کہ ہر خبری زرائع سے بات کرنے کا طریقہ کار اور حدود علیحدہ ہوتی ہیں، کیونکہ خبری زرائع کے اعتبار اور اعتماد کو جیتنے کیلئے کس حد تک جانا اور اسکو کیسے آرام دہ زون میں لیکر آنا ہوتا ہے تاکہ وہ خاص خبر آپ سے بلاجھجک اور خود شئیریا بانٹ سکے۔ اسی طرح سرکاری آفسران کا نقطہ نظر پوچھنا ہو یا کسی معاملے یا واقعہ کی تفتیش کی تفصیلات لینا ہو تو بعض اوقات زیادہ ملنے یا سوالات پوچھنے کو دوسرا فرد کم حدود ہونے کا عندیہ سمجھ لیتا ہے، ایسے میں جو بھی حدود کو پہلے توڑے یا پار کریگا الزام اسی پر آنا چاہیئے، اگر صحافی خاتون ہو تو الزام اس پر لگا دیا جاتا ہے۔ جبکہ صحافی خبر کی تفصیل اور حقائق کی تلاش میں کام کررہا ہوتا ہے۔

پیشہ وارانہ ابلاغی تربیت کے بارے میں لائبہ نے بتایا کہ پیشہ وارانہ ای میل یا برقی خطوط میں واضح پیغام ہونا چاہیے، کوشش ہونا چاہیے کہ اس میں گرائمر کی غلطیاں کم ہوں، پیشہ وارانہ شناختی برقی خط کا استعمال کریں اور اپنے کسی سنئیر یا منیجر کو اسکی کاپی (CC) ضرور کریں اگر آپ نہیں چاہتے کہ خبری زرائع کو علم کو کاپی برقی خط کا تو اسکو B.C.C کریں، تاکہ بوقت ضرورت آپکے پاس کوئی ثبوت ہو۔

برقی پیغام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لائبہ نے کہا کہ بعض رپورٹس میں صحافی کو فوری جواب چاہے ہوتا ہے مثلاً کوئی بڑا حادثہ یا واقعہ ہوگیا اور کسی سرکاری یا اعلی عہدیدار کا نقطہ نظر یا حقائق (SOT)کا ساٹ چاہیے تو اپ اسی وقت برقی پیغام کریں گے، لیکن عمومی حالات میں پیشہ وارانہ میدان عمل میں کام کے گھنٹوں میں ہی برقی پیغام کیا جانا چاہیے ۔ پولیس والوں کی طرح صحافیوں کے بھی کام کے گھنٹے مقرر نہیں ۔ لیکن اگر آپ کسی نئے شخص یا نئے خبری زرائع سے بات کرنے جا رہے ہیں تو فون کال کرنے سے قبل ایک اچھا برقی پیغام بنائیں جس میں اپنا نام، عہدہ ، ادارہ، برقی رابطے کیساتھ اپنا تعارف دیں، پھر دوسرے برقی پیغام میں اپنی تحقیقی کہانی کاعنوان بتائیں اور پھر جو سوال یا سوالات ہوں انکو تحریر کریں تاکہ بہتر جواب مل سکے۔

لباس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے زینب نے کہا کہ جہاں آپ کام کرتے ہیں، یا جس علاقے میں رپورٹنگ کرنے جا رہے ہیں، اسی مناسبت سے لباس پہنیں، تاکہ لوگ آ پ پر اعتبار کرکے اپنی بات بانٹ سکیں۔ اسکے علاوہ اپنی حفاظت کا خیال رکھتے ہوئے ایسے جوتے نہ پہنیں کہ اگر موقعہ سے بھاگنا پڑے تو وہ اپکے لئے مسئلہ بن جائے ۔اگر کوئی احتجاج یا ایسا واقعہ رپورٹ کرنے جارہے ہیں جہاں آنسو گیس یا شیلنگ کا خطرہ ہو تو رومال اور پانی کی بوتل کے علاوہ بلٹ پروف جیکٹ ضرور پہن کر جائیں، کوشش کریں وقوعہ پر ایسی جگہ کھڑے ہوں جہاں آپ براہ راست گولی کا نشانہ نہ بنیں۔اسکےعلاوہ صحافی کو بھی اپنے پاس تیز دھاری چھوٹا حفاظتی چاقو رکھنا چاہیے، مرچ سپرے وغیرہ بھی حفظ ماتقدم کے طور پر ضروررکھیں۔

فریڈم نیٹ پاکستان کے صدر اقبال خٹک کا کہنا ہے کہ صحافتی پیشہ وارانہ ابلاغ انفرادی اور اجتماعی حثیت میں میڈیا اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سٹائل شیٹ ، ابلاغی پروٹوکولز اور سماجی رابطہ سائٹ کے ابلاغی پوٹوکولز بنائیں، یہ بے حد ضروری ہے کہ بطور صحافی آپ کو اپنے حقوق و فرائض اور ابلاغی حدود کا علم ہو، ایسے پروٹوکولز نہ ہونے کی وجہ سے غلطی کے امکانات بڑھ جاتےہیں، ’’اگر بین الاقوامی اداروں کو دیکھا جائے تووہ ابلاغی اور میدان عمل کے پروٹوکولز پر زیادہ فوکس کرتے ہیں، اور اپنے سٹاف کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ ان پروٹوکولز کی خلاف ورزی کریں، ہمیں بھی پاکستان میں اس چیز کو فروغ دینا چاہیئے ۔ــ

سنئیر صحافی اورپنجاب یونین آف جرنلسٹ کے نائب صدر، عامر سہیل کا کہنا ہے کہ تھیوری اور عمل میں ہمیشہ فرق ہوتا ہے لیکن پیشہ وارانہ قابلیت کی تربیت ہی اس خلیج میں پل باندھتی ہے۔ عامر کا مزید کہنا ہے کہ صحافی کو زمانےکا نبض ساز بننے کیلئے اپ ڈیٹ رہنا ہوتا ہے، اسلئے اگر اسے نئی جہتوں اور رجحانات کا علم ہوگا تو وہ اپنی ساکھ برقرار رکھ پائے گا، حالات کیمطابق صحافی یا فوٹو جرنلسٹ کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے ،جیسا کہ ایک بہت بڑی بحث چل رہی ہے کہ فوٹو گرافر اگر کسی حادثے کی جگہ پر ہے تو کیا وہ اس انسان کی مدد کریگا یا اپنی فوٹو یا شوٹ بنائے گا، کیونکہ اگر وہ مدد کرتا ہے تو اسکی بریکنگ مر جائیگی اور اگر وہ شوٹ کریگا تو بندہ مر جائے گا، پس ابھی تک یہی بحث چل رہی کہ اخلاقی طور پر کونسی ڈیوٹی پہلے نبھائی جائے، بظاہر انسانی حقوق کی بنیاد پر انسانی جان بچانے کا کہا جاتاہے لیکن ایسا کیا نہیں جاتا ۔

لاہور پریس کلب کے سامنے قتل ہونیوالے کرائم رپورٹر حسنین شاہ کی مثال دیتے ہوئے عامر نے کہا کہ اس صحافی کے قتل پر بہت تھیوریز پھیلائی گئیں، لیکن اسکے پیچھے محرکات کوئی زیربحث نہیں لایا، جب ایک رپورٹر کرائم کی چھپی دنیا (انڈر ورلڈ) سے خبریں لائے گا، تو اسکاخبری زریعہ کون ہوگا؟ اس پر کوئی کیوں اعتبار کریگا؟ وہ تعلق کیسے اور کس حد تک قائم اور جاری رکھے گا؟ ایسے میں صحافی روایتی مقامی انداز میں ہی اعتبار بنانے والے طریقوں کے ذریعے کسی نہ کسی گروہ کا حصہ بنے گا، ایسے میں جب اسکے پاس ٹریننگ نہیں ہوگی، حدود کا تعین، ذاتی حفاظت کا علم نہیں ہوگا!میدان عمل میں محفوظ طریقے سے تعلقات آگے بڑھانے کی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ ایسے ہی مارا جائیگا ۔

بشری رانی ، سائیکالوجسٹ ، کا کہنا ہے کہ میدان عمل میں پیشہ وارانہ اخلاقیات و عملی قوانین و ابلاغی پروٹوکولزکا علم ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے، جب ہم پہلے سے پیشے کی آسانیاں، فائدے اور نقصانات، خامیاں اور نقصانات جانتے ہیں تو نوجوانوں کیلئے پہلے سے تیار ہوکر میدان عمل میں اترنے سے مخفی صلاحیتوں کو صحیح استعمال کرسکتے ہیں۔ ہم اپنی ذہنی صحت کا بھی خیال رکھ سکتے ہیں، اور صحافیوں سے مضبوط اعصاب کا ڈیمانڈ کی جاتی ہے ۔

نام نا ظاہر کرنے کی بنیاد پر ایک خاتون صحافی و استاد نے بتایا ، کہ وہ خود بھی کالج میں پڑھاتی ہیں اور ایسے مسائل کا سامنا کرچکی ہیں، اگر خواتین کو پہلے سے پتہ ہو تو وہ ایسی پیشہ وارانہ غلطیاں نہ کریں!مثلاً اپنی خبر شئیر نہ کرنا، یا اس کا کچھ حصہ کیسے شئیر کیا جانا چاہیئے، کونسی خبر کو شئیر کرنا ٹھیک رہے گا، کس خبری زرائع اور مینٹور سے کس حد تک بات کرنا ہے اگر وہ اپکی پرسنل سپیس کو پار کرے تو اس کو فوراً پیشہ وارانہ حدود کا بتائیں! کسی قسم کی فیور کی صورت میں بدلے میں کسی کی کیا نیت ہے پہلے سے کلئیر کرلیں! خواتین میڈیا میں کام کرنے سے گھبراتی ہیں کیونکہ میڈیا یا کسی بھی پروفیشن میں کام کرنے کی کچھ بنیادی فیلڈ کی ضروریات ہوتی ہیں جنہیں تین ماہ کی انٹرن شپ سے نہیں سیکھا جا سکتا ۔ صحافی آپ کو اپنے حقوق و فرائض اور ابلاغی اور مینٹور سے ملنے کی اوقات ، سورس سے ابلاغی انداز، سے ملنے سے قبل حدود کا علم ہو،جو صرف پریکٹس سے آتا ہے۔ لڑکیاں ایم فل کرکے لیکچرر بننا چاہیں گی، یا ایڈورٹائزنگ یا دیگر شعبہ جات کی طرف جانا پسند کرتی ہیں۔

استاد صحافی نے میدان عمل کے آداب کی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل دور کے نئے تقاضے اور سمارٹ صحافی بننا، روایتی انداز صحافت بدل رہاہے ایسے میں صحافیوں کو نئے طرز صحافت اور زارئع یا میڈیم کو استعمال کے بارے میں بھی پتہ ہونا چاہیئے تاکہ وہ بے روزگاری اور معاشی، ذہنی اور ذہانت کے استحصال سے بچ سکیں یا نمنٹ سکیں۔نئی سکلز آن لائن یا تربیتی ورکشاپس کے ذریعے capacity building کے ذرائع اور میڈیمز کا پتہ ہونا چاہیئے، نیٹ ورکنگ کے آداب معلوم ہونا چاہیے، حدود اور اسکو جاری کیسے رکھنا ہے یہ سب آنا چاہیئے۔چار سال پڑھنے کے بعد ایک سال کی تربیتی paid ہونا چاہیئے تاکہ تجربہ بھی حاصل ہو، اور پیشہ وارانہ میدان کے آداب بھی آ جائیں ، جس طرح ڈاکٹرز اور وکلاء کرتے ہیں۔ ایسے میں صحافی خاتون یا صحافی کو پریس ریلیز لکھنے سے لیکر سکرپٹ رائٹنگ تک سب کچھ آجائے گا اور وقت کیساتھ اسکی پیشہ وارانہ قابلیت اور صلاحیتوں میں اضافہ معاشرے میں بہتری لانے میں مثبت کردار بھی ادا کرسکیں گے۔

میدان عمل کی کچھ صحافی خواتین نے میدان عمل کیساتھ ساتھ کمیونٹی کے اندر ہراسانی کے حوالےسے بات کرتے ہوئے کہا، (نام نہ بتانے کے شرط پر) لوگ صحافی خواتین کو فون کالز کرکے تنگ کرتے، آن لائن بھی، آفس آکر ہلہ بول دیتے، فون پر اگر کوئی بدتمیزی کردے تو کہا جاتا ’دیکھ لوں گا‘، ’اپنے آپ کو کیا سمجھتی ہو‘، ’مردوں کیساتھ کام کرتی ہوتو ہمارے ساتھ بات کرنے میں کیا تکلیف ہے‘، ’رپورٹنگ سیکشن میں بعض ساتھی ڈنر یا لنچ یا لانگ ڈرائیو کی آفر‘، ’رپورٹر کو ’سب کچھ ‘کرنا آنا چاہیئے ‘ اگر کوئی انہیں انکار کردے یا بے عزتی کردے تو ذہنی ہراسانی کیساتھ کیساتھ گیس لائٹننگ کا ایک لمبا چکر شروع ہو جاتا ہے جس کی کوئی شہادت یا گواہی نہیں مل سکتی۔ سنئیر صحافی نئے آنیوالی خواتین کو ہمیشہ تنگ کرتے، ہم سے آگے کیسے نکل سکتے ہو، پریس کلب کیا ہر جگہ سے کٹوائیں گے، صحافی کو شراب نوشی اور باقی کام بھی آنے چاہیئے۔

مختصر بائیو:
ملٹی موڈل جرنلسٹ، فلم و ڈاکومنٹری میکر(یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس، امریکہ2016)، صحافتی ایوارڈز 2013+2022، اخبار، ہفت روزہ میگزین، ریڈیو براڈکاسٹر+پروڈیوسر+ایڈیٹر، آن لائن میگزینز، ڈاکومنٹری میکر اور فری لانس صحافت کا گیارہ سال سے زائد تجربہ، دو سال بطور استاد، 2021 میں اقلیتی بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے تحقیقی رپورٹ، 2022 کے آغاز سے موبائل جرنلزم اور ون منٹ ویڈیو میکنگ کی ٹریننگز بھی دے رہی ہیں، اپنے کام میں صحافت کی نئی جہت سیلوشن اور انٹریپرینیوریل جرنلزم کے حوالے سے تجربہ کررہی ہیں۔
Twitter: @rbbiya https://twitter.com/rbbiya
Insta: @rabbiyajourno https://www.instagram.com/rabbiyajourno/
FBpage: @rabbiarshad https://www.facebook.com/rabbiarshad/
Youtube: @RabbiyaArshadTurkman https://www.youtube.com/@rabbiaarshadturkman
*ان تصاویر میں سے جو بھی ادارے کی پالیسی سے منافی نہیں اسکو تحریر کیساتھ استعمال کرسکتے ہیں ، اسکے علاوہ انہیں کسی دوسرے مقصد کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔ شکریہ!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے