مانسہرہ کی گرد وارہ لائبریری’’ سری گرو سنگھ سبھا‘‘

زندہ قومیں ثقافتی اور تاریخی ورثے کو ملکی ترقی کے خزانےکے طور پر محفوظ رکھتی ہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان تاریخی ورثے سے مالا مال ملک تو ہے مگر تاریخی ورثے کو برقرار رکھنے کے لیے خاص اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ برصغیر کے بعد سے اب تک ملک بھر میں بے شمار تاریخی عمارتیں ہیں جو سرکاری طور پر استعمال ہو رہی ہیں یا پھر حکومت کی توجہ کی طلب گار ہیں یہی وجہ ہے کہ تاریخی ورثہ خستہ حالی کا شکار ہو رہا ہے۔

ایسی ہی مثال پاکستان کے صوبے خیبرپختونخواه کی ڈویژن ضلع مانسہرہ میں واقعہ ’’ گرد وارہ سری گرو سنگھ سبھا ‘‘1937 میں سکھوں کی عبادت کے لیے بنائی جانے والی تین منزلہ عمارت ہے مگر اب یہ شہر کے مصروف ترین کشمیربازار میں لوگوں کے ہجوم ، ٹریفک اور گردو غبار میں بدحالی کا شکار نظر آتی ہے ۔ سکھوں کا تعمیر شدہ گردوارہ اپنی شاندار فن تعمیر کے ساتھ موجود تو ہے مگر عمارت کی بیرونی اور اندرونی حالت تاریخی ورثے کے ختم ہونے کا شور کرتی نظر آرہی ہے۔ گردوارہ کو قیام آزادی کے بعد بند کر دیا گیا تھا مگر بعد میں مختلف سرکاری دفتروں میں تبدیل کرنے کے بعد اب پبلک لائبریری کے طور پر کھلا رکھا ہوا ہے۔جہاں مقامی لوگ مطالعے کے لیے جبکہ ملک بھر سے سکھوں کی بڑی تعداد مقدس مقام کی زیارت کے لیے آتی ہے ۔

مانسہرہ کی آبادی 1947 میں تقسیم کے بعد تیزی سے تبدیل ہوئی جب ہزاروں مقامی سکھ خاندان ہندوستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اورانہوں نے اپنے پیچھے تاریخی عمارتیں اور ورثے کےمقامات ،بازار ، مکانات ، زمین و جائیداد کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں کی جگہوں کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔جس میں مانسہرہ شہر کے اندر سکھوں کا قدیم مرکزی گردوارہ اب بھی موجود ہے ۔

گر دوارہ، مانسہرہ کے مصروف ترین بازار کے بیچ ایک تین منزلہ عمارت ہے۔ یہ عمارت قیام پاکستان سے پہلے کے دور کے بنانے والوں کے فن تعمیر کا بھر پور نظارہ پیش کرتی ہے ۔ گردوارہ کے دونوں اطراف سکھوں کا مذہبی نشان اب بھی موجود ہے ۔ عمارت کی تیسری منزل بیرونی طور پر چھوٹی مثلثی محرابوں والی بالکونیوں سے سجی ہوئی ہے جبکہ دوسری منزل کو لکڑیوں سے بنی خوبصورت کھڑکیوں نے ڈھک رکھا ہے اور جب گراؤنڈ منزل پر نظر ڈالیں تو خوبصورت ماربل کی جعلیاں آنکھیں مزین کرتی ہیں جن میں چار کھنڈا کے نشان بنے ہوئے ہیں۔ کھنڈا سکھوں کا ایک مذہبی نشان ہے جس میں تین ہتھیار اور ایک دائرہ بنا ہوا ہے۔ درمیان کے حصہ میں لکڑی کا داخلی دروازہ ہے اور اس کے اوپر اردو، انگلش اور گرمکھی رسم الخط میں پنجابی میں ’’سکھ عبادت گاہ (موت سے ڈرو )گردوارہ سری گرو سنگھ سبھا‘‘( گناہ مت کرو)لکھا ہوا ہے ۔

آئی بی سی اردو سے خصوصی طور پر گردوارہ میونسپل لائبریری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انچارج محمد نسیم کا کہنا ہے کہ 1937سے 1947 تک گردوارہ کو سکھوں کی عبادت گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا مگر قیام پاکستان کے بعد سے یہاں محمکہ خوارک کا آفس قائم رہا جبکہ 1964 میں سرکاری سکول میں تبدیل کیا گیا اور بعد ازاں 1999 کے بعد گردوارہ کو پولیس چوکی میں تبدیل کر دیا گیا جو کہ 10 سال تک برقرار رہی اور پھر 2000 کے بعد گردوارہ میں ٹاؤن کمیونٹی کا آفس قائم ہونے کے بعد اسے پبلک لائبریری میں تبدیل کر دیا گیا ۔یہ گردوارہ 23 سال سے میونسپل لائبریری کے نام سے مشہور ہے۔ گردوارہ کی عمارت کی مرمت پر بات کرتے ہوئےمحمد نسیم نے بتایا کہ اس گردوارہ کی خوبصورت عمارت کو 1990 اور اس کے بعد 2016 میں مرمت کیا گیا تھا لیکن عمارت کی خستہ حالی بڑھتی دیکھ حکومت اس کی مرمت پر دوبارہ کام کر رہی ہے تاکہ عمارت کی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی خستہ حالہ کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا پاکستان بھر میں پشاور ، بٹگرام ، ہری پور کے علاوہ پنجاب اور سندھ سے بھی سکھ حضرات کی بڑی تعداد یہاں آتی ہے مگر بیرونی ملک سے چند سال پہلے تک سکھ یاتری یہاں آتے تھے مگر اب کوئی نہیں آتا ۔ حال ہی میں سکھ کمیونٹی کی جانب سے دباؤ بڑھتا جارہا ہے کہ گردوارہ کو سکھوں کی عبادت گاہ کے طور پربحال کر کے انتظامی امور بھی سونپے جائیں ۔

لائبریری میں داخل ہونے پر ایک وسیع ہال ہے جس کے فرش پر آنکھوں کو خیرا کر دینے والی پھولوں کے ڈیزائن کی سفید اور سیاہ ٹائلز لگائی گئی ہیں۔ گردوارہ کے اندرونی حصے میں داخل ہوتے ہی نظر سامنے موجود سفید ماربل کے چوکی پر پڑتی ہےجوکہ سکھوں کی عبادت کا مقام ہے ۔ ہال سے گزر کر ایک بڑا کمرا ہے اس کمرے کی دیواروں پر موجود پھولوں کی طرز کے نقوش نظر آئیں گے اور سیلنگ پر جو نظر ڈالیں تو نقوش میں ظاہر سکھوں کی روایتی داستانیں نظر آتی ہیں جن میں ہر اقسام کے جانوروں کے ساتھ انسانوں پر مبنی نقوش تحریر ہیں کئی سال گزرنے کے بعد بھی یہ سات رنگا نقوش بہت بہتر حالت میں موجود ہیں ۔ گردوارہ کے تینوں اطراف نظر ڈالیں تو کتابوں سے بھری بڑی بڑی شیلفس ہیں جبکہ مطالعے کے لئے چھوٹی میزیں اس کے اطراف اور ایک بڑا میز کمرے کے درمیان میں موجود ہے جن پر مقامی بزرگ اخبار اور سکول ، کالجوں اور مقامی یونیورسٹیوں سے طلبہ و طالبات مطالعے کے لیے آتے ہیں ۔ انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ لائبریری میں دس ہزار سے زائد قومی و بین الاقوامی کتابیں موجود ہیں جبکہ قومی اخبارات بھی یہاں روزانہ کی بنیاد پردستیاب ہوتے ہیں ۔

گردوارہ کی رنگ برنگی دیواروں پر نظر ڈالیں تو گرمکھی زبان میں تحریریں بھی موجود ہیں۔ لائبریری انتظامیہ کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ سکھوں میں بولی جانے والی زبان گرمکھی ہے جب بھی کوئی سکھ یہاں زیارت کے لیے آتے ہیں تو تحریوں کو پڑھ کر سناتے اور سنتے ہیں مگر مقامی لوگ اس زبان کو نہیں پڑھ سکتے کیوں کہ یہ ہندی اور فارسی زبان سے بھی تعلق نہیں رکھتی۔

بنیادی طور پر گرومکھی پنجابی زبان کا رسم الخط ہے جس کا رواج سولہویں اور سترہویں صدی میں سکھ گروؤں کے ذریعہ عمل میں آیا۔ قیام پاکستان سے پہلے سکھوں کی بڑی تعداد یہاں رہائش پذیر تھی جس کی وجہ سے یہاں موجود دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والی آبادی بھی گرمکھی زبان بولنا جانتی تھی۔

گردوارہ کے باہر بازار میں روزمرہ کی اشیائے خوردونوش فروخت کرنے والوں اور ٹریفک کے شور شرابے سے بالکل بر عکس لائبریری کے اندر ایک گہری خاموشی اور ٹھنڈک کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ اتنے شور والے بازار میں ہونے کے باوجود اندر کا سکون بالکل متاثر نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ عمارت کی تعمیر کا فن طرز ہے۔ لائبریری ہفتے کے چھے دن صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک کھلی رہتی ہے جبکہ جمعہ کے دن بند ہوتی ہے۔ عام عوام کے لیے ماہانہ ممبرشپ فیس 20 روپے جبکہ طلبہ کے لیے 10 روپے مختص ہے۔خواتین کے لیے ہفتہ کا روز مخصوص کیا گیا ہے تاکہ مقامی پردے کے کلچر کو قائم رکھتے ہوئے خواتین بھی کتابوں سے مستفید ہو سکیں۔

مانسہرہ گردوارہ پبلک لائبریری کی انتظامیہ کی جانب سے ڈی ڈبلیو کو بتایا گیا کہ گردوارہ سری گورو سنگھ سبھا کو تاریخی ورثہ قرار دیتے ہوئے بحال کرنےکا فیصلہ تحریک انصاف کی حکومت میں کیا گیا تھا ۔متروکہ وقف املاک نے ٹی ایم اے کو جلد از جلد عمارت خالی کرنے کی ہدایت کردی تھی مگر اب تک کوئی خاص اقدامات سامنے نہیں آئے۔

گردوارہ لائبریری کی عمارت کے اردگرد مختلف کاروبار کرنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی عمارت کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہداری ہے ۔ یہ عمارت تاریخی ہونے کے ساتھ مذہنی حثیثت بھی رکھتی ہے۔ سکھوں کی مقامی طور پر آبادی نہ ہونے کے برابر ہے مگر مذہبی مقام ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر سکھوں کا یہ مقام بحال ہوجائے تو اس میں مقامی طور پر کوئی منفی اثرات نہیں ہوں گے بلکہ سکھ یاتریوں سے مقامی سیاحت اور کاروبار کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے سکھوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مانسہرہ کے مقامی افراد امن اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں سکھ یاتریوں کو ہمیشہ سے خوش آمدید کہتے ہیں ۔

مطالعہ کے لیے آنے والے طلبہ وطالبات نے بھی اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقام ہماری تعلمی سرگرمیوں میں اہم مقام رکھتا ہے اگر سکھ یاتری اس مقام کو عبادت کے لیے واپس لینا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی منفی بات نہیں ہے۔

پاکستان سکھ گردوارہ میں قائم بندھک کمیٹی کے مطابق ملک بھر میں سکھوں کے مقدس مقامات کی تعداد لگ بھگ 153 ہے۔ گردوارہ دربار صاحب کرتار پور کے علاوہ مزید دو غیر فعال گردوارے بھی بحال کیے گئے ہیں ۔ مختلف میڈیا رپورٹرز کے مطابق پاکستان میں 18 گردوارے ایسے ہیں جہاں سکھ مذہبی عبادات و رسومات کے لیے آتے ہیں۔ تاہم 1947 میں تقسیم ہندوستان کے بعد سے متعدد گردوارے بند پڑے ہیں۔ اور ان کی عمارتیں خستہ حال ہو چکی ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک 20 گردواروں کو بحال کیا ہے جن میں سے 18 بڑے گردوارے ایسے ہیں جہاں سکھ یاتری عبادات کے لیے آتے ہیں۔

متروکہ وقف املاک بورڈ پاکستان میں سکھوں کے مذہبی مقامات کی دیکھ بھال کے ساتھ سکھ یاتریوں کے لیے مذہبی رسومات کے انتظامات کی ذمہ داری بھی بخوبی ادا کرتی ہے ۔ حال ہی میں گردوارہ دربار صاحب کرتار پور کی بحالی کے بعد سے سکھ یاتریوں کی پاکستان کے ہر کونے میں موجود گردواروں میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے خاص کروہ گردوارے جو قیام پاکستان کے بعد سے بند کر کے مختلف سرکاری عمارتوں میں تبدیل کر دیے گئے تھے ۔ جن میں مانسہرہ شہر میں ’’گردوارہ سری گرو سنگھ سبھا‘‘ بھی ہے جو کہ کئی برس گزرنے کے بعد بھی اپنی اصلی حالت میں موجود تو ہے مگر اب بدحالی کا شکار سرکاری پبلک لائبریری کے طور پر کھلا ہوتا ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے