عدلیہ اور پارلیمان (بنچ کیسے بنتے ہیں)

چیف جسٹس صاحب کہہ چکے ہیں کہ سیاسی لوگ انصاف نہیں، من پسند فیصلے چاہتے ہیں۔ اور سیاسی جماعتیں من پسند فیصلوں کے لیے پک اینڈ چوز چاہتی ہیں۔ یہ تو معلوم نہیں چیف جسٹس صاحب کا یہ عدم اعتماد اہل سیاست پر ہے یااس کی زد میں ان کے اپنے ججز بھی آ جاتے ہیں تا ہم اہل سیاست کو ظاہر ہے اس بیان سے اتفاق نہیں ہو سکتا۔سوال یہ ہے کہ اب اس گمان اور بد گمانی کا حل کیا ہے؟

حل ایک ہی ہے کہ بنچ بنانے کے عمل کو اتنا غیر معمولی شفاف کر دیا جائے کہ کوئی سیاسی جماعت،من پسند فیصلوں کے لیے پک اینڈ چوز کر ہی نہ سکے اور مقدمات کی سماعت کے لیے بنچوں کا تعین ایسے سائنسی فارمولے کی بنیاد پر ہو کہ کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع ہی نہ ملے۔

آئیے دیکھتے ہیں کچھ اہم مقدمات میں بننے والے بنچز کی نوعیت کیا تھی:

اس وقت سپریم کورٹ میں ایک ہی دن انتخابات کا معاملہ زیر سماعت ہے۔ بنچ میں جناب چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جناب جسٹس اعجاز الاحسن اور جناب جسٹس منیب اخترشامل ہیں۔

حال ہی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل معزز جج صاحبان کے نام یہ ہیں۔ جناب چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی الیکشن کے بارے میں حکم جاری کیا تو اس پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سماعت کی جس میں جناب چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیوں کی تحلیل پر سوموٹو کی سماعت کرنے والے بنچ میں جو معزز جج صاحبان شامل تھے ان میں جناب چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر علی نقوی، جسٹس علی مظہر، جسٹس یحیی آفریدی جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ، اور جسٹس منصور علی شاہ شامل تھے۔ باقی تاریخ ہے جس کی تکرار کا یہ محل نہیں ہے۔

گذشتہ سال جولائی میں پنجاب الیکشن پر جس بنچ نے سماعت کی اس میں جناب چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

گذشتہ سال مئی میں ڈی فیکشن کلاز کے معاملے پر یعنی پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ دینے کے تنازعے پر جو بنچ بنا اس میں جناب چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔جسٹس مظہر عالم میاں اور جسٹس جمال مندوخیل نے اختلافی نوٹ لکھا تھا۔ تین دو کا تناسب قابل غور ہے۔

پچھلے سال ہی پی ٹی آئی دھرنے کے حوالے سے سماعت کرنے والے بنچ میں جناب چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر نقوی نے فیصلہ دیا تھا۔ واحد اختلافی نوٹ جسٹس یحیی آفریدی کا تھا۔

پچھلے سال اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر بننے والے بنچ میں، جناب چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال مندوخیل شامل تھے۔

پچلے سال مئی میں عدم اعتماد پر سوموٹوکی سماعت کرنے والے بنچ میں جناب چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر،جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس علی مظہر شامل تھے۔

پچھلے سال سینیٹ الیکشن میں صدارتی ریفرنس بھیجا گیا۔ عارف علوی صاحب کے اس ریفرنس کی سماعت جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس یحیی آفریدی نے کی۔

زلفی بخاری صاحب کی نا اہلی کا معاملہ آیا تو اس کی سماعت کرنے والے بنچ میں جسٹس ثاقب نثار، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔ڈیم فنڈ کیس کی سماعت جسٹس ثاقب نثار، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن نے کی۔

سوموٹو کا اختیار کس کے پاس ہے؟ اس معاملے کے تعین کے لیے دو سال پہلے بنچ بنا تو اس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر، جسٹس علی مظہر اور جسٹس امین احمد نے کی۔

عمران خان کے بنی گالہ والے گھر کو ریگولرائز کرنے کا معاملہ اٹھا تو اس کی سماعت جسٹس ثاقب نثار، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب نے کی۔

پانامہ کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید، اور جسٹس اعجاز الاحسن نے کی۔

نا اہلی کتنی مدت کے لیے ہو گی اس سوال کے تعین کے لیے معاملے کی سماعت کرنے والا بنچ جسٹس ثاقب نثار، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس عظمت سعید، جسٹس عجاد علی شاہ پر مشتمل بنچ نے کی۔

پارٹی سربراہ کے طور پر اہلیت کے سوال کی سماعت جسٹس ثاقب نثار، جسٹس عمر عطا بندیا ل اور جسٹس اعجاز الاحسن نے کی۔

بنچ کیسے بنے گا؟ زاویہ نظر مختلف ہو سکتا ہے لیکن پارلیمان اور چیف جسٹس جس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں اس کی نوعیت ایک جیسی ہے۔ یہی بات حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بنچ کے فیصلے میں بھی کہی گئی ہے کہ ون مین شو کی نفی کے لیے ضابطہ کار کا ہونا ضروری ہے۔ایسا ہی مطالبہ کئی سال سے وکلاء تنظیمیں بھی کر رہی ہیں۔

اب جب سبھی اس مسئلے کی سنگینی کو ] اپنے اپنے انداز سے ہی سہی[ سمجھ رہے ہیں تو اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہے تا کہ پک اینڈ چوز کا امکان باقی ہی نہ رہے اور ہر اہم سیاسی کیس کی سماعت میں چندجج صاحبان کے ناموں کی تکرار نہ ہو۔نہ ہی کچھ جج صاحبان مسلسل نظر انداز ہوں۔

بشکریہ
| ترکش | روزنامہ 92 نیوز

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے