اب ملک کا ہر فیصلہ عوام کریں گے، ضرورت پڑی تو دوبارہ اسلام آباد آئیں گے : فضل الرحمان

اسلام آباد: جمیعت علما اسلام اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اب ملک کا ہر فیصلہ عوام کریں گے، عدالتی وقار کے لیے چند ججز کو قربان کردیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سپریم کورٹ کے باہر پی ڈی ایم کے احتجاج میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کا کوئی بھی فیصلہ اب سامنے والی عمارت میں نہیں ہوگا، ہم پاکستان کی عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ عوام کریں گے، جانبدار جج اپنی حیثیت کو مجروح کرچکا ہے۔ معزز کرسیوں پر بیٹھنے والوں کو پارلیمنٹ اور عوام کی تذلیل کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ سیاست دان کی تذلیل ہوگی تو پھر تمھارے ہتھوڑے سے ہمارا ہتھوڑا بھاری ہے، ہمیں یہ ہتھوڑا گردی نامنظور ہے اور نہ ہی کسی بھی طریقے سے ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تمام ادارے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے فرائض انجام دیں، پاکستان کی انتظامیہ پارلیمنٹ اور وزیراعظم کے ہاتھ میں ہے، آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو اس بلڈنگ سے باہر آؤ اور میدان میں کھڑے ہوجاؤ۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں گزشتہ دنوں پُرتشدد مظاہروں پر کہا جارہا ہے کہ یہ عوام کا ردعمل ہے، دراصل تم نے چند بدمعاشوں کے جتھے کو سیاست کہہ دیا، اب آئے کوئی جتھا اور حملہ کر کے دکھائے، کدھر ہے پی ٹی آئی کا مجاہد، دہشت گرد وہ آئے اور اب حملہ کر کے دکھائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ میرے بائیں طرف پولیس کی بڑی تعداد موجود ہے، رینجرز موجود ہے، جو اس عمارت کو تحفظ فراہم کررہے ہیں، میں واضح کردوں کہ پولیس اور رینجرز ہٹ جائے ہم اس عمارت کی حفاظت کریں گے، کوئی مائی لا لعل اس عمارت کو ٹیڑھی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔

فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس عمارت کے تقدس کو بحال کریں گے اگر کسی جج نے ادارے کے تقدس کو پامال کیا تو ہمارا لڑکا اس کو برداشت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے مشاہدہ کیا تھا کہ 2018 کے الیکشن میں ننگی دھاندلی ہوئی، ہم میدان میں نکلے تو جرنیل ناراض ہوئے، جب ہم نے احتجاج کیا اور کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے تو کسی کو سوموٹو کا خیال نہیں آیا۔

پی ڈی ایم سربراہ نے مزید کہا کہ ’جب جج نے عوام کا سمندر دیکھا تو ایک ہفتے کے لیے کیس ملتوی کردیا، ان کا خیال ہے کہ یہ مجمع چلا جائیگا تو دوبارہ سماعت کریں گے، میں انکو بتانا چاہتا ہوں ہم ایک دن کے نوٹس پر دوبارہ آئیں گے اور اس سے بڑی تعداد میں آئیں گے‘۔

خطاب کے آخر میں مولانا فضل الرحمان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ اسلام آباد آئیں گے‘۔ دھرنا ختم ہونے کا اعلان ہوتے ہی جے یو آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان اپنے گھروں کی طرف واپس روانہ ہوگئے۔

[pullquote]مریم نواز کا خطاب[/pullquote]

قبل ازیں مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی تباہی بھی ججوں کے فیصلوں سے ہوئی ہے۔

پی ڈی ایم کے شاہراہ دستور پر دھرنے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ آج عمران خان کی سہولت کاری کرنے والوں کی بات ہوگی، قانون سازی پارلیمنٹ کا ذمہ داری ہے اس کو روکنا تمہاری ذمہ داری نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ اور آئین کا احترام کرنے والے لوگ ہیں، اس عمارت کو ایمانداری نے نہیں عمران داری نے داغدار کیا، ہم اس جگہ احتجاج نہیں کرنا چاہتے تھے، اس عمارت سے جمہوریت کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کو انجام تک پہنچانا اس عمارت کی ذمہ داری تھی، 60 ارب روپے کا ملزم جب عدالت میں پیش ہوا کہا گیا ویلکم آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، ملک کو نظریہ ضرورت نے تباہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلیاں توڑنے میں عمران خان اور پرویز الہیٰ نہیں عارف علوی بھی ملوث تھے، فتنہ اور انتشار پھیلانے والوں کو انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری عدلیہ کی تھی۔

مریم نواز نے کہا کہ اس ملک میں 4 بار جمہوریت پر شب خون مارا گیا، کیا عدالت نے کسی آمر کو گھر بھیجا؟ 4-3 کے فیصلے کو 3-2 میں بدل دیا گیا، ہم اقلیتی فیصلے کو نہیں مانتے۔

[pullquote]حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا[/pullquote]

حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا، جس میں مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر سیاسی قائدین نے شرکت کی۔

حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے کارکن احتجاج اور دھرنے کے لیے صبح ہی سے وفاقی دارالحکومت کے ریڈزون میں داخل ہوکر سپریم کورٹ کے باہر احتجاج شروع کیا۔ پی ڈی ایم کارکن دروازہ پھلانگ کر ریڈزون میں داخل ہوئے اور نعرے لگاتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے باہر پہنچے، جہاں ایف سی اور پولیس اہل کاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی، اس دوران پولیس حکام کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی گئی۔

سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے لیے آنے والے کارکنوں کو روکنے کے لیے پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری پہلے ہی الرٹ کردی گئی تھی جب کہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے شاہراہ دستور کو بھی عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

ترجمان اسلام آباد کیپٹل پولیس کی جانب سے پی ڈی ایم جماعتوں کے کارکنوں کے ریڈزون میں داخلے کی تصدیق کردی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے گیٹ پر پہنچنے والے کارکن نعرے بازی میں مصروف ہیں۔ پولیس نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خدشات موجود ہیں، لہٰذا عوام سے گزارش ہے کہ اجتماع والے مقامات سے دُور رہیں۔ ترجمان نے عوام سے تعاون کی درخواست بھی کی ہے۔

دریں اثنا پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے احتجاجی مظاہرین نے شاہراہ دستور پر اسٹیج لگا لیا ہے، جہاں کارکنوں کی بڑی تعداد نعرے بازی کررہی ہے۔

علاوہ ازیں مظاہرین نے سپریم کورٹ ججز گیٹ کے سامنے اسٹیج لگا لیا جہاں سے احتجاج میں شریک جماعتوں کے رہنما تقریر کررہے ہیں۔ احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے عمران خان کے خلاف نعرے بازی کی جا رہی ہے۔

دھرنے کے دوران سپریم کورٹ کے سامنے مظاہرین نے احتجاج کے لیے تین اسٹیج لگائے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کی جانب سے علیحدہ اسٹیجز لگا کر کارکن بھرپور احتجاج کررہے ہیں۔ اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکن کی جانب سے چیف جسٹس اور عمران خان کی تصویر والا بینر جلا دیا گیا، جب کہ کارکن کی جانب سے دونوں کی تصاویر پر جوتے بھی مارے گئے۔

قبل ازیں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے کارکن اسلام آباد میں دھرنے کے لیے گزشتہ شب ہی مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں روانہ ہوئے تھے۔ وفاقی دارالحکومت میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے لیے قافلوں کی صورت میں نکلنے والے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جماعتوں کے کارکنوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔

احتجاج کے لیے اسلام آباد جانے والے حکومتی جماعتوں کے کارکنوں نے کچھ مقامات پر احتجاجی ریلیوں کی شکل میں چیف جسٹس کے خلاف اور پاک فوج کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔ کارکنوں کو کئی مقامات پر ناشتے میں حلوہ، چنے اور نان پیش کیے گئے۔

واضح رہے کہ جے یو آئی (ف) اور حکومتی اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پوری قوم سے آج سپریم کورٹ کے باہر پُرامن احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچنے کی اپیل کی تھی۔ جس پر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے احتجاج میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے، تاہم عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) احتجاج میں شرکت نہیں کرے گی۔

اُدھر پی ڈی ایم کے ڈی چوک پر دھرنے کے لیے جے یو آئی (ف)، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے کارکن پشاور موٹروے ٹول پر جمع ہوئے، جہاں سے وہ اپنی اپنی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے۔ لیگی کارکن امیر مقام کی قیادت میں جب کہ جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان مولانا عطا الحق درویش کی قیادت میں وفاقی دارالحکومت میں احتجاج میں شرکت کے لیے نکلے۔

پشاور سے پیپلز پارٹی کے قافلے ضیا الحق آفریدی کی قیادت میں روانہ ہوئے۔ تمام جماعتوں کے قافلے انٹرچینجز سے دوسری جماعتوں کے قافلوں کو جوائن کرکے وفاقی دارالحکومت کی جانب بڑھے۔

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے جب کہ اہم تنصیبات اور عمارتوں کی سکیورٹی کے لیے فوج پہلے ہی تعینات ہے۔

[pullquote]عمران خان نے مذمت نہ کی تو سپریم کورٹ پی ٹی آئی کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر دیکھے، بلاول[/pullquote]

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک سب نے عمران خان سے اظہار یکجہتی کیا، کسی نے جی ایچ کیو اور جناح ہاؤس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار نہیں کیا۔

قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ریاست کو اب ایک ہوکر جواب دینا پڑے گا، افسوس کی بات ہے خان صاحب کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ سے اعلیٰ عدلیہ تک سب نے اظہار یکجہتی کیا، کسی نے جناح ہاؤس کے ساتھ اظہار یکجہتی دکھایا، کسی نے جی ایچ کیو کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ’آپ کو دیکھ کر اچھا لگا‘ کے بجائے عدالت کو عسکری جماعت کی مذمت کرنی چاہیے تھی، دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے تھی، خان صاحب کو موقع فراہم کرنا چاہیے تھا کہ آپ فیصلہ کرو کہ آپ سیاسی جماعت ہو یا دہشت گرد تنظیم، اگر وہ سیاسی جماعت ہے تو پھر آپ سیاسی جماعت کے طور پر اُس کے ساتھ رویہ رکھیں۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ اگر عمران خان انکار کرے اور پُرتشدد واقعات کی مذمت نہ کرے، معافی نہ مانگے تو پھر اس کا مطلب کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں ہے اور اب یہ ایک عسکری جماعت بن گئی ہے، اس ساری صورت حال میں ایوان کو پی ٹی آئی کو ایک عسکری تنظیم کے طور پر دیکھنا ہوگا جبکہ سپریم کورٹ کو بھی اسی طرح پی ٹی آئی سے رویہ رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ہر ادارے پر حملہ کیا، ابتدا پارلیمان سے شروع ہوئی، پھر انصاف کے اداروں پر تنقید کی، حکومت میں آئے اور سلیکٹڈ راج قائم کر کے آئی ایس آئی کو استعمال کیا اور اپنے مفادات نکلوائے، اُس وقت انہیں سوموٹو لے کر عمران خان کو عدالت میں طلب کرنا چاہیے تھا مگر انہیں جب سوموٹو یاد آتا ہے جب ہم اصل صورت میں جمہوریت بحال کرنے کے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’سب نے پہلی بار دیکھا کورکمانڈر ہاؤس کو جلایا گیا، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا، پشاور میں پبلک ٹرانسپورٹ کو جلایا گیا، پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلایا گیا‘۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے