پاکستان میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے خلاف ڈیجیٹل نفرت انگیز تقریر میں اضافہ

پاکستان میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے خلاف ڈیجیٹل نفرت انگیز تقریر میں اضافہ کے ساتھ ساتھ شناخت کی بنیاد پر حملوں کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ، جبکہ دسمبر 2016 سے 2022 میں ڈیجیٹل ہراسانی کے کل 14,376 کیسز موصول ہوئے ہیں، جن میں % 58.6 کیسز خواتین کی جانب سے سامنے آئے ہیں ۔ 2022 مں رپورٹ ہونے والے کل 2695 نئے کیسز مناظر عام پر آئے ہیں ،جن میں ہر ماہ تقریباً 224 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ نومبر 2022 سے کیسزکی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ ڈیٹا ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی چھٹی سالانہ سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن رپورٹ کی جانب سے جاری ہونے پر مناظر عام پر آئی ہے۔ ہیلپ لائن 2022 میں ڈیجیٹل ہراسانی کے 2500 سے زیادہ کیسز موصول ہونے پر شائع کی گئی ہے ۔

2022 میں خواتین کی جانب سے سب سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں جو کہ % 58.6 ہیں ۔ جبکہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو اس سال ایک منظم آن لائن نفرت انگیز مہم کا نشانہ بنایا گیا اور موصول ہونے والی شکایات کا تقریباً % 1 ہیں۔ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جہاں مہم چلائی گئی تھی، کا ردعمل یا اس کی کمی، اس رجحان کا ایک اور پہلو ہے۔

2022 میں سب سے زیادہ کیسز پنجاب (1712) اس کے بعد سندھ (354) اور کے پی کے (144) رپورٹ ہوئے ہیں ۔

ڈی آر ایف ہیلپ لائن کو کبھی کبھار بیرونی ملک رہائش پذیر افراد کی جانب سے بھی شکایت موصول ہوتی ہیں ۔ (2022 میں 106) پاکستانی اور غیر پاکستانی شہریوں کی طرف سے شکایات موصول ہوتی ہیں، جہاں FIA کے پاس مقدمہ درج کرنے کے لیے ملک کے اندر جسمانی موجودگی یا نمائندے کی کمی ایک چیلنج ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں ملک میں موجودہ ڈیجیٹل صنفی تقسیم کو دور کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ وہ مالی، حفاظتی اور سماجی رکاوٹوں کو دور کریں جن کا سامنا خواتین کو ڈیجیٹل آلات اور انٹرنیٹ کی جگہوں تک رسائی کے دوران کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں ایف آئی اے کو سائبر کرائم کی شکایات میں تفتیشی تاخیر پر قابو پانے کے لیے مسلسل صلاحیت سازی کے عمل میں سرمایہ کاری کرکے اپنی تکنیکی مہارت کو بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید برآں، سائبر کرائم ونگز کے اہلکاروں کو صنفی حساسیت کی باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے،سائبر کرائم ونگز میں تحقیق میں سرمایہ کاری کرنے کی بھی تجویز پر زوردہا گیا ہے تاکہ قانونی چارہ جوئی اور شکایت کنندگان کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

آئی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ڈی آر ایف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے رپورٹ پر تشوتش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ہراسانی کے کیسز کی تعداد زیادہ ہے مگر رپورٹ ہونے والے کیس انتہائی کم ہیں جن کی بڑی وجہ لوگوں میں شعور کی کمی اور واقعات رپورٹ کرنے کے حوالے سے مناسب طریقے کار کلے بارے میں علم نہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آر ایف کی ہیلپ لائن قانونی مشاورت، ڈیجیٹل تحفظ میں رہنمائی کرنا اور بنیادی نفسیاتی مدد فراہم کرتے ہیں اور ایک ریفرل میکانزم بھی پیش پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا ہے کہ مئی میں، ہیلپ لائن نے درخواستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو پورا کرنے کے لیے اپنے کام کو ہفتے میں 7 دن تک رہنمائی فراہم کرنا شروع کر دی۔انہوں نے رپورٹ پر بات کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ 2022 میں ہمیں ہیلپ لائن پر فائنینشل فراڈ اور سکیم کی شکایت موصول ہوئیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ٹرانس جینڈرافراد کے آن لائن تشدد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے خلاف ڈیجیٹل نفرت انگیز تقریر میں اضافہ شناخت کی بنیاد پر حملوں کے ایک پریشان کن نئے رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ڈی آر ایف کی ہیلپ لائن مینیجر حرا باسط کا کہنا ہے کہ ہیلپ لائن پر ہم معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور طبقوں کی وکالت کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ہم نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان کے اندر سیاق و سباق کی وضاحت کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔ ایسے بیانیے کے نقصان دہ نتائج جو کمیونٹی گائیڈ لائن کی خلاف ورزیوں کے دائرہ کار میں صاف طور پر فٹ نہیں ہوتے۔

ڈی آر ایف کی ہیلپ لائن ٹول فری نمبر (0800-39393) رپورٹ کے مطابق موصول ہونے والے کیسز کے اعداد و شمارکی بنا پر بنائی گئی ہے۔ رپورٹ میں ہیلپ لائن کال کرنے والوں کے کیس اسٹڈیز اور پالیسی سازوں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے لیے تجاویز بھی شامل ہیں۔

ہیلپ لائن پیر سے اتوار، صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک، ای میل اور ڈی آر ایف کی میڈیا پلیٹ فارمز پردستیاب ہے۔ سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن خطے کی پہلی مخصوص ہیلپ لائن ہے جو صنف کے لحاظ سے حساس، خفیہ اور مفت خدمات کے ساتھ آن لائن تشدد سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے موجود ہے۔

واصخ رہے کہ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن پاکستان میں ایک رجسٹرڈ تحقیقاتی عمل پر مبنی این جی او ہے۔ 2012 میں قائم ہونے وال اداری ڈی آر ایف انسانی حقوق، جامعیت، جمہوری عمل، اور ڈیجیٹل گورننس کی حمایت کے لیے ICTs پر توجہ مرکوز کرتا ہے ۔ ڈی آر ایف آن لائن آزادانہ تقریر، رازداری، ڈیٹا کے تحفظ اور خواتین کے خلاف آن لائن تشدد کے مسائل پر کام کرتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے