فیاض الحسن چوہان کی 20 سالہ سیاسی زندگی

یہ غالباً فروری 2000 کی بات ہے کہ میں اور میرے ہردلعزیز دوست گلریز جماعت اسلامی کے ساتھ 5 فروری کی یوم یکجہتی کشمیر ریلی میں شرکت کے لیے زندگی میں پہلی اسلام آباد آئے۔ آبپارہ کے خیابان سہروردی پر ہونے والی ریلی میں جہاں کلیدی خطاب قاضی حسین احمد مرحوم کا تھا وہیں ان کے خطاب سے پہلے ایک پرجوش نوجوان کے خیرمقدمی خطاب نے جلسے کے شرکاء کا لہو خوب گرمایا تھا۔۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ اس نوجوان نے اپنے خطاب کا اختتام ان اشعار کے ساتھ کیا تھا۔۔

جب ساز سلاسل بجتے تھے ، ہم اپنے لہو میں سجتے تھے
وہ رِیت ابھی تک باقی ہے ، یہ رسم ابھی تک جاری ہے
کچھ اہلِ ستم ، کچھ اہلِ حشم مے خانہ گرانے آئے تھے
دہلیز کو چوم کے چھوڑ دیا دیکھا کہ یہ پتھر بھاری ہے
جب پرچمِ جاں لیکر نکلے ہم خاک نشیں مقتل مقتل
اُس وقت سے لے کر آج تلک جلاد پہ ہیبت طاری ہے
زخموں سے بدن گلزار سہی پر ان کے شکستہ تیر گنو
خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے
کس زعم میں‌ تھے اپنے دشمن شاید یہ انہیں معلوم نہیں
یہ خاکِ وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے

اس کے کچھ عرصے بعد اکتوبر 2000 قرطبہ میں جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں شباب ملی کے کنونشن میں بھی اس نوجوان نے اپنے خطاب کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے گرودیدہ بنا لیا۔۔

2002 میں عام انتخابات ہوئے تو یہ نوجوان راولپنڈی سے متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے لیے میدان سیاست میں اترا اور کامیاب ہو کر پنجاب اسمبلی میں پہچ گیا۔۔ میں نے اسلام آباد قاضی حسین احمد کو اس نوجوان کا ماتھا چومتے ہوئے دیکھا۔۔۔ لیک پھر اچانک نہ جانے کیوں اس نوجوان کو پرواز کی سوجھی اور جنرل مشرف کی ق لیگ میں چلے گئے اور انھیں متحدہ مجلس عمل کا پہلا لوٹا بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔۔

2008 کا الیکشن برے طریقے سے ہار گئے اور 2013 میں انتخابی میدان سے ہی باہر رہے۔۔ ملک میں تبدیلی کے لیے تحریک انصاف میں ہوا بھری جانے لگی تو پرویز مشرف کے دیگر ساتھیوں کی طرح وہ بھی اس کشتی میں سوار ہو گئے۔ 2018 میں تبدیلی کے سپاہی کے طور پر میدان میں اترے اور پی پی 17 راولپنڈی سے 40 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔۔ پنجاب کابینہ کے متحرک وزیر، ترجمان رہے اور متنازعہ بیانات اور پھرتیوں کی وجہ سے بڑی شہرت کمائی۔ عمران خان کی کور ٹیم کا حصہ رہے۔۔

بعض اوقات تو وہ ایسا لب و لہجہ استعمال کرتے تھے کہ ان کے لہجے میں رعونت، طاقت کا غرور اور اقتدار کا نشہ چھلکتا تھا۔۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد ان کا نام بھی ایف آئی آر میں آیا اور وہ ادھر ادھر چھپتے رہے جب بس ن چلا تو پاکستان کا جھنڈا ہاتھ میں تھامے لیاقت باغ کے تاریخی مقام پر پولیس کو گرفتاری دے دی۔۔

انھیں کب کس عدالت سے ضمانت ملی یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے لیک آج شام کو وہ نیشنل پریس کلب پہنچے اور جس طرح گزشتہ پانچ سال میں وہ لیگ، جے یو آئی ف اور پیپلز پارٹی کو لتاڑتے رہے۔۔ اسی لب و لہجے اور انداز میں عمران خان اور ان کی لیڈرشپ کو لتاڑا اور پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے محض 20 سال کی سیاسی زندگی میں تیسری مرتبہ لوٹا بننے کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔۔۔

اگرچہ وہ میرے گجر بھائی ہیں لیکن میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ کسی گجر نےگزشتہ کئی صدیوں میں اتنی ذلت نہیں کمائی ہوگی جتنی انھوں نے محض 20 سال میں کمائی ہے۔۔

امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میری مراد جناب فیاض الحسن چوہان ہی ہیں۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے