نواز شریف اور مودی کا نیا امتحان

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی ایک بڑے امتحان سے دوچار ہیں۔ دونوں نے 25؍ دسمبر 2015ء کو لاہور میں پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ کیا تھا لیکن 2؍ جنوری 2016ء کو پٹھان کوٹ میں بھارتی ایئر فورس کے ایک بیس پر حملے کے بعد سے مذاکرات کے مستقبل پر خطرات کے سائے لہرا رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے پٹھان کوٹ حملے کا الزام کچھ پاکستانیوں پر تو عائد کیا لیکن حکومت پاکستان کو حملے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ حکومت پاکستان نے بھارت کے الزامات کو فوری طور پر مسترد کرنے کی بجائے ان الزامات کی تحقیق کرنے کا یقین دلایا۔ پٹھان کوٹ حملے کے بعد سے وزیراعظم نواز شریف کو جن مشکلات اور جس خفت کا سامنا ہے اس کا احساس ان تمام لوگوں کو بھی ہو رہا تھا جو سری لنکا کے حالیہ دورے میں ان کے ساتھ تھے۔ اس دورے کا اصل مقصد سری لنکا کو جے ایف تھنڈر طیاروں کی فروخت کا معاہدہ کرنا تھا لیکن سری لنکا کی حکومت اس معاہدے پر دستخط کرنے سے خوفزدہ نظر آ رہی تھی۔ ایک طرف سری لنکا کے صدر سری سنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کا بار بار شکریہ ادا کر رہے تھے دوسری طرف بڑی بے چارگی سے یہ بھی بتا رہے تھے کہ بھارت نے دھمکی دی ہے کہ پاکستان سے جے ایف تھنڈر مت خریدو ورنہ تمہارے قرضے اور امداد بند کر دیں گے۔ پاکستان کے وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر نے بڑی شائستگی سے اپنے میزبانوں پر واضح کیا کہ اگر آپ کو کوئی فیصلہ کرنا ہے تو ابھی کر لیں کیونکہ برما، نائیجیریا اور مصر نے بھی جے ایف ٹھنڈر طیارے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اگر انہوں نے آرڈر پہلے دے دیا تو ڈلیوری بھی ان کو پہلے ہو گی اور آپ کو طیارے بہت تاخیر سے ملیں گے۔ ان کی بات سن کر سری لنکن میزبانوں نے معاہدے کیلئے ہاں تو کر دی لیکن درخواست کی کہ اس معاہدے کا اعلان نہ کیا جائے۔ سری لنکا کی حکومت کا یہ رویہ کچھ ایسی حقیقتوں کو سامنے لا رہا تھا جنہیں ہم تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ عام سری لنکن یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ملک کو خانہ جنگی سے نکالنے میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے لیکن اس کے باوجود سری لنکا میں بھارت کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔ افغانستان کے ساتھ بھارت کی کوئی سرحد نہیں ملتی لیکن افغانستان میں بھی پاکستان کی نسبت بھارت کا اثر زیادہ ہے حالانکہ افغانستان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ بنگلہ دیش بھی ایک مسلم اکثریتی ملک ہے لیکن وہاں بھی بھارت کا اثر زیادہ ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد ملتی ہے۔ پاکستان نے کبھی ایران کے خلاف عالمی سازشوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ پچھلی کچھ دہائیوں میں ایران اور پاکستان کے تعلقات میں تنائو کے باوجود پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی میں فریق بننے سے گریز کیا لیکن اس کے باوجود ایران میں بھی بھارت کا اثر زیادہ ہے۔ چین کے سوا خطے کے تمام اہم ممالک کے ساتھ پاکستان کی نسبت بھارت کے تعلقات زیادہ بہتر ہیں۔ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں تو کیا ہے؟ کیا اس ناکامی کے ذمہ دار وہ نہیں جو اصل میں خارجہ پالیسی چلانے کا شوق رکھتے ہیں؟ جی نہیں اتنا بہادر کوئی نہیں جو کم از کم افغانستان میں پاکستان کی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرے لہٰذا وطن عزیز کے بہادر اہل قلم بھی ان ناکامیوں کی ذمہ داری کسی اور پر ڈال کر اپنی بت شکنی کے جھنڈے گاڑتے رہتے ہیں۔ کاش کہ وزیراعظم نواز شریف ایک عدد باقاعدہ وزیر خارجہ مقرر کر دیں تاکہ کمزور سیاست دانوں پر تابڑ توڑ حملے کرنے والے کالم نگاروں اور ٹی وی اینکروں کا یہ اعتراض تو ختم ہو کہ جس ملک میں کوئی وزیر خارجہ نہیں اس ملک کی خارجہ پالیسی کیسے کامیاب ہو گی؟

کچھ عرصہ قبل وزیراعظم نواز شریف نے کوئٹہ کے سابق کور کمانڈر ناصر خان جنجوعہ کو نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر مقرر کیا اور یہ امید پیدا ہوئی کہ جنجوعہ صاحب سیاسی و فوجی قیادت میں پل کا کردار ادا کرتے ہوئے کم از کم افغانستان اور بھارت کے ساتھ تنازعات کو طے کرنے میں ایک موثر کردار ادا کریں گے۔ ناصر خان جنجوعہ کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر بننے کے بعد ان کے بارے میں سرگوشیوں کے ذریعے بہت سی افواہیں پھیلائی گئیں لیکن سرگوشیاں کرنے والے خود سامنے آنے کے لئے تیار نہ تھے۔ ناصر خان جنجوعہ کا پہلا امتحان بنکاک میں بھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت کمار ڈوول کے ساتھ ان کی چار گھنٹے طویل ملاقات تھی۔ اس ملاقات میں ایک سیدھے سادھے سولجر کا سامنا ایک ایسے پولیس افسر سے تھا جس کی تمام زندگی انٹیلی جنس بیورو میں گزری تھی لیکن دونوں کی ملاقات کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا اس میں کشمیر کا ذکر موجود تھا۔ اوفا کے مشترکہ اعلامیے میں کشمیر غائب تھا لیکن بنکاک کے مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کی واپسی کا مطلب تھا کہ ناصر خان جنجوعہ نے اپنی سیدھی اور سچی باتوں سے اجیت ڈوول کو کچھ نہ کچھ متاثر تو کیا۔ دونوں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرز کی ملاقات کی تجویز مودی نے پیرس میں نواز شریف کو دی تھی۔ پہلے یہ ملاقات سنگا پور میں ہونا تھی لیکن بعد ازاں بنکاک کو مناسب سمجھا گیا۔ اس ملاقات کے نتیجے میں سشما سوراج اسلام آباد اور نریندر مودی لاہور آئے۔ بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس اور پاکستان میں تحریک انصاف کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف اور مودی کے درمیان خفیہ رابطوں کا فریضہ ایک بھارتی صنعتکار ساجن جندل سرانجام دے رہے ہیں۔ نواز شریف 2014ء میں مودی کی حلف برداری کی تقریب میں دہلی گئے تو انہوں نے جندل کے گھر چائے پی تھی۔ 25؍ دسمبر 2015ء کو مودی لاہو رآئے تو جندل پہلے سے لاہور میں موجود تھے لیکن نواز شریف اور مودی کی ملاقات میں نظر نہیں آئے۔ بھارت اور پاکستان کے میڈیا نے جندل کے بارے میں ایک اہم نقطہ نظر انداز کر دیا ہے۔ جندل کے خاندان کا تعلق ہمیشہ کانگریس سے رہا ہے۔ ان کے بھائی اور بزنس پارٹنر نوین جندل کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑتے رہے تو پھر جندل نے من موہن سنگھ اور نواز شریف کو قریب لانے میں خفیہ سفارت کاری کیوں نہ کی؟ نواز شریف جندل کو کئی سالوں سے جانتے ہیں لیکن 2014ء میں نواز شریف کو مودی کی حلف برداری میں بلانے کی تجویز اجیت ڈوول کی تھی جندل کی نہیں۔ خود جندل واضح الفاظ میں تردید کر چکے ہیں کہ انہوں نے کبھی نیپال یا پاکستان میں مودی اور نواز شریف کی ملاقات کرانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب پرویز مشرف اقتدار میں تھے تو جندل کا ان سے بھی رابطہ تھا کیونکہ جندل راجستھان کے راستے پاکستان کو چھ سو میگا واٹ بجلی فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تنازعات ختم ہونے سے صرف ایک ساجن جندل کو فائدہ نہیں ہو گا بلکہ پورے خطے کو فائدہ ہو گا۔ پٹھان کوٹ حملے کے بعد پاکستان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ایک گروپ نے حملے کی ذمہ داری تو قبول کی ہے لیکن بھارتی حکام اس ذمہ داری کو اہمیت نہیں دے رہے کیونکہ حملہ آوروں کی فون کالز حملے سے قبل ٹریس ہو چکی تھیں لیکن بھارتی پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنی نا اہلی کے باعث حملہ نہ روک سکیں البتہ بھارتی حکام نے حملے سے قبل پاکستان کو حملے کے خطرے سے خبردار کر دیا تھا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں پٹھان کوٹ واقعہ پر غور کے لئے جو اجلاس منعقد ہوا اس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔ پٹھان کوٹ میں حملے کا واقعہ مودی حکومت کے لئے ایک دھچکا ہے کیونکہ مودی پر تنقید کی جا رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہ کرو لیکن اگر پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت پٹھان کوٹ واقعہ کی صاف و شفاف تحقیقات کے ذریعے دنیا کے سامنے اپنی ساکھ قائم کر لے تو پاک بھارت مذاکرات کا عمل درست سمت میں تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے اور پاکستان اپنی سیاسی اخلاقی برتری قائم کر کے دنیا سے مطالبہ کر سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں اصل تنازع جموں و کشمیر ہے۔ جب تک کشمیریوں کو اعتماد میں لے کر یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم نواز شریف کو چاہئے کہ وہ کشمیر پر ایک روڈ میپ تشکیل دیں اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھیں ورنہ پٹھان کوٹ جیسی مشکلات ختم نہ ہوں گی۔

بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے