سہانے خوابوں کا کٹھن سفر

ہم میں سے سب کو ہی اپنے خاندان سے پیار ہوتا ہے۔ خاندان مطلب آپ کے بیوی بچے یا پھر بہن بھائی اور والدین، اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر کوئی تگ و دو کرتا ہے اور جہاں تک ممکن ہوتا ہے محنت مزدوری کر کے اپنے اہل خانہ کو سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی کبھی جب آپکی قسمت آپکے اپنے ملک میں ساتھ نہیں دیتی تو آپ دیار غیر میں جا کر محنت مزدوری کرنے کا سوچتے ہیں لیکن جب جیب میں زیادہ سرمایہ نہ ہو اور تعلیم کی کمی ہو تو دیار غیر کا خواب بھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا تب آپ شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں۔

آجکل ہم اکثر سنتے ہیں کہ ڈنکی لگا کر جانے والوں کی کشتی الٹ گئی ۔ کشتی میں سوار کسی شخص کو بچایا نہ جا سکا ۔ اورشاید ہم صحافیوں کے لئے ایسی خبریں انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ پاکستان سے بھی ایسے بے شمار افراد ہیں جو اپنے اہل خانہ کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے اپنی جان خطروں میں ڈال کر کسی شارٹ کٹ کےچکر میں پڑ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک شخص محمد اویس (فرضی نام) بھی ہے جو پاکستان میں مزدوری نہ ملنے پر دل برداشتہ ہو کر کسی دوسرے ملک میں قسمت آزمانے پر سوچنے لگا لیکن تعلیم اور سرمایہ کی کمی نے اسے غیر قانونی طور پر خطرناک راستے کے ذریعے ایران جانے پر سوچنے پر مجبور کیا۔ کہتے ہیں کہ "ماس خورے کو ماس مل ہی جاتا ہے” تو اویس کو بھی ایک بندہ مل گیا جس نے اسے ایران تک پہنچانے کیلئے ایجنٹ کا بتایا ۔

محمد اویس کو ایجنٹ عباس جو كہ فیصل آباد كا رہنے والا ہے نے ایجنٹ اكرم كے پاس بھیجا جو كہ اویس كو كراچی یوسف گوٹھ سے تربت تک پہنچانے كے لیےمعمور تھا ۔ تربت تک اویس كو بس پر لے جایا گیا تربت میں ایجنٹ اكرم نے اپنے ڈیرے پر رات گزارنے كے لیے ركھا۔ اگلے روز ایران کا سفر شروع كرنے کے لیے ماسٹر ڈالے میں ایجنٹ مری بلوچ کے ہمراہ دوسو بکریوں کے ساتھ محمد اویس كو بھی سوار كروا دیا گیا اور بتایا گیا كہ بكریوں كے ساتھ ہی ایران تک پہنچایا جائے گا جس سے كسی كو شک نہیں ہو گا ۔ اویس اوردیگر پندرہ افراد نے ایجنٹ مری بلوچ كے ساتھ اپنے سفر كا آغاز كیا۔

یہ افراد تربت سے صبح دس بجے اپنے سفر پر نكلے عصر كے وقت یہ تمام لوگ ایک چھوٹی سی دكان پر پہنچے جوكہ انكا اس سڑک پر آخری مقام تھی اسكے بعد انكو كہا گیا كہ جو سامان چاہیے كھانے كے لیے لے لیں كیونكہ اس كے بعد راستے میں كوئی دكان نہیں آئے گی ۔ كسی نے بسكٹ اور كسی نے پانی خرید كر ركھ لیا اور اپنے خوابوں میں گم ایک مرتبہ پھر سے سفر پر گامزن ہو گیے کچھ دیر سفر کرنے کے بعد مغرب کا اندھیرا پھیلنے لگا لیكن اب انكا سفر پتھریلے اور اندھیرے راستے پر تھا جو كہ پہاڑوں كے بیچوں بیچ تھا۔ اس علاقے میں كسی قسم كی دوسری ٹریفک بلكل نہیں تھی اور صرف انہیں كی گاڑیاں فراٹے بھرٹی اونچے نیچے رستوں كو روندتی بھاگ رہی تھیں ۔

رات كے قریب گیارہ بجے ان سب کو پاكستانی حدود كی آخری چیک پوسٹ سے كچھ دور اتار دیا۔ اب اس خوفناک پہاڑی علاقے كے گھپ اندھیرے میں صرف اویس دیگر پندرہ افراد دو سو كے قریب بكریاں اور ایجنٹ مری بلوچ تھا ۔ رات وہیں درختوں میں گزارنے كے بعد صبح فجر كے وقت سفر كا دوبارہ آغاز ہوا اور روشنی پھوٹنے سے قبل چیک پوسٹ كو كراس كروایا گیا۔ چلتے چلتے دوپہر كے بارہ بج گئے جب اویس كا گروپ پاكستان ایران كے بارڈر كے قریب پہنچ گیا۔ جہاں انكو ایک چھوٹی سی پہاڑی كی اوٹ میں چھپنے كا كہہ دیا گیا جبكہ ایجنٹ نے اپنے ایک آدمی كو بارڈر كا جائزہ لینے بھیجا كہ ایرانی فوج كے گشت كے بارے میں معلومات لے۔

یہ تمام افراد قریب ایک گھنٹہ تک پہاڑی كی اوٹ میں چھپے رہے بارڈر پر گشت واپس جانے كے ساتھ ہی انكو بارڈر كراس كروا دیا گیا۔ انہیں لگا کہ اب منزل قریب ہی ہے ۔ قریب بیس منٹ میں ان سب نے بكریوں كے ہمراہ بارڈر كراس كیا جبكہ ایک شخص جھاڑی كی مدد سے پیچھے قدموں كے نشان بھی مٹاتا رہا تاكہ كوئی نشان باقی نہ رہے اور کسی کو شک نہ ہو ۔ ایران كا بارڈر كراس كرنے كے بعد وہاں موجود ایک گھاٹی میں جہاں بارش كا پانی جمع تھا قریب دو گھنٹے چھپے رہے تاكہ اگلا راستہ كلئیر ہونے كا سگنل مل سكے۔ دو گھنٹے كے بعد سفر كا دوبارہ آغاز كیا گیا۔ اور پھر ایک مشكل راستے كا آغاز ہوا۔ چلتے چلتے مغرب كے وقت یہ تمام لوگ ایک ندی كے كنارے پہنچے جہاں ندی سے بكریوں نے اور پورے گروہ نے پانی پیا اسوقت تک جو كھانے پینے كا سامان تھا سب ختم ہو چكا تھا۔ اب صرف پاس آٹا، نمک ، چائے كی پتی اور تھوڑی سی چینی ہی بچی تھی۔

جبكہ گھپ اندھیری رات اور چاروں جانب سے گیدڑوں اور جنگلی جانوروں كی آوازیں تھیں۔ چلنے كا آغاز دوبارہ كیا گیا جہاں بكریاں تھک جاتیں وہیں پڑاو ڈال لیا جاتا۔ چھپتے چھپاتے رات گیارہ بجے كے قریب گروہ میں سے كچھ لڑكوں نے سگریٹ سلگائے جس كے باعث قریب كی پہاڑی پر موجود ایرانی فوجی الرٹ ہو گئے اور انہوں نے پیچھا كرنے كی كوشش كی لیكن ایجنٹس كو ان چٹیل پہاڑوں پر بھی چھپنے كی جگہیں معلوم ہونے كے باعث ایک گھاٹی میں چھپنے میں كامیاب ہو گئے ۔ پندرہ افراد كے گروہ اور بكریوں كو اس گھاٹی میں چھپا دیا گیا۔ اور راستہ كلئیر ہونے كا انتظار اسی گھاٹی میں كیا گیا۔ جب یقین ہو گیا کہ فوجی واپس جا چکے ہیں تو صبح فجر سے كچھ وقت پہلے سفر كا دوبارہ آغاز كیا گیا اور پھر چلتے چلتے صبح كی روشنی ہو گئی اب وہ لوگ فوجی چیک پوسٹ سے کافی دور نکل چکے تھے ۔

صبح ہونے پر ایک جگہ جہاں بارش كا پانی جمع ہوا ہوا تھا وہاں رک گئے جہاں سب نے پانی پیا كچھ لڑكوں كی ڈیوٹی بكریوں پر نظر ركھنے كی لگا كر كچھ كو لكڑیاں جمع كرنے كا كہا گیا اور یجنٹ نے ایک سیدھا سا سل جیسا بڑا پتھر ڈھونڈا اور اسی بارش كے پانی سے آٹا مكس كیا جسمیں تیز نمك ڈال كر بن جیسی موٹی موٹی روٹی بنا كر سب كو ایک ایک چھوٹا ٹكرا دے دیا گیا اور ساتھ ہی چائے كی پتی كے ساتھ بغیر دودھ كے چائے بنا كر پلاسٹک كی كٹی ہوئی بوتلوں كے گلاس میں ڈال كر سب كو پلا دی گئی اور سفر پھر شروع ہو گیا۔ بكریاں شدید تھک چكی تھیں اور ان میں سے كچھ بكریوں كو زیادہ تھكان كے باعث وہیں چھوڑ دیا گیا۔ اب چلنے والے تمام افراد كی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔ چلتے چلتے اویس كا جوتا ٹوٹ گیا اور اس پتھریلے راستے پر پاوں زخمی ہونا شروع ہو گئے ۔

تھكان كے باعث اویس كو بخار ہو گیا اور ٹوٹے جوتے کے ساتھ چلنا مشکل ہو گیا ۔ ایجنٹ نے اویس كو بروفن كی گولی دی جس سے بخار میں بہتری آئی لیكن مسلسل چلتے رہنے سے جسم میں طاقت ختم ہونے لگ گئی تھی۔ كچھ دور جا كر راستے میں تین چار بیگ پڑے ملے جو كہ ایسا لگ رہا تھا جیسے تلاشی لینے كے بعد پھینكے گئے ہوں ان میں سے نكالے گئے كپڑے بھی بكھرے پڑے تھے۔ بیگ سے كچھ ہی فاصلے پر ایک آدمی كی لاش بھی پڑی ملی جو كہ كچھ دن پرانی تھی۔ جہاں ایجنٹ نے اویس سے كہا كہ اس لاش كا جوتا اتار كر پہن لو لیكن لاش میں سے اتنی بو آ رہی تھی كہ اسكے پاس پہنچ كر ہمت نہیں ہوئی كہ اسكا جوتا اتار سكتا اس لئے اسی ٹوٹے جوتے سے ساتھ چلنے کی کوشش کرتا رہا۔ ٹوٹے ہوئے جوتے كو ایک تار كے ساتھ جوڑ كر پہننے كی كوشش كی لیكن كچھ راستہ چلنے كے بعد جوتا پھر سے ٹوٹ گیا۔ دو كلومیٹر كا سفر كرنے كے بعد راستے میں ایک اور لاش پڑی ملی جو كہ كچھ ماہ پرانی تھی۔ جبكہ اس لاش كے پنجرے پر ایک بڑا پتھر بھی پڑا تھا۔

ہمت كر كے اسكے پاوں سے جوتا اتار كر پہن لیا كیونكہ اب ٹوٹے جوتے كے ساتھ چلنا نا ممكن ہو گیا تھا۔ بخاز كچھ کم ہو گیا لیكن اب چلنے كی ہمت بھی ختم ہو چكی تھی۔ اویس كا كہنا تھا كہ میں نے ایجنٹ سے كہا كہ آپ لوگ آگے چلیں میں آہستہ آہستہ آ جاوں گا لیكن ایجنٹ نے فوری انكار كر دیا كہ اب تھوڑا راستہ ہی باقی ہے۔ قریب ہی ایک پہاڑی كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ اس پہاڑی پر ایرانی سم كے سگنلز آ جائیں گے تو ایجنٹ كو كال كر كے گاڑی منگوا لیں گے اس بات كو سن كر كچھ تسلی ہوئی ۔ اسوقت تک ہمیں چلتے ہوئے دو راتیں اور دو دن گزر چكے تھے۔

پہاڑی پر پہنچ كر ایجنٹ نے ایران میں موجود ایجنٹ كو فون كیا فون كرنے كے ایک گھنٹے كے بعد گاڑی آ گئی جسے ڈیزل كی ترسیل كے لئے استعمال كیا جاتا ہے۔ اس گاڑی میں ایجنٹ ناصر نے ہمیں بٹھایا جبكہ بكریوں كو ایجنٹ مری بلوچ اور اسكا دوسرا ساتھی پیدل ہی لے كرآئے۔ یہاں سے ہمیں بیس منٹ لگے آبادی میں پہنچنے كے لئے جہاں سے ہمیں درگس سری گٹ جگہ پر پہنچایا گیا۔ اسكے بعد ایران سے آگے تركی كا سفر شروع ہوتا ہے۔ (جاری ہے)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے